سکڑتے کھیت، پھیلتے شہر اور مستقبل خطرے میں

پاکستان ایک ایسی خطرناک صورتِ حال سے دوچار ہے جس کے سنگین نتائج آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑیں گے۔ ایک طرف ملک کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف وہ زرخیز زمین، جو اس آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرتی ہے، رہائشی کالونیوں، تجارتی مراکز اور سڑکوں کی نذر ہو رہی ہے۔ ہم آج کھیتوں کی جگہ مکانات تعمیر کر رہے ہیں، لیکن یہ سوچنے کو تیار نہیں کہ کل ان مکانات میں بسنے والوں کیلئے خوراک کہاں سے آئے گی۔ یہ محض شہری منصوبہ بندی کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے معاشی مستقبل، غذائی تحفظ اور آنے والی نسلوں کی بقا کا سوال ہے۔

پاکستان کو درپیش سنگین مسائل میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی سرفہرست ہے۔ 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی تقریباً 24 کروڑ 15 لاکھ تھی، جبکہ 2017ء سے 2023ء کے دوران آبادی میں سالانہ اضافے کی اوسط شرح 2.55 فیصد رہی۔ عالمی بینک کے 2025ء کے تخمینے کے مطابق آبادی 25 کروڑ 52 لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی۔ اس تیز رفتار اضافے کے مقابلے میں تعلیم، صحت، روزگار، رہائش، پانی اور خوراک کی سہولتیں ناکافی ہیں۔ اسکولوں میں طلبہ اور ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، جبکہ ہر سال لاکھوں نوجوان روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں، لیکن معیشت ان کے لیے مناسب ملازمتیں پیدا نہیں کر پاتی۔ نتیجتاً غربت، بے روزگاری اور سماجی بے چینی جیسے مسائل مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔

ان مسائل کے ساتھ ایک اور سنگین خطرہ بڑھ رہا ہے جسے قومی ترجیحات میں مطلوبہ اہمیت نہیں دی جا رہی۔ یہ خطرہ زرخیز زرعی زمین کو مسلسل رہائشی اور تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کا ہے۔ پاکستان کے اقتصادی سروے 2025-26ء کے مطابق زراعت کا مجموعی ملکی پیداوار میں حصہ تقریباً 23.44 فیصد تھا۔ یہ شعبہ کروڑوں افراد کے روزگار، ملکی صنعتوں کے خام مال اور عوام کی غذائی ضروریات کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اس کے باوجود قابلِ کاشت زمین کو تیزی سے ہاؤسنگ کالونیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے، گویا ایک مستقل قومی اثاثے کو عارضی تجارتی منافع پر قربان کیا جا رہا ہو۔

لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ، پشاور اور دیگر بڑے شہروں کے گرد کبھی لہلہاتے کھیت، باغات اور سرسبز دیہات دکھائی دیتے تھے۔ یہی علاقے شہروں کو گندم، سبزیاں، پھل اور دودھ فراہم کرتے تھے۔ آج ان میں سے بہت سے مقامات پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے وسیع و عریض دروازے، پلاٹوں کی حد بندیاں، پختہ سڑکیں اور تجارتی مراکز نظر آتے ہیں۔ لاہور میں شہری پھیلاؤ سے متعلق 2021ء کی ایک تحقیق کے مطابق زیرِ مطالعہ علاقے میں تعمیر شدہ رقبے کا تناسب 2000ء میں تقریباً 23 فیصد سے بڑھ کر 2020ء میں 47 فیصد سے زیادہ ہو گیا۔ محض دو دہائیوں میں یہ تبدیلی زرعی زمین اور قدرتی ماحول پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔

بلاشبہ بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے مکانات، سڑکیں اور دیگر سہولتیں تعمیر کرنا ضروری ہے۔ شہروں کی توسیع کو مکمل طور پر روکنا نہ ممکن ہے اور نہ ہی مناسب۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ توسیع کہاں، کیسے اور کن اصولوں کے تحت ہونی چاہیے۔ کیا ہر نئی ہاؤسنگ کالونی کے لیے زرخیز کھیتوں کو ختم کرنا ناگزیر ہے؟ کیا بنجر یا کم زرخیز زمین استعمال نہیں کی جا سکتی؟ کیا بہتر شہری منصوبہ بندی اور کثیر المنزلہ عمارتوں کے ذریعے کم زمین پر زیادہ لوگوں کو رہائش فراہم نہیں کی جا سکتی؟ ترقی کا مطلب صرف شہر پھیلانا نہیں بلکہ دستیاب وسائل کا دانش مندانہ استعمال بھی ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں ہاؤسنگ کا کاروبار کئی مقامات پر عوام کی رہائشی ضروریات پوری کرنے کے بجائے غیر معمولی منافع کمانے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ زمین کی خرید و فروخت میں بااثر سرمایہ کاروں، مفاداتی گروہوں اور بعض سیاسی و انتظامی عناصر کے ممکنہ گٹھ جوڑ کے بارے میں سنگین خدشات پائے جاتے ہیں۔ زرعی زمین نسبتاً کم قیمت پر خرید کر رہائشی یا تجارتی پلاٹوں میں تبدیل کی جاتی ہے اور پھر کئی گنا زیادہ قیمت پر فروخت ہوتی ہے۔ اس عمل میں زمین کی زرعی اہمیت، ماحولیاتی اثرات اور مستقبل کی غذائی ضروریات اکثر نظرانداز کر دی جاتی ہیں۔

اس کاروبار کا ایک انتہائی تشویش ناک پہلو پلاٹوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اور مؤثر نگرانی کا فقدان ہے۔ بعض ہاؤسنگ منصوبوں میں ایک کنال پلاٹ کی قیمت چار کروڑ روپے سے بڑھ کر کچھ ہی عرصے میں ساڑھے آٹھ سے نو کروڑ روپے تک طلب کیے جانے کی مثالیں بھی سامنے آتی ہیں۔ قرعہ اندازی، ادائیگی کے مختلف طریقوں، محلِ وقوع اور ترقیاتی مراحل کے باعث قیمتوں میں فرق اپنی جگہ، لیکن سوال یہ ہے کہ اتنے مختصر عرصے میں اس اضافے کی حقیقی معاشی بنیاد کیا ہے؟ کیا یہ طلب و رسد کے فطری اصولوں کا نتیجہ ہے یا بعض صورتوں میں مصنوعی قلت، سٹے بازی اور منظم مفادات بھی کردار ادا کرتے ہیں؟ اور کیا اس کاروبار میں شفافیت اور مؤثر نگرانی کا کوئی قابلِ اعتماد نظام موجود ہے؟

آزاد منڈی میں زمین کی قیمتوں کا تعین طلب و رسد سے ہونا فطری ہے۔ بہتر محلِ وقوع، ترقیاتی سہولتیں اور حقیقی رہائشی طلب قیمتوں پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ لیکن جہاں مصنوعی قلت، افواہوں، فرضی فائلوں اور غیر شفاف لین دین کے ذریعے قیمتیں بڑھائی جائیں، وہاں منڈی طاقتور مفادات کے زیرِ اثر آ جاتی ہے۔ ایسے خدشات غیر جانب دارانہ تحقیقات کا تقاضا کرتے ہیں۔ کسی مخصوص منصوبے میں ملی بھگت ثابت کرنا الگ معاملہ ہے، لیکن مجموعی نظام میں شفافیت اور خریداروں کے تحفظ کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

اس صورتِ حال کا سب سے زیادہ خمیازہ عام شہری کو بھگتنا پڑتا ہے۔ سرمایہ کار اور پراپرٹی ڈیلر قیمتوں میں اضافے سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جبکہ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے گھر بنانے کا خواہش مند شہری مسلسل مہنگی ہوتی زمین کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے۔ نہ وہ قیمتوں کے تعین میں شریک ہوتا ہے اور نہ ہی اسے کسی شفاف نظام کے ذریعے یہ یقین دہانی ملتی ہے کہ طلب کردہ قیمت زمین کی حقیقی قدر کے مطابق ہے۔ اس کے سامنے اکثر صرف دو راستے رہ جاتے ہیں: بھاری قیمت ادا کرے یا اپنا گھر بنانے کا خواب ترک کر دے۔ یوں رہائش، جو بنیادی انسانی ضرورت ہے، محض سرمایہ کاری اور منافع کمانے کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔

معاملہ صرف قیمتوں تک محدود نہیں۔ بعض ہاؤسنگ منصوبوں میں زمین کی ملکیت، سرکاری منظوری، ترقیاتی اخراجات اور پلاٹوں کی حقیقی دستیابی کے بارے میں خریداروں کو مکمل معلومات فراہم نہیں کی جاتیں۔ بعض اوقات ایسی فائلیں فروخت ہوتی ہیں جن کے پیچھے واضح ملکیت یا ضروری قانونی منظوری موجود نہیں ہوتی۔ اس غیر شفاف کاروبار میں عام شہری اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی داؤ پر لگا دیتا ہے، جبکہ ذمہ دار عناصر قانونی اور انتظامی خامیوں سے فائدہ اٹھا کر احتساب سے بچ نکلتے ہیں۔

یہاں ریاستی اور انتظامی جواب دہی کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ زرعی زمین کو رہائشی یا تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت کون دیتا ہے؟ زمین کی حیثیت تبدیل کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ نئی ہاؤسنگ اسکیموں کی منظوری سے پہلے ان کے زرعی، ماحولیاتی اور معاشی اثرات کا جائزہ کون لیتا ہے؟ اور اگر کسی منظوری کے نتیجے میں قیمتی زرعی زمین ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے تو اس نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا؟ جب تک ان سوالات کے واضح جواب اور مؤثر احتساب کا نظام موجود نہیں ہوگا، زرعی زمین کے تحفظ کے دعوے محض اعلانات تک محدود رہیں گے۔

ہاؤسنگ کالونیوں کے بے ہنگم پھیلاؤ سے صرف زرعی زمین ہی متاثر نہیں ہوتی بلکہ زیرِ زمین پانی کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھتا ہے۔ نئی آبادیوں کے لیے ٹیوب ویلوں کے ذریعے پانی نکالا جاتا ہے، جبکہ کھیتوں کی جگہ پختہ سڑکیں اور عمارتیں تعمیر ہونے سے بارش کے پانی کا زمین میں جذب ہونا محدود ہو جاتا ہے۔ اس سے زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی، نکاسیِ آب کے مسائل اور شہری سیلاب کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ یوں غیر منصوبہ بند شہری توسیع غذائی تحفظ کے ساتھ پانی اور ماحولیات کے مسائل کو بھی سنگین بنا رہی ہے۔

زرعی زمین محض مٹی کا ٹکڑا نہیں بلکہ خوراک پیدا کرنے کا ایک قدرتی نظام ہے۔ اس کی پیداواری صلاحیت مٹی کی زرخیزی، پانی، موسم اور کاشت کاروں کی نسل در نسل محنت سے تشکیل پاتی ہے۔ ایک بار اس پر سڑکیں اور عمارتیں تعمیر ہو جائیں تو اسے دوبارہ قابلِ کاشت بنانا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔ ہاؤسنگ منصوبے کا منافع وقتی ہو سکتا ہے، لیکن زرعی زمین کا نقصان کئی نسلوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔

پاکستان پہلے ہی پانی کی قلت، موسمیاتی تبدیلی، سیلاب، خشک سالی اور بڑھتی ہوئی زرعی پیداواری لاگت جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ آبادی میں اضافے کے ساتھ گندم، چاول، سبزیوں، پھلوں، گوشت اور دودھ کی طلب بھی بڑھے گی۔ اگر دوسری طرف زرخیز زمین مسلسل کم ہوتی رہی اور زرعی پیداوار میں مطلوبہ اضافہ نہ ہو سکا تو خوراک کی درآمدات پر انحصار بڑھ سکتا ہے۔ محدود زرمبادلہ رکھنے والی معیشت کے لیے یہ صورتِ حال مزید مشکلات پیدا کرے گی، جبکہ غذائی مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ کم اور متوسط آمدن والے طبقوں کو برداشت کرنا پڑے گا۔

اس مسئلے کی سنگینی حکومتی سطح پر بھی تسلیم کی جا چکی ہے۔ جولائی 2025ء میں وفاقی وزارتِ منصوبہ بندی کے زیرِ اہتمام ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں زرعی زمین کو ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں تبدیل کرنے کے عمل اور اس سے متعلق قانونی و انتظامی مسائل پر غور کیا گیا۔ تاہم اصل اہمیت اجلاسوں اور اعلانات کی نہیں بلکہ ایسے واضح قوانین، قابلِ عمل پالیسیوں اور مؤثر نگرانی کی ہے جو قیمتی زرعی زمین کے غیر ضروری خاتمے کو روک سکیں۔ سوال یہ ہے کہ حکومتیں اس مسئلے کو محض تشویش کی حد تک رکھیں گی یا عملی اقدامات بھی کریں گی؟

اس بحران سے نمٹنے کے لیے سب سے پہلے زمین کے استعمال کی جامع اور طویل المدت منصوبہ بندی ضروری ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر، ڈیجیٹل زمینی ریکارڈ اور زرعی ماہرین کی مدد سے انتہائی زرخیز زمین کی نشاندہی کر کے اسے قانونی تحفظ دیا جائے۔ رہائشی اور تجارتی مقاصد کے لیے اس کے استعمال پر سخت شرائط عائد کی جائیں۔ شہروں کی توسیع کے لیے بنجر، کم زرخیز یا پہلے سے غیر زرعی زمین کو ترجیح دی جائے، بشرطیکہ وہاں پانی، آمدورفت اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی ممکن ہو۔ ہر بڑے شہر کا ماسٹر پلان آبادی، ٹرانسپورٹ، پانی، ماحولیات اور مستقبل کی غذائی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تیار کیا جائے۔

دوسرا اہم قدم بے ہنگم افقی پھیلاؤ کے بجائے منصوبہ بند عمودی تعمیرات کو فروغ دینا ہے۔ دنیا کے بہت سے بڑے شہروں میں اپارٹمنٹس اور کثیر المنزلہ عمارتوں کے ذریعے محدود زمین پر زیادہ لوگوں کو رہائش فراہم کی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی ایسی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جو کم اور متوسط آمدن والے خاندانوں کو مناسب قیمت پر رہائش فراہم کرے۔ تاہم عمودی تعمیرات کے ساتھ پانی، بجلی، نکاسیِ آب، ٹرانسپورٹ، تعلیمی اداروں اور دیگر بنیادی سہولتوں کا انتظام بھی ناگزیر ہے۔

تیسرا اور نہایت اہم قدم زمین کی قیمتوں اور ہاؤسنگ کے کاروبار میں شفافیت اور جواب دہی کا مؤثر نظام قائم کرنا ہے۔ ہر ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین کی ملکیت، سرکاری منظوری، پلاٹوں کی دستیابی، ترقیاتی مراحل اور اخراجات کا ریکارڈ عوام کو آن لائن دستیاب ہونا چاہیے۔ خرید و فروخت کا ڈیجیٹل ریکارڈ، اصل خریدار اور فروخت کنندہ کی شناخت اور لین دین کی حقیقی قیمت کا اندراج لازمی قرار دیا جائے۔ مصنوعی قلت، فرضی فائلوں، دھوکا دہی، غیر قانونی اسکیموں اور قیمتوں میں مشتبہ اضافے کی تحقیقات کے لیے آزادانہ نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پراپرٹی ڈیلروں، سرمایہ کاروں، سرکاری اہلکاروں اور سیاسی شخصیات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہو۔ مقصد جائز منافع یا آزاد منڈی کو روکنا نہیں بلکہ دھوکا دہی اور غیر شفاف کاروبار کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

چوتھا قدم نئی ہاؤسنگ اسکیموں کی منظوری کو پانی کی دستیابی اور ماحولیاتی جائزے سے مشروط کرنا ہے۔ ہر بڑے منصوبے میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، زیرِ زمین ذخائر کی بحالی، نکاسیِ آب اور سبز مقامات کا مناسب انتظام لازمی ہو۔ ایسی آبادیوں کی حوصلہ شکنی کی جائے جو پہلے ہی پانی کی قلت کا شکار علاقوں پر مزید بوجھ ڈالیں۔ غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف کارروائی کے ساتھ منظوری دینے والے اداروں کی جواب دہی بھی یقینی بنائی جائے۔

ان اقدامات کے ساتھ آبادی میں اضافے کی رفتار کو متوازن کرنا بھی ضروری ہے۔ تعلیم، بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے، معاشی مواقع کی فراہمی اور رضاکارانہ خاندانی منصوبہ بندی کی سہولتوں تک رسائی کو قومی ترجیح بنایا جائے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں قابلِ اعتماد اعداد و شمار اور واضح اہداف پر مبنی طویل المدت آبادی پالیسی تشکیل دیں۔ آبادی، رہائش، زراعت اور پانی کے مسائل ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ ایک ہی قومی چیلنج کے مختلف پہلو ہیں۔

پاکستان کو آج یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ترقی کا معیار صرف نئی سڑکیں، بلند عمارتیں، وسیع ہاؤسنگ کالونیاں اور مہنگے پلاٹ ہوں گے یا ایسی پائیدار ترقی جس میں رہائش کے ساتھ خوراک، پانی، ماحولیات اور آنے والی نسلوں کی ضروریات کا تحفظ بھی ہو۔ زرعی زمین صرف کسانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کی معاشی خودمختاری اور غذائی سلامتی کا سوال ہے۔ چند افراد اور مفاداتی گروہوں کے عارضی منافع کے لیے ایک ایسا قومی اثاثہ قربان نہیں کیا جا سکتا جس کا متبادل پیدا کرنا انتہائی دشوار ہے۔

اگر آج ہم نے زرخیز زمین کو بچانے کے بجائے اسے پلاٹوں میں تقسیم کرنے ہی کو ترقی سمجھا، تو آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال ضرور کریں گی کہ آپ نے ہمارے لیے بلند عمارتیں تو تعمیر کر دیں، مگر وہ کھیت کہاں چھوڑے جن سے ہماری خوراک پیدا ہونی تھی؟