برامپٹن میں طلبہ کی واپسی پر سڑکوں کی حفاظت کیلئے اقدامات مزید تیز

برامپٹن(نمائندہ خصوصی) نئے تعلیمی سال کے آغاز پر طلبہ کی اسکول واپسی کے موقع پر برامپٹن میں سڑکوں کی حفاظت بہتر بنانے کیلئے مختلف اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں اسکول زونز کی بہتری، ٹریفک کی رفتار کم کرنے کے انتظامات، نگرانی کی جدید ٹیکنالوجی اور پیدل چلنے والوں کی حفاظت شامل ہیں۔

سٹی آف برامپٹن کے مطابق ’’وژن زیرو‘‘ حکمت عملی کے تحت خطرناک ڈرائیونگ رویوں میں کمی اور تمام شہریوں کیلئے سڑکوں کو محفوظ بنانے کیلئے بنیادی ڈھانچے، ٹریفک کی رفتار کم کرنے، جدید ٹیکنالوجی اور عوامی آگاہی میں سرمایہ کاری جاری ہے۔

شہر اسکول بسوں کے قریب طلبہ کی حفاظت کیلئے خودکار کیمروں کے استعمال کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔ یہ کیمرے اس وقت گاڑیوں کی تصاویر اور نمبر پلیٹ ریکارڈ کرسکتے ہیں جب اسکول بس کا روکنے والا بازو باہر نکلا ہو اور سرخ بتیاں روشن ہوں، جس کے بعد خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔

جن سڑکوں پر درمیان میں مستقل حفاظتی رکاوٹ موجود نہیں وہاں دونوں سمتوں سے آنے والی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کیلئے اسکول بس کے رکنے پر گاڑی روکنا لازم ہے۔ بس کے پیچھے آنے والی گاڑی کو کم از کم 20 میٹر کے فاصلے پر رکنا ہوگا، جبکہ مخالف سمت سے آنے والے ڈرائیور کو بھی اتنے فاصلے پر رکنا ہوگا کہ طلبہ محفوظ طریقے سے بس میں سوار یا اتر سکیں اور سڑک عبور کرسکیں۔

اسکول بس کی سرخ بتیاں روشن ہونے کے دوران رکنے میں ناکامی پر پہلی خلاف ورزی کی صورت میں 400 سے 2 ہزار ڈالر جرمانہ اور چھ منفی پوائنٹس عائد ہوسکتے ہیں، جبکہ پانچ سال کے اندر دوسری خلاف ورزی پر ایک ہزار سے 4 ہزار ڈالر جرمانہ، چھ منفی پوائنٹس اور چھ ماہ تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

صوبائی قانون سازی کے تقاضوں کے مطابق برامپٹن میں 141 مقامات پر اسکول زون کے نئے اور نمایاں سائن بورڈز نصب کیے جارہے ہیں۔ اسکول زون کے سائن عموماً اسکول کی حدود سے تقریباً 150 میٹر پہلے جبکہ ’’اسکول زون آگے ہے‘‘ کے انتباہی سائن تقریباً 150 سے 200 میٹر پہلے نصب کیے جائیں گے۔ بعض مقامات پر چمکتی ہوئی بتیاں بھی لگائی جائیں گی۔

شہر کے مطابق برامپٹن میں 200 اسکول کراسنگ مقامات پر 254 کراسنگ گارڈز تعینات ہیں، جبکہ 210 کمیونٹی سیفٹی زونز قائم کیے گئے ہیں جہاں تیز رفتاری کی خلاف ورزیوں پر زیادہ جرمانے اور اضافی حفاظتی اقدامات موجود ہیں۔

رہائشی علاقوں میں 150 سے زائد سڑکوں پر رفتار کم کرنے کیلئے اسپیڈ کشن نصب کیے گئے ہیں، جبکہ پیدل چلنے والوں کی سہولت کیلئے 116 قابلِ رسائی پیدل سگنلز اور 42 پیدل کراسنگ مقامات موجود ہیں۔ مقامی سڑکوں پر رفتار کم کرنے اور حفاظت بہتر بنانے کیلئے 15 نیبرہڈ اسپیڈ سیفٹی زونز بھی قائم کیے گئے ہیں۔

برامپٹن میں سرخ بتی کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کیلئے خودکار کیمروں کی تعداد بھی بڑھائی جارہی ہے۔ پیل ریجن کے زیرانتظام اس وقت شہر میں 15 سرخ بتی کیمرے موجود ہیں جبکہ سٹی آف برامپٹن مزید 20 کیمرے مرحلہ وار نصب کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جس کے بعد 2028 تک تعداد 35 تک پہنچ جائے گی۔ پہلے مرحلے کے کیمروں کی تنصیب 2026 میں شروع ہوگی اور ان کے 2027 میں فعال ہونے کی توقع ہے۔

شہر نے 50 چوراہوں پر 360 درجے کیمروں اور خودکار نمبر پلیٹ شناخت کی ٹیکنالوجی پر مشتمل نگرانی کا نظام بھی مکمل کرلیا ہے۔ یہ کیمرے جرمانے یا منفی پوائنٹس جاری نہیں کرتے بلکہ پیل ریجنل پولیس کو تحقیقات کیلئے معلومات اور ویڈیو فراہم کرتے ہیں۔ سٹی کے مطابق یہ نظام اب تک 200 سے زائد تحقیقات میں معاونت کرچکا ہے۔

برامپٹن نے 2026 میں پارکنگ کے نفاذ کیلئے خودکار نمبر پلیٹ شناخت کی ٹیکنالوجی سے لیس 7 گاڑیاں بھی میدان میں اتاری ہیں۔ یہ گاڑیاں اسکول زونز میں بھی تعینات کی جارہی ہیں تاکہ طلبہ، پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کیلئے خطرہ بننے والی پارکنگ کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کی جاسکے۔

شہر میں برقی اسکوٹر اور برقی سائیکل استعمال کرنے والوں کیلئے بھی حفاظتی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ برقی اسکوٹر چلانے والے کی عمر کم از کم 16 سال ہونا ضروری ہے، جبکہ 18 سال سے کم عمر افراد کیلئے ہیلمٹ پہننا لازمی ہے۔ سواروں کو ٹریفک قوانین، اشاروں اور سائنز کی پابندی، زیادہ سے زیادہ 24 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار، مخصوص سڑکوں یا راستوں کا استعمال اور دورانِ سفر توجہ برقرار رکھنا ہوگی۔ برامپٹن میں فٹ پاتھ پر برقی اسکوٹر چلانے کی اجازت نہیں۔

سٹی آف برامپٹن کو صوبائی روڈ سیفٹی انیشی ایٹو فنڈ سے 69 لاکھ ڈالر موصول ہوئے ہیں جبکہ مزید 2 کروڑ 79 لاکھ ڈالر تک کی اضافی رقم کیلئے درخواست دی گئی ہے۔ شہر کے مطابق یہ رقم ٹریفک کی رفتار کم کرنے کے اقدامات، بہتر سائن بورڈز اور پیدل چلنے والوں کی حفاظت کے بنیادی ڈھانچے پر خرچ کی جائے گی۔

میئر پیٹرک براؤن نے کہا کہ بچوں کو اسکول آنے جانے کے دوران محفوظ رکھنا شہر کی اہم ترین ذمہ داریوں میں شامل ہے اور برامپٹن خطرناک ڈرائیونگ کی روک تھام اور سڑکوں کو محفوظ بنانے کیلئے ٹریفک کی رفتار کم کرنے، نفاذِ قانون اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری جاری رکھے گا۔

علاقائی کونسلر رووینا سانتوس نے کہا کہ شہریوں کو اپنی کمیونٹیز میں محفوظ رکھنے کیلئے سڑکوں کی حفاظت کو ہر قسم کے سڑک استعمال کرنے والے کی نظر سے دیکھنا ضروری ہے، جبکہ بہتر اسکول زونز، کراسنگ گارڈز اور نئے نفاذی نظام طلبہ، خاندانوں اور کمزور سڑک استعمال کرنے والوں کے تحفظ میں مدد دے رہے ہیں۔

علاقائی کونسلر پال ویسنٹے نے کہا کہ سڑکوں کی حفاظت کا آغاز سڑکوں کی بہتر منصوبہ بندی اور انتظام سے ہوتا ہے اور ٹریفک کی رفتار کم کرنے، پیدل چلنے والوں کے بنیادی ڈھانچے، بہتر سائن بورڈز اور سرخ بتی کے کیمروں میں سرمایہ کاری سے تیز رفتاری اور چوراہوں پر حادثات کے خطرات کم کیے جارہے ہیں۔

علاقائی کونسلر مائیکل پالیسی نے کہا کہ طلبہ کو اسکول لانے لے جانے کیلئے مضبوط حفاظتی اقدامات کے ساتھ ڈرائیوروں کا ذمہ دارانہ رویہ بھی ضروری ہے، اس لیے ڈرائیور رفتار کم کریں، محتاط رہیں اور اسکول بسوں اور کراسنگ گارڈز کے اشارے پر ہمیشہ گاڑی روکیں۔