حکومتوں کا بجٹ محض آمدن اور اخراجات کی تفصیل نہیں ہوتا ، یہ انکی ترجیحات، معاشی سوچ اور عوام کے ساتھ تعلق کا آئینہ دار ہوتا ہے، ہر سال بجٹ پیش ہوتے ہی حکومتی بنچوں سے ترقی، خوشحالی اور عوامی ریلیف کے دعوے سنائی دیتے ہیں جبکہ اپوزیشن اسے مہنگائی، نئے ٹیکسوں اور عوام دشمن پالیسیوں کا مجموعہ قرار دیتی ہے، حقیقت ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کہیں موجود ہوتی ہے اور اس کا فیصلہ بجٹ دستاویزات سے زیادہ عوام کی زندگیوں میں آنے والی تبدیلی کرتی ہے،مالی سال27-2026کے وفاقی اور پنجاب بجٹ کا جائزہ لیا جائے تو بظاہر عام آدمی، سرکاری ملازمین اور کسانوں کیلئے ریلیف دینے کا اعلان کیا گیا ہے مگر تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کو اضافہ کہتے شرم آتی ہے کسانوں کیلئے مختلف سکیموں کا اعلان ہوا ہے اور مختلف منصوبوں کیلئے رقوم مختص کی گئی ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات واقعی عوامی زندگی میں بہتری لا سکیں گے یا یہ ریلیف بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی دباؤ کے سامنے ناکافی ثابت ہوگا؟کسی بھی بجٹ کی کامیابی کا سب سے بڑا پیمانہ عام شہری کی زندگی ہوتی ہے، اگر ایک مزدور، دکاندار، رکشہ ڈرائیور، نجی ملازم یا متوسط طبقے کا فرد بجٹ کے بعد اپنے اخراجات آسانی سے پورے کر سکے تو بجٹ کامیاب سمجھا جاتا ہے،اگر اس کی مشکلات میں اضافہ ہو تو تمام اعداد و شمار بے معنی ہو جاتے ہیں۔بجٹ میں عام آدمی کیلئےکوئی ایسی بڑی اور براہ راست سکیم نظر نہیں آتی جو اس کی روزمرہ زندگی کو نمایاں طور پر تبدیل کر سکے، عوامی ریلیف کے بیشتر اقدامات بالواسطہ نوعیت کے ہیں، حکومت یہ توقع کر رہی ہے کہ اگر معیشت مستحکم ہوگی تو اس کے فوائد خود بخود عوام تک پہنچ جائیں گے لیکن پاکستان کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ معاشی اشاریوں کی بہتری اور عوامی خوشحالی ہمیشہ ایک ساتھ نہیں چلتے۔
ہمارا ایک اور اہم مسئلہ بے روزگاری کا ہے، پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب بہت زیادہ ہے مگر بجٹ میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کیلئےکوئی انقلابی منصوبہ دکھائی نہیں دیتا، نوجوانوں کو قرضے دینا یا تربیتی پروگرام شروع کرنا قابل تعریف اقدامات ہیں لیکن جب تک صنعت، تجارت اور برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوگا، روزگار کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا،حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی آج بھی بجٹ کو اپنے بجلی کے بل، بازار کے خرچ اور بچوں کی فیس کی نظر سے دیکھتا ہے، اگر ان شعبوں میں واضح بہتری نظر نہ آئے تو بجٹ کی کامیابی کا دعویٰ عوام کیلئے قابل قبول نہیں ہوتا۔پاکستان میں لاکھوں خاندانوں کا انحصار سرکاری ملازمتوں پر ہے، ہر بجٹ کے موقع پر سرکاری ملازمین کی نظریں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے پر لگی ہوتی ہیں، اس سال بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا ہے جسے سرکاری ملازمین کیلئے ریلیف نہیں ،مرے کو مارے شاہ مدار ہی کہا جا سکتا ہے،گزشتہ چند برسوں میں مہنگائی کی مسلسل لہروں نے سرکاری ملازمین کی آمدنی کو شدید متاثر کیا ہے، بجلی، گیس، ایندھن، تعلیم اور علاج کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے، ایسی صورتحال میں تنخواہوں میں بڑا اضافہ ضروری تھا ، موجودہ اضافہ قوت خرید کی کمی کا مکمل ازالہ نہیں کرتا،ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد نچلے گریڈز میں کام کرتی ہے، گریڈ ایک سے سولہ تک کے ملازمین کے مسائل اعلیٰ گریڈز کے افسران سے بالکل مختلف ہیں، ایک کلرک، نائب قاصد، ڈرائیور یا کانسٹیبل کیلئے تنخواہ میں چند ہزار روپے کا اضافہ اسے معاشی آسودگی نہیں دے سکتا۔اسی طرح سرکاری ملازمین کے دیگر بنیادی مسائل اب بھی حل طلب ہیں، سرکاری رہائش، صحت کی سہولیات، بچوں کی تعلیم، ملازمت کا تحفظ اور ریٹائرمنٹ کے بعد مالی استحکام جیسے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں،پنشنرز کے لیے بھی صورتحال بالکل ہی مختلف اور خراب ہے ، صرف چند فیصد اضافہ کیا گیا ہے لیکن بڑھتی ہوئی ادویات کی قیمتیں اور صحت کے اخراجات کے سامنے یہ اونٹ کے منہ میں زیرے والی بات ہے ، ریٹائرڈ ملازمین کا ایک بڑا طبقہ آج بھی مالی مشکلات کا شکار ہے،حقیقت یہ ہے کہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو ہر سال اضافے کے بجائے ایک ایسی مستقل پالیسی کی ضرورت ہے جو ان کی آمدنی کو مہنگائی کے ساتھ منسلک کرے تاکہ ہر سال احتجاج اور مطالبات کی نوبت نہ آئے۔
اگر پاکستان کی معیشت کا کوئی شعبہ حقیقی معنوں میں ریڑھ کی ہڈی کہلانے کا مستحق ہے تو وہ زراعت ہے، لاکھوں خاندانوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے اور ملک کی غذائی ضروریات بھی اسی شعبے سے پوری ہوتی ہیں، اس کے باوجود کسان اکثر شکایت کرتا نظر آتا ہے کہ بجٹ میں اس کے لیے اعلانات تو بہت ہوتے ہیں مگر عملی فائدہ کم پہنچتا ہے،پنجاب حکومت نے کسان کارڈ، زرعی قرضوں، سبسڈی اور دیگر سہولتوں کے اعلانات کیے ہیں، یہ اقدامات اپنی جگہ مثبت ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کسان کے بنیادی مسائل کا حل ہیں؟
پاکستانی کسان کا سب سے بڑا مسئلہ پیداواری لاگت ہے، کھاد ، بیج ، زرعی ادویات اور ڈیزل مہنگا ہو چکا ہے، دوسری طرف جب فصل تیار ہوتی ہے تو اکثر اسے مناسب قیمت نہیں ملتی، یہی وجہ ہے کہ کسان ایک طرف بڑھتے ہوئے اخراجات اور دوسری طرف کم منافع کے درمیان پسا رہتا ہے،کسان کارڈ اور قرضوں کی فراہمی وقتی سہولت ضرور فراہم کر سکتی ہے لیکن اگر فصل کی قیمت کا مناسب تعین نہ ہو تو کسان کا معاشی مسئلہ برقرار رہتا ہے، پاکستان میں کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ گندم، کپاس یا دیگر فصلوں کے کاشتکاروں کو اپنی پیداوار کی لاگت بھی پوری نہ ہو سکی۔اس بجٹ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ زراعت میں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور ویلیو ایڈیشن پر نسبتاً کم توجہ نظر آتی ہے، دنیا کی جدید زرعی معیشتیں صرف فصل اگانے پر انحصار نہیں کرتیں بلکہ پروسیسنگ، پیکجنگ اور برآمدات کے ذریعے زیادہ منافع حاصل کرتی ہیں، پاکستان اب بھی زیادہ تر خام زرعی پیداوار فروخت کرنے پر اکتفا کرتا ہے۔
حرف آخر،وفاقی اور پنجاب بجٹ کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو ایک بات واضح نظر آتی ہے کہ حکومتیں عوامی ریلیف دینے کی کوشش ضرور کر رہی ہیں، لیکن زیادہ تر اقدامات فوری نوعیت کے ہیں، تنخواہوں میں اضافہ، سبسڈی، قرضے اور امدادی پروگرام وقتی سہولت تو دے سکتے ہیں مگر معیشت کے بنیادی مسائل کا حل نہیں،عام آدمی کو مستقل ریلیف تب ملے گا جب مہنگائی قابو میں رہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم ہوں،سرکاری ملازمین کی زندگی تب بہتر ہوگی جب ان کی آمدنی اور سہولیات کو ایک جامع اصلاحاتی پروگرام کے تحت بہتر بنایا جائے،کسان تب خوشحال ہوگا جب اسے اپنی فصل کی مناسب قیمت، جدید ٹیکنالوجی، سستی زرعی مداخل اور برآمدی مواقع میسر آئیں گے۔بجٹ27-2026 کو اگر عام آدمی، سرکاری ملازمین اور کسان کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ مکمل طور پر مایوس کن دکھائی دیتا ہے ، اس میں کچھ مثبت اقدامات موجود ہیں، کچھ ریلیف بھی دیا گیا ہے اور بعض شعبوں کو خصوصی توجہ بھی دی گئی ہے، تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ بجٹ عوامی زندگی میں کوئی بنیادی تبدیلی لے آئے گا۔

