برطانیہ: افغان نژاد 7 افراد پر ریپ اور جنسی جرائم سمیت 40 الزامات عائد

نورفولک(نورفولک پولیس، برطانوی میڈیا)برطانیہ میں نورفولک پولیس نے مبینہ گروومنگ گینگ سے تعلق کے الزام میں 7 افغان نژاد افراد پر مجموعی طور پر 40 سنگین الزامات عائد کیے ہیں جن میں ریپ، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور دیگر جرائم شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق متاثرین کی عمریں ابتدائی تا درمیانی نوعمری میں تھیں اور مبینہ واقعات اگست 2023 سے مئی 2025 کے درمیان پیش آئے۔

پولیس کے مطابق گرفتاریاں ناروچ اور اسکاٹ لینڈ کے شہر ڈمبرٹن میں چھاپوں کے دوران عمل میں آئیں، ایک 19 سالہ مشتبہ شخص کو آئرلینڈ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ نورفولک پولیس کا کہنا ہے کہ تمام مرکزی ملزمان افغان شہری اور پناہ گزین ہیں جن کی عمریں 20 اور 21 سال کے درمیان ہیں۔

تفصیلات کے مطابق احمدین احمدزئی 20 سال، نورچ کا رہائشی ہے جس پر 9 ریپ، 2 ریپ کی سازش، انسانی اسمگلنگ میں معاونت اور انصاف کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات ہیں۔ وہ 24 جون 2020 کو ٹرک میں چھپ کر برطانیہ داخل ہوا تھا اور اس کی امیگریشن حیثیت پناہ گزین کی ہے۔

جمیل خلیلی 20 سال، ڈمبرٹن اسکاٹ لینڈ کا رہائشی ہے جس پر 7 ریپ، 1 ریپ کی سازش اور انسانی اسمگلنگ میں معاونت کے الزامات ہیں۔ وہ 23 مارچ 2021 کو چھوٹی کشتی کے ذریعے برطانیہ پہنچا اور پناہ گزین ہے۔

فضل اوریاخیل 20 سال، نورچ کا رہائشی ہے جس پر ایک ریپ کا الزام ہے۔ وہ 26 فروری 2022 کو چھوٹی کشتی کے ذریعے برطانیہ داخل ہوا اور پناہ گزین ہے۔

قیس کاکڑ 20 سال، نورچ کا رہائشی ہے جس پر 4 ریپ، 1 ریپ کی سازش اور انسانی اسمگلنگ میں معاونت کے الزامات ہیں۔ وہ 4 ستمبر 2022 کو چھوٹی کشتی کے ذریعے برطانیہ داخل ہوا اور پناہ گزین ہے۔

محمد فاروق شنواری 20 سال، نورچ کا رہائشی ہے جس پر 2 ریپ کے الزامات ہیں۔ وہ 28 مئی 2021 کو چھوٹی کشتی کے ذریعے برطانیہ داخل ہوا اور پناہ گزین ہے۔

علی احمد 21 سال، نورچ کا رہائشی ہے جس پر 1 ریپ اور 3 انسانی اسمگلنگ میں معاونت کے الزامات ہیں۔ وہ 4 مئی 2021 کو پورٹسماؤتھ بندرگاہ کے ذریعے غیر قانونی طور پر داخل ہوا اور پناہ گزین ہے۔

سید وحید داؤدزئی 20 سال، نورچ کا رہائشی ہے جس پر 4 ریپ اور 1 ریپ کی سازش کا الزام ہے۔ وہ 9 اکتوبر 2022 کو چھوٹی کشتی کے ذریعے برطانیہ داخل ہوا اور پناہ گزین ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرین کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور کیس کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں۔