میلبورن “کی سرد شام جب ادب کی خوشبو سے معطر ہوئی تو یوں محسوس ہوا جیسے دیارِ غیر میں اردو زبان نے اپنے تمام رنگوں کے ساتھ ایک بار پھر اپنی موجودگی کا اعلان کر دیا ہو۔ “چائے ہو جائے مصدق لاکھانی کے ساتھ” کے عنوان سے منعقد ہونے والی یہ خوب صورت ادبی نشست صرف مشاعرہ نہیں ، اردو شاعری، تہذیب اور فکری روایت کا دل آویز جشن تھی، جس میں اہلِ ذوق کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مہمانِ خصوصی معروف شاعر، مرثیہ نگار اور ادبی شخصیت مصدق لاکھانی تھے، جن کا استقبال حاضرین نے بے حد محبت، احترام اور والہانہ عقیدت کے ساتھ کیا۔ تقریب کا آغاز ہوا تو ایسا محسوس ہوا کہ یہ ملبورن نہیں کراچی، لاہور یا لکھنؤ کی کوئی معتبر ادبی محفل سج گئی ہو۔ دو گھنٹے تک جاری رہنے والے اس مشاعرے میں غزل، نظم، حمد، نعت، مناقب، سلام اور مزاحیہ شاعری سمیت مختلف اصنافِ سخن کے رنگ بکھرتے رہے اور سامعین پوری دل چسپی کے ساتھ ہر شاعر کو سنتے رہے۔

مشاعرے میں ڈاکٹر ظفر اقبال ظفر، جواد رضوی، فائزہ ادریس، شفق جعفری، محمد علی علوی، عندلیب صدیقی، ڈاکٹر الیاس شیخ، عدنان فاروق، احسن سید اور میثم لاکھانی سمیت دیگر شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔ تاہم محفل کا ایک منفرد اور یادگار پہلو یہ بھی تھا کہ باپ اور بیٹے، مصدق لاکھانی اور میثم لاکھانی، دونوں نے اسٹیج پر اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ اردو ادب کی روایت میں ایسی محفلیں ہمیشہ خاص اہمیت رکھتی ہیں جہاں فن نسل در نسل منتقل ہوتا دکھائی دے۔
مصدق لاکھانی رثائی ادب کا معتبر اور شناسا نام ہیں۔ جدید دور میں جب مرثیہ نگاری کی روایت نسبتاً کم زور پڑتی دکھائی دیتی ہے اور اس صنف میں نئے قلم کاروں کی تعداد محدود ہے، ایسے میں مصدق لاکھانی کا نام خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ پاکستان میں جدید مرثیہ نگاری کی روایت کو زندہ رکھنے والوں میں جن چند اہم ناموں کا ذکر کیا جاتا ہے، ان میں پروفیسر سحر انصاری، ڈاکٹر رئیس امروہوی کے بعد کی نسل کے بعض نمائندہ شعرا، افتخار عارف اور دیگر رثائی ادب سے وابستہ تخلیق کار شامل ہیں، تاہم مصدق لاکھانی نے اپنی مستقل مزاجی، فکری سنجیدگی اور فنی ریاضت کے ذریعے اس صنف میں منفرد مقام پیدا کیا ہے۔
چودہ مرثیوں کی تخلیق ان کے ادبی سفر کا ایسا روشن باب ہے جو ان کی فکری وابستگی اور تخلیقی وسعت کا آئینہ دار ہے۔ ان کے مرثیوں میں کربلا صرف تاریخی واقعہ نہیں ایک زندہ شعور، مسلسل اخلاقی استعارہ اور انسانی عظمت کی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ وہ خود کہتے ہیں:
“کربلا، رفعت، بلندی، سرفرازی، برتری
کربلا،جلوہ ،ضیا،سورج،تجلی،روشنی
کربلا، دانش، خرد، عقل و تفکر، آگہی
کربلا دل، خون، دھڑکن، نفس، سانسیں، زندگی
چادرِ احساس میں ملبوس ہوگی کربلا
ہاتھ دل تک لائیے گے، محسوس ہوگی کربلا”
یہ اشعار اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ شاعر کے نزدیک کربلا ایک جذبہ، فکر اور زندہ تہذیبی حوالہ ہے۔
مصدق لاکھانی کا اصل نام محمد مصدق ہے۔ 1954ء میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ جامعہ کراچی سے مائیکرو بایولوجی میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی اور متحدہ عرب امارات کی وزارتِ صحت میں تقریباً تیس برس خدمات انجام دیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد آسٹریلیا منتقل ہوئے، مگر ادب سے ان کا تعلق کبھی منقطع نہیں ہوا۔ آج بھی وہ اردو زبان کی خدمت کو زندگی کی بنیادی ضرورت سمجھتے ہیں۔
ان کی ادبی شخصیت کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے شاعری کی تقریباً تمام اہم اصناف میں طبع آزمائی کی ہے۔ حمد، نعت، مناقب، سلام، نوحہ، مرثیہ، غزل اور نظم؛ ہر میدان میں ان کی تخلیقی صلاحیتوں کے نقوش ملتے ہیں۔ مناقب پر مشتمل ان کی کتاب “نوائے بے نوا” اہلِ ادب میں پذیرائی حاصل کر چکی ہے۔
مصدق لاکھانی کے کلام میں شاعرانہ دیانت، فکری وقار اور جمالیاتی متانت نمایاں طور پر موجود ہے۔ ان کے ہاں جدت کی کاوشیں ضرور دکھائی دیتی ہیں، مگر یہ جدت روایت سے انحراف نہیں کلاسیکی شعری روایت کی گہری تفہیم کے بعد حاصل ہونے والی تخلیقی تازگی ہے۔ ان کے تخلیقی شعور کی بنیاد کلاسیکی ادب کے مطالعے اور اس کے فنی محاسن کے ادراک پر استوار ہے، اسی لیے وہ فنی وسیلوں کو نہایت مہارت سے برتتے ہیں۔
ان کا سماجی شعور بھی خاصا پختہ ہے۔ معاشرتی رویوں اور بدلتی ہوئی اقدار کو وہ نہایت حساسیت کے ساتھ محسوس کرتے ہیں اور ان کا اظہار کرتے ہوئے شعر کی نزاکتوں اور جمالیات کو مجروح نہیں ہونے دیتے۔ ان کے اشعار میں استعارے، علامتیں اور تہہ دار معنویت موجود ہے، جس کیلئے ایک بیدار اور باخبر قاری درکار ہوتا ہے۔
ان کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
“فکر کی جنگ میں افکار لڑا کرتے ہیں
میرے بچوں کو قلم چاہیے، تلوار نہیں”
اور
“کبھی چراغ، کبھی مژدۂ سحر جانا
ہمیشہ ہم نے اندھیروں کو معتبر جانا”
جبکہ لفظوں کے برتاؤ پر ان کی فنی گرفت کا اندازہ اس غزل سے بخوبی ہوتا ہے:
“کیوں میں کہتا ہزار لفظوں میں
جو مکمل ہے چار لفظوں میں
خار لہجہ کے پھر بھی چبھتے ہیں
چاہے بہار رکھ دو لفظوں میں
بات کا پھر وہی بکھر جانا
پھر وہی انتشار لفظوں میں
بات کہنی تھی جو میں کہہ نہ سکا
کھو گیا بے شمار لفظوں میں
اب یہ معنی کہاں سنبھلتے ہیں
اب کہاں اختیار لفظوں میں”
یہ اشعار شاعر کی شناخت ہیں جو لفظ کو اظہار کا ذریعہ نہیں تہذیبی امانت سمجھتا ہے۔
مصدق لاکھانی نے نفسا نفسی کے اس عہد میں تہذیب، وقار اور ادبی سنجیدگی کی روایت کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ ان کی شاعری شور نہیں، شعور پیدا کرتی ہے؛ جذبات کو بھڑکاتی نہیں، فکر کو جلا بخشتی ہے۔ اس لئیے رسائیِ ادب میں ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے اور اہلِ ذوق ان کے کلام کو توجہ اور محبت سے سنتے ہیں۔آج کے مصروف دور میں یہ عالم نفس شائستگی وقار اور ادب کی اقدار کو برقرار رکھےکہتے ہیں۔
نیا سورج نیا جلوہ نئی تنویر لے آؤ
ہمیشہ خواب لائے ہو کبھی تعبیر لے آؤ
زباں بھی بند کر لیتے مگر اب حکم آیا ہے
تصور کے لیے بھی آہنی زنجیر لے آؤ
ہمارا قتل ایسا بھی کوئی مشکل نہیں یاروں
جگر ہاتھوں پہ رکھا ہے تم اپنے تیر لے آؤ
میری گمنامی پر یہ مشورہ ہے اہل دنیا کا
قلم کو بیچ کر بازار سے شمشیر لے آؤ
ملبورن کی اس یادگار شام نے پھر ثابت کر دیا کہ اردو زبان سرحدوں کی محتاج نہیں۔ جہاں اہلِ دل موجود ہوں، وہاں شعر کی شمع روشن رہتی ہے۔ “چائے ہو جائے مصدق لاکھانی کے ساتھ” ادبی نشست ہی نہیں تھی اردو ادب سے محبت کرنے والوں کے لیے خوش گوار تجربہ، تہذیبی جشن اور ایک ایسی یادگار محفل تھی جس کی بازگشت دیر تک سنائی دیتی رہے گی۔

