اوٹاوا (اشرف خان لودھی سے) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کی متعدد مصنوعات پر 50 فیصد درآمدی ٹیرف عائد کرنے کے اعلان کے بعد ان اشیا کی فہرست جاری کر دی گئی ہے، جن پر 19 اگست سے نئے محصولات نافذ ہوں گے۔
رپورٹس کے مطابق یہ ٹیرف پہلی مرتبہ امریکی ٹیرف ایکٹ 1930ء کی سیکشن 338 کے تحت عائد کیے جا رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام کینیڈا کی جانب سے امریکی گاڑیوں، الکوحل اور ڈیری مصنوعات کے خلاف تجارتی اقدامات کے جواب میں کیا جا رہا ہے۔
کینیڈین حکام کے اندازے کے مطابق ان نئے ٹیرف سے تقریباً 28 ارب کینیڈین ڈالر مالیت کی برآمدات متاثر ہوں گی، جبکہ اس بار کینیڈا، امریکا اور میکسیکو تجارتی معاہدے (CUSMA) کے تحت رعایتی حیثیت رکھنے والی مصنوعات کو بھی استثنا حاصل نہیں ہوگا۔
امریکی فہرست میں ڈیری مصنوعات، دودھ اور کریم کے پاؤڈر،پروٹین، لیکٹوز، چینی سے بنی بعض مصنوعات، نان الکوحلک بیئر، مالٹ بیئر، شراب، اسپارکلنگ وائن، سائڈر، برانڈی، وہسکی، رم، جن، ووڈکا، ٹیکیلا اور دیگر الکوحل مشروبات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ شہد، نمک، سیمنٹ، رنگ، وارنش، کیمیائی مصنوعات، پلاسٹک اور ربڑ کی متعدد اشیا، لکڑی اور کاغذ کی مصنوعات، ملبوسات، قالین، شیشہ، زیورات، اوزار، ریفریجریٹر، اسمارٹ فون، ویڈیو آلات، فرنیچر، روشنی کا سامان، ویڈیو گیم کنسولز، کھیلوں کا سامان، ہاکی اسٹکس، آئس اسکیٹس، سوئمنگ پولز، آرٹ ورک اور نوادرات بھی ٹیرف کی زد میں آئیں گے۔
امریکی حکام کے مطابق ان نئے محصولات کا مقصد امریکی صنعتوں کا تحفظ اور کینیڈا کی تجارتی پالیسیوں کا جواب دینا ہے، جبکہ کینیڈین کاروباری حلقوں نے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کی تجارت کیلئے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

