سیاست نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت میری پہچان ہے: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

ٹورنٹو (اشرف خان لودھی سے)پاکستان ہندو کونسل کے سرپرستِ اعلیٰ اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی ناکامی کے بارے میں نہیں سوچا، جس راستے پر وہ گامزن ہیں اس پر انہیں خدا پر مکمل بھروسہ ہے اور یہی یقین انہیں آگے بڑھنے کی طاقت دیتا ہے۔

ٹورنٹو میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے کہا کہ جس فلاحی منصوبے کا آغاز کیا گیا تھا وہ توقعات سے کہیں زیادہ کامیابی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کا تقریباً 80 فیصد حصہ مکمل ہو چکا ہے جبکہ باقی 20 فیصد بھی تیزی سے مکمل ہو جائیگااور یہ کارواں مزید آگے بڑھے گا۔

انہوں نے کہا کہ تین برس قبل جن لوگوں کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ وہ اس مشن کا حصہ بنیں گے، آج وہ خود رابطہ کر کے اس نیک کام میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیک نیتی سے شروع ہونے والے منصوبوں میں خدا کی مدد شامل ہو جاتی ہے اور پھر راستے خود بخود کھلتے چلے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے کہا کہ ان پر کبھی مالی بدعنوانی کا الزام نہیں لگا اور ان کا یقین ہے کہ رزق اور کامیابی خدا کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے وسائل کو خدا کی امانت سمجھتے ہیں اور اسی سوچ کے تحت فلاحی منصوبوں پر خرچ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر انسان اپنی آمدنی کا ایک حصہ خدا کی راہ میں خرچ کرے تو اسے نقصان نہیں ہوتا بلکہ برکت میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے حاضرین کو تلقین کی کہ وہ اپنی آمدنی کا کچھ حصہ انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کریں اور اس کے نتائج خود دیکھیں۔

اپنی سیاسی اور سماجی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے کہا کہ انہوں نے 1999 میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں سیاسی سفر کا آغاز کیا، تاہم ان کی اصل شناخت سیاست نہیں بلکہ سماجی خدمت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 1997 میں تھرپارکر میں ایک لنگر خانہ قائم کیا گیا جہاں آج بھی روزانہ ہزاروں افراد بلا امتیاز مذہب و عقیدہ کھانا کھاتے ہیں۔

انہوں نے اپنی کامیابیوں کا سہرا والدین کی دعاؤں کو دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تقریباً تیس برس سے ان کی زندگی کا محور خدمتِ خلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ وابستگی رہی لیکن انہوں نے ہمیشہ اپنی سماجی شناخت کو سیاست پر ترجیح دی۔

ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے کہا کہ 2005 سے پاکستان ہندو کونسل کے پلیٹ فارم سے وسیع پیمانے پر فلاحی سرگرمیاں جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہر سال ایک سو پچیس مستحق جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اب تک تقریباً ایک ہزار آٹھ سو پچاس شادیوں کا انتظام کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیواؤں، یتیموں، معذور افراد اور تعلیم سے محروم بچوں کی مدد ان کی زندگی کا مقصد ہے۔ 2021 میں اپنے بڑے بھائی کے انتقال کے بعد خاندان نے اجتماعی طور پر یتیم بچوں کی کفالت کا فیصلہ کیا اور اب سیکڑوں بچوں کی تعلیم، تربیت اور رہائش کی ذمہ داری اٹھائی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے راشد آباد منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس عظیم فلاحی ادارے کا ماڈل دیکھنے کا موقع ملا تو وہ بے حد متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدا میں صرف سولہ لاکھ روپے سے اس مشن کا آغاز کیا گیا تھا لیکن آج یہ ایک وسیع فلاحی نیٹ ورک بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خدا جب کسی سے کام لینا چاہتا ہے تو اس کے لیے راستے بھی پیدا کر دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ مثبت سوچ اپنائی اور یہی سوچ کامیابی کا سبب بنی۔

سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے کہا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کی مجبوری نہیں بلکہ اپنی سوچ اور اصولوں کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ادوار میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ وابستگی رہی لیکن ان کی بنیادی ترجیح ہمیشہ سماجی خدمت رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2018 میں انہیں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کیلئے کہاگیا، تاہم انہوں نے اپنی شرائط کے ساتھ سیاسی فیصلے کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ آزادانہ رائے رکھتے ہیں اور ملکی سیاسی حالات کا گہرا مشاہدہ کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاست کو عبادت اور خدمت ہونا چاہیے، مگر بدقسمتی سے اسے اکثر ایک اداکاری کی شکل دے دی گئی ہے۔ ان کے مطابق ان کا راستہ آج بھی وہی ہے جو والدین، بزرگوں اور مرشدوں نے دکھایا تھا، یعنی انسانیت کی خدمت کا راستہ۔

تقریب کے دوران سینئر صحافی اشرف خان لودھی کے سوال کہ سندھ میں بے شماراین جی اوزکام کررہی ہیں توسندھ گورنمنٹ کاپیسہ کدھرجارہاہے اوربجٹ میں پاس ہونیوالے منصوبوں پرعملدرآمدکیوں نہیں ہوتا کے جواب میں ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے سندھ میں جاری فلاحی منصوبوں اور سرکاری تعاون پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے مختلف منصوبوں کیلئے گرانٹس فراہم کی ہیں جبکہ صدر آصف علی زرداری نے ایک میڈیکل کالج کے قیام کا وعدہ بھی کیا تھا تاہم مالی مشکلات کے باعث یہ منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔

انہوں نے کہا کہ ٹراما اسپتال کے قیام کا وعدہ بھی کیا گیا تھا لیکن وہ بھی تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ اس کے باوجود فلاحی کام جاری ہیں اور انہیں یقین ہے کہ وفاقی حکومت، سندھ حکومت اور بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی مستقبل میں مزید تعاون فراہم کرے گی۔

ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے کہا کہ انسان کو منفی سوچ سے نکل کر مثبت رویہ اپنانا چاہیے۔ جو لوگ آج کسی فلاحی منصوبے کا حصہ نہیں بن رہے، ممکن ہے کل وہی اس مشن میں شامل ہو جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی سوچ ہمیشہ یہی رہی ہے کہ جو ساتھ دے اس کا شکریہ ادا کیا جائے اور جو ابھی شامل نہ ہو سکا ہو اس کے لیے بھی نیک تمنائیں رکھی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ خدمتِ خلق کا سفر کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک اجتماعی مشن ہے اور یہی مشن آنے والے برسوں میں مزید وسعت اختیار کرے گا۔ ان کے بقول اگر نیت خالص ہو اور مقصد انسانیت کی خدمت ہو تو منزل خود بخود قریب آ جاتی ہے۔تقریب میں پاکستان پیپلز پارٹی کینیڈاکے صدراوروزیراعظم آزادکشمیرکے مشیربرائے کینیڈاچودھری جاوید گجر،ناصرشاہ،خالدعلوی، راناافضال نے خصوصی شرکت کی جبکہ نظامت کے فرائض اویس اقبال نے سرانجام دئیے.