کراچی (نامہ نگار) کراچی کے علاقے کلفٹن تین تلوار کے قریب دورانِ ڈکیتی فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق ہونیوالے نوجوان ڈاکٹر آکاش کی ہلاکت کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جبکہ اہلِ خانہ نے ملزمان کی گرفتاری تک لاش کے ساتھ احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ساؤتھ مہروز علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک شہری بینک سے رقم نکلوا کر دوسری بینک شاخ کی جانب جا رہا تھا۔ گاڑی میں ڈاکٹر آکاش، ان کے والد اور کزن بھی موجود تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گاڑی جیسے ہی بینک کے قریب رکی، ڈاکو بھی وہاں پہنچ گئے۔ بینک کے سیکیورٹی گارڈ نے غلط فہمی میں گاڑی کو مشکوک سمجھتے ہوئے فائرنگ کر دی، جس کے بعد ڈاکوؤں نے بھی جوابی فائرنگ شروع کر دی۔
ایس ایس پی ساؤتھ کے مطابق گاڑی میں 25، 25 لاکھ روپے کے دو پیکٹ موجود تھے، جن میں سے ڈاکو ایک پیکٹ لے کر فرار ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر آکاش کس کی گولی لگنے سے جاں بحق ہوئے۔
دوسری جانب نوجوان ڈاکٹر کی میت جناح اسپتال سے سرد خانے منتقل کر دی گئی ہے۔
مقتول کے چچا کھیم چند نے بتایا کہ ڈاکٹر آکاش گزشتہ دو برس سے جناح اسپتال میں خدمات انجام دے رہے تھے اور ان کی عمر 28 سال تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بینک کے باہر ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں ان کے بھتیجے کی جان گئی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک واقعے میں ملوث ملزمان گرفتار نہیں کیے جاتے، اہلِ خانہ میت کے ساتھ احتجاجی دھرنا جاری رکھیں گے۔

