انسان کو دنیا میں اپنی اولاد سے زیادہ شاید کسی اور سے پیار نہیں ہوتا اور پھر اولاد کی اولاد تو اس سے بھی زیادہ پیاری ہوتی ہے اسی لئے وہ اصل کا سود کہلاتی ہے۔ اس پیاری اولاد کا کسی بھی تکلیف میں مبتلا ہونے کی سوچ ہی دکھ میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں بچوں کا گھر سے باہر نکلنا مشکل ہو چکا ہو اور واپسی کسی سفید کپڑے میں لپٹی لاش کی شکل میں ہو سکتی ہو۔ وہاں بچوں کی حفاظت کے لئے ہر وقت مستعد رہنا پڑتا ہے اور خصوصاً ایک ایسے معاشرے میں جہاں انسانی درندے معصوم بچوں کی تاک میں بیٹھے ہوں۔
ان درندوں کو ”چھوٹی عدالتیں، درمیانہ عدالتیں، بڑی عدالتیں یا آئینی عدالتیں“سزا نہیں دے پا رہیں۔ لیکن ”مظلوم خاندان“خوش ہے کہ ”سی سی ڈی“ان کے ”بچے یا بچی“ پر ظلم کرنے والے کو”ہاف فرائی، فل فرائی“کر رہی ہے یا پھر ظالم کے ”نیفے میں پستول“چل جاتا ہے اور ظالم اپنے انجام کو پہنچا دیا جاتا ہے، لیکن اب اقوام متحدہ نے پاکستان کے کروڑوں بچوں کے حوالے سے جو بری خبر سنائی ہے اس نے دل دہلا دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پاکستان کے تین کروڑ 40 لاکھ بچوں کی زندگی اور صحت خطرے میں ہے۔
ان بچوں کو یہ خطرہ شدید گرمی، ہیٹ ویوز، سیلابی خطرات (یعنی اچانک آنے والے سیلابی ریلوں) سے ہے۔ خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے دریاں، ندی، برساتی نالوں کے قریب بسنے والے بچے سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ یہ خطرہ بچوں کو اپنے ہی ”بزرگوں“کے کرتوتوں کی وجہ سے بھی ہے۔ جنہوں نے ان علاقوں کے پہاڑوں سے درخت کاٹ کر بیچ دیے اور ”پہاڑ ننگے“کر دئیے چنانچہ اب جب ”کلاؤ ڈ برسٹ“ ہوتا اور”دھواں دھار بارش“ہوتی ہے تو پہاڑوں پر درخت نہ ہونے سے پانی کا منہ زور ریلا ان کے گھروں کو روندتا نیچے زمینی علاقے میں تباہی پھیلانے چلا جاتا ہے۔
درختوں کی غیر قانونی کٹائی کا سب سے زیادہ نقصان بچوں کو ہی ہوتا ہے جو اپنی جان بچانے کے لئے بھاگ دوڑ بھی نہیں کر پاتے۔ یہ بچے موسمیاتی تبدیلی سے زیادہ درختوں کے کاٹے جانے کی وجہ سے تباہی پھیلاتے پانی کا شکار ہوتے ہیں۔ میدانی اور صحرائی علاقوں کے بچوں کو شدید درجہ حرارت، ہیٹ ویوز سے درپیش خطرہ چیلنج بنتا جا رہا ہے۔والدین کے لئے اپنے بچوں کو شدید گرمی میں محفوظ رکھنا اور پانی کی کمی سے بچا ؤ اور دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہو چکا ہے لیکن غربت کا شکار والدین جو بچوں کو دو وقت کی روٹی مہیا کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ وہ بچوں کو صاف اور وافر پانی کہاں سے لا کر پلائیں کہ آج پاکستان کی 80فیصد آبادی کو صاف پانی میسر نہیں ہے۔لہٰذا بچوں کو بھی کھارا اور آلودہ پانی ہی پلایا جائے گا۔
اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کے مطابق صرف پاکستان کے تین کروڑ 40لاکھ بچے نہیں بلکہ جنوبی ایشیا (پاکستان بھارت و دیگر ممالک)اور افریقی ملک نائیجیریا کے29 کروڑ 60لاکھ بچے موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ بچے شدید گرمی(ہیٹ ویوز)کلا ؤ ڈ برسٹ اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں کی وجہ سے خطرے میں ہیں۔ عالمی بینک ہی کی ایک اور رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی سے سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے علاقوں کو شدید خطرہ ہے۔
پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک میں شامل ہے۔ ورلڈ بنک کی رپورٹ کے مطابق سندھ جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں درجہ حرارت میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس سے آنے والے برسوں میں ان علاقوں میں 35سے 40 سینٹی گریڈ درجہ حرارت والے دنوں کی تعداد میں ”نمایاں اضافہ“ہو جائے گا، جس کی وجہ سے ان علاقوں کے رہائشیوں کی زندگی مشکل ہوتی جائے گی۔اقوام متحدہ اور ورلڈ بینک نے تو پاکستان کے آنے والے دنوں کی پیشنگوئی کی ہے لیکن پاکستان میں ابھی سے یہ حالات ہو چکے ہیں کہ وہ درجہ حرارت جو آپ کا تھرما میٹر دکھا رہا ہے اور درجہ حرارت جو آپ کے جسم کو محسوس ہو رہا ہے اس میں زمین اسمان کا فرق آ چکا ہے۔
گزشتہ ہفتے بہاول نگر میں درجہ حرارت 42 سنٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا لیکن جو انسانی جسم کو محسوس ہو رہا تھا وہ 56.7 سینٹی گریڈ تھا۔سبی میں درجہ حرارت 42 تھا لیکن انسانی جسم کو محسوس ہونے والا درجہ حرارت 68سنٹی گریڈ تھا۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں 41سینٹی گریڈ تھا، مگر 55.8 محسوس ہو رہا تھا۔ دادو میں 43 سنٹی گریڈ 55.8 سینٹی گریڈ محسوس ہو رہا تھا۔ لاہور جہاں درجہ حرارت 35.5 تھا انسانی جسم کے لئے وہ درجہ حرارت 43 سینٹی گریڈ تھا۔ شیخوپورہ میں جہاں درجہ حرارت 37تھا وہ انسانی جسم کے لئے 51سینٹی گریڈ تھا۔
درجہ حرارت میں اضافے سے زیادہ جس طرح سے گرمی لوگوں کو محسوس ہو رہی ہے اس نے بچوں تو کیا بڑوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔آج حکومتیں اور ڈاکٹر صبح 10 بجے سے سہ پہر چار بجے تک گھر سے باہر نکلنے سے منع کر رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ گھر سے باہر مت نکلیں اور اگر باہر جائیں تو سر پر چھتری رکھیں، تولیہ رکھیں یا ہیٹ پہنیں۔ کالے رنگ کے کپڑوں سے گریز کریں، کیونکہ ان کی وجہ سے جسم کے اندر گرمی زیادہ جذب ہوتی ہے۔ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں۔
پانی کی مقدار بڑھا دیں چھ سے آٹھ گلاس یا 10 گلاس پانی اتنی گرمی میں ناکافی ہیں کیونکہ پسینے کی صورت میں بہت زیادہ پانی جسم سے نکل جاتا ہے اور اگر خدانخواستہ جسمانی ٹمپریچر 40ڈگری سے اوپر چلا جائے تو پھر سٹروک کا خطرہ ہوتا ہے۔یہ وہ سب حالات ہیں جو ہمارے اپنے پیدا کردہ ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ بیشک دنیا کے امیر ملکوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، لیکن بہت سا قصور ہمارا بھی ہے۔ آج پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں صرف 4.5 فیصد رقبے پر جنگلات موجود ہیں جو انتہائی ناکافی ہیں۔
کسی بھی ملک کے کم از کم 25فیصد رقبے پر جنگلات لازمی ہونا چاہئیں،مگر ہم نے پیسہ کمانے کیلئے درختوں کا قتل عام کیا جو آج بھی جاری ہے۔اگر ہم نے جنگل نہ کاٹے ہوتے،درخت نہ کاٹے ہوتے تو ہمارا یہ موسم کہیں بہتر ہوتا ہے قیدی نمبر 804نے ٹھیک کہا تھا ”ون بلین ٹری سونامی“اس ملک کے لئے اشد ضروری ہے،مگر ہماری حکومتیں صرف کروڑ دو کروڑ درختوں کی شجر کاری کو بڑا کارنامہ سمجھ کر اس سے خوش ہو جاتی ہیں۔

