ٹورنٹو:امریکی قونصل خانے پر رواں سال دوسری بار فائرنگ،پولیس کوسفید سیڈان کی تلاش

ٹورنٹو(ٹورنٹو پولیس، سی بی سی نیوز)کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں واقع امریکی قونصل خانے پر رواں سال دوسری مرتبہ فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے بعد پولیس نے فرار ہونے والی سفید رنگ کی سیڈان گاڑی کی تلاش شروع کر دی ہے۔

ٹورنٹو پولیس کے مطابق واقعہ پیر کی صبح تقریباً 4 بج کر 45 منٹ پر پیش آیا، جب قونصل خانے کے باہر معمول کی گشت پر تعینات ایک پولیس افسر نے فائرنگ کی آواز سنی۔ مذکورہ گشت رواں سال 10 مارچ کو اسی عمارت پر ہونے والی فائرنگ کے بعد سیکیورٹی کے پیشِ نظر شروع کی گئی تھی۔

پولیس کے ڈپٹی چیف فرینک باریڈو کے مطابق افسر نے موقع سے بغیر نمبر پلیٹ والی سفید ہونڈا ایکارڈ کو تیزی سے فرار ہوتے دیکھا، جس کے بعد پولیس نے گاڑی کا تعاقب کیا۔

انہوں نے بتایا کہ گاڑی کی رفتار 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے تجاوز کر جانے اور عوامی سلامتی کے خدشات کے باعث ڈان ویلی پارک وے پر ڈان ملز روڈ کے قریب تعاقب ختم کر دیا گیا۔ اس وقت فضائی نگرانی بھی دستیاب نہیں تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ واضح نہیں کہ گاڑی میں کتنے افراد سوار تھے اور نہ ہی حملے کا مقصد معلوم ہو سکا ہے۔ڈپٹی چیف فرینک باریڈو نے واقعے کو “کھلی جارحیت” اور “قابلِ مذمت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی انتہائی سنجیدگی سے تحقیقات کی جائیں گی۔

پولیس کے مطابق امریکی قونصل خانے کے قریب سے ایک گولی کا خول برآمد ہوا ہے جبکہ عمارت کے بیرونی حصے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے بتایا کہ واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا اور فوری کارروائی پر ٹورنٹو پولیس کا شکریہ ادا کیا۔

تحقیقات کے لیے قونصل خانے کے اطراف کا علاقہ سیل کر دیا گیا ہے، جبکہ یونیورسٹی ایونیو پر ڈنڈاس اسٹریٹ سے جنوب کی جانب جانے والی ٹریفک اور پیدل آمدورفت عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے۔ موقع پر فرانزک یونٹ سمیت پولیس کی ایک درجن سے زائد گاڑیاں موجود ہیں۔

رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (آر سی ایم پی) کے سپرنٹنڈنٹ جوناتھن کو نے کہا کہ آر سی ایم پی ٹورنٹو پولیس اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر تحقیقات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں کسی بھی فرد کے خلاف دھمکیوں اور تشدد کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

ٹورنٹو کی میئر اولیویا چاؤ نے بتایا کہ انہوں نے پیر کی صبح کینیڈا کے وزیرِ عوامی تحفظ گیری آننداسنگری سے گفتگو کی ہے تاکہ شہر میں فائرنگ کے واقعات اور غیر قانونی اسلحے کی آمد روکنے کے اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔ انہوں نے واقعے کو “کھلی جارحیت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

یہ واقعہ 10 مارچ کو امریکی قونصل خانے پر ہونے والی فائرنگ کے چار ماہ سے کچھ زیادہ عرصے بعد پیش آیا ہے۔ اس واقعے میں بھی کوئی زخمی نہیں ہوا تھا، تاہم آر سی ایم پی نے اسے قومی سلامتی کا واقعہ قرار دیا تھا۔

بعد ازاں مارچ میں ہونے والی فائرنگ کے سلسلے میں تین افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق یہ گرفتاریاں شہر میں فائرنگ کے متعدد واقعات کی وسیع تحقیقات کا حصہ تھیں، جن میں شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ نوجوانوں کو اسلحہ بردار جرائم کیلئےکرائے پر استعمال کیا جا رہا تھا۔