پشاور :آئل، گیس یا بجلی بند کریں تو ہم پر آرٹیکل لگ جائے گا: شفیع جان

پشاور (نمائندہ خصوصی) خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبے کے ساتھ ہمیشہ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے، اگر ہم اپنا آئل، گیس یا بجلی بند کر دیں تو ہم پر آرٹیکل لگ جائے گا، ہمیں اس حد تک مجبور نہ کیا جائے کہ ہم ایسا کوئی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جائیں، کیونکہ ہماری گیس سے دیگر صوبوں کے کارخانے چل رہے ہیں۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ پنجاب میں آئین اور قانون کی بالادستی نظر نہیں آتی، پنجاب کی گندم سے خیبر پختونخوا کی فلور ملز چلتی ہیں، اس معاملے پر عدالتوں کو بھی نوٹس لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو سالانہ 54 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ صوبے میں صرف 16 لاکھ میٹرک ٹن گندم پیدا ہوتی ہے، اس طرح صوبے کو 38 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی کمی کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت صوبے میں 2 لاکھ 68 ہزار میٹرک ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ پاسکو کے ساتھ ایک لاکھ 75 ہزار میٹرک ٹن گندم کی فراہمی کا معاہدہ ہوا تھا، تاہم اب تک صرف 25 ہزار میٹرک ٹن گندم فراہم کی گئی ہے، جبکہ معاہدے کے مطابق باقی ڈیڑھ لاکھ میٹرک ٹن گندم بھی فراہم کی جائے گی۔

شفیع جان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے گندم اور آٹے کی ترسیل میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں اور مختلف چیک پوسٹوں پر لاکھوں روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب حکومت آئین کے آرٹیکل 151 کی خلاف ورزی کر رہی ہے، جبکہ اس مسئلے کے حوالے سے پنجاب حکومت کو 15 سے زائد سرکاری مراسلے بھی ارسال کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت گندم اور آٹے کی ترسیل کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا صوبے کے مسائل کے حل کے لیے اپوزیشن اور گورنر کو بھی ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔