گرمی، آندھی بارش اور بجلی کا جانا!

قدرت کاملہ کے اپنے اصول ہیں۔ فطرت کے مطابق سب کام ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اللہ نے انسان کو تو عقل دی اس سے بھی کائنات کے راز ہی آشکار ہوتے ہیں۔ تعلیم کے میدان میں انسان نے بہت ترقی کی اور اب خلاء تک بھی پہنچ چکا اسی علم کی بدولت ہم یہ تک بھی جان گئے کہ کب اور کس روز کتنی گرمی اور موسم بہتر ہوگا اس سلسلے میں شہریوں کی راہنمائی ہوتی رہتی اور ان کو خبردار بھی کیا جاتا ہے اسی علم کی بدولت فطرت کا یہ عمل بھی معلوم ہوا کہ اگر درجہ حرارت بڑھتا چلا جائے اور سخت گرمی ہو تو خصوصاً میدانی علاقوں میں ہوا خشک ہوتی چلی جاتی اور نمی کم ہو جاتی ہے اس سے ویکیوم بنتا جو بالآخر جھکڑ اور تیز ہوا کے ساتھ آندھی کا سبب بھی بنتا ہے اور اگر ویکیوم کے ذریعے آنے والے جھکڑ کے عقب میں بادل ہوں تو پھر تیز بارش بھی ہوتی ہے اور جمعرات کو فطرت کا یہی عمل سامنے آیا تھا کہ کئی روز سے ہیٹ ویو کا چرچا تھا، درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا تھا اور شہری سخت پریشانی میں مبتلا تھے کہ لو کے خطرات بھی تھے اور کئی افراد اس سے متاثر بھی ہوئے اور پھر قدرت کو رحم آیا، فطری عمل شروع ہوا،تیز ہوا کے ساتھ جھکڑ چلے، جسے گرد آلود ہوا کہا گیا، سڑکوں پر اندھیرا چھا گیا۔ گرد سے کچھ نظر نہیں آتا تھا اور پھر اس کے ساتھ ہی رحمت ہوئی اور تیز بارش شروع ہوگئی۔ اس سے نہ صرف گرد بیٹھی بلکہ درجہ حرارت میں یکدم کمی آگئی۔ ہوا میں رفتار تھی جو بتدریج کم ہوئی اور گرمی کی شدت خوشگوار ماحول میں بدل گئی بارش کا سلسلہ کافی دیر تک رہا، سائنس کہتی ہے کہ یہ سب خود انسان کا کیا دھرا ہے جس نے ایسے آلات و اسباب پیدا کئے کہ اللہ کے نظام کے تحت سورج کی تپش کو روکنے کے لئے جو تہہ بنائی گئی جسے سائنس اوزان کہتی ہے تو اس میں سوراخ ہونا شروع ہو گیا جو انہی گیسوں کی وجہ سے بڑھ رہا ہے اور سورج کی تپش میں اضافہ کرہ ارض کی طرف آ رہا ہے جس کے باعث درجہ حرارت بتدریج بڑھتا چلا جا رہا ہے او ریہی وجہ گرمی کی شدت اور یہی وجہ ہیٹ ویو اور پھر گلیشیر پگھلنے اور جھیلیں پھٹنے کی بنتی ہے یہ فطرت کا عمل اور انسان کی اپنی کوتاہیوں کا مظہر ہے اور سلسلہ جاری ہے۔

آمدم برسر مطلب۔ آج تو ذکر بجلی کا مقصود ہے جو انسانی زندگی کا ایک ایسا لازمی جزو بن چکی کہ اب اس کے بغیر گزر مشکل ہو جاتی ہے۔ عوام یا صارفین مختلف ٹیکسوں اور بجلی کے نرخوں میں غیر فطری اضافے کے باعث احتجاج بھی کرتے اور پریشان بھی ہوتے ہیں تاہم اس کے بغیر گزارہ بھی نہیں۔ روتے پیٹتے استعمال کرکے ادائیگی پر بھی مجبور ہیں اور پھر بجلی کے نظام سے بھی پریشان رہتے ہیں۔ جمعرات کی آندھی اور بارش نے پھر سے یاد دلایا اور یکایک لاہور کا تین چوتھائی حصہ تاریکی میں ڈوب گیا کہ سینکڑوں فیڈر ٹرپ کر گئے حتیٰ کہ کئی گرڈ ہی بند کر دیئے گئے۔ یوں شہری کم از کم ڈیڑھ گھنٹہ اور زیادہ سے زیادہ سات گھنٹے تک برقی رو سے محروم رہے اور گھروں میں پریشان پسینہ بہاتے چلے گئے۔ اس کے بعد جب بحالی شروع ہوئی تو ساتھ ہی ٹرپنگ بھی جاری رہی اور یہ کوئی نئی بات نہیں معمول ہے۔

قارئین! آج ہم معمولی بارش اور تھوڑی تیز ہوا کے باعث بجلی کی ٹرپنگ کے عمل پر بات کرتے ہیں۔ یہ سب بنیادی طور پر سروس لائنوں کی وجہ سے ہوتا ہے کہ جو ڈھیلی رکھی جاتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ مین سپلائی کی تاروں سے علاقائی تاروں تک سب ایلومونیم کی ہیں، اگر یہ پوری کس کر رکھی جائیں تو سپارک کرکے کنارے ٹوٹ جاتے اور تاریں گر جاتی ہیں اس لئے ان کو اتنا ڈھیلا رکھا جاتا ہے کہ ہوا سے ہلیں تو کونے سپارک نہ کریں اور یہ آپس میں نہ ٹکرائیں، تاہم ایسے فیڈر والے صارفین خوش نصیب ہیں کہ جن کی گھریلو سپلائی والی تاریں مناسب فاصلے پر ہوتی ہیں ورنہ یہ جھول کر ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں تو فیڈر خود کار طریقے سے ٹرپ کر جاتا ہے اور متعلقہ صارفین اس وقت تک برقی رو سے محروم رہتے ہیں جب تک سروے کے بعد درستگی رپورٹ نہ ملے اور فیڈر کو آن کیا جائے۔ اس کے لئے ہوا اور بارش کا رکنا شرط ہوتی ہے۔

قارئین! آپ کو یہ جاننے میں دلچسپی ہونا چاہیے کہ آخر یہ ایلومینم کا سلسلہ کب اور کیوں شروع ہوا تو جانیئے کہ جب ہم 50کی دہائی میں طالب علم تھے تو بجلی کی سپلائی تانبے کی تاروں کے ذریعے ہوتی تھی یہ ایک کھمبے سے دوسرے کھمبے کے درمیان تنی رہتی تھیں کوئی بارش اور ہوا ان کو متاثر نہیں کرتی تھی، اس کے علاوہ سونے کے بعد تانبا دوسرے درجہ کا ”گڈکنڈکٹر“ ہے اس کے ذریعے سپلائی سے بجلی کا ضیاع بہت ہی کم ہوتا اور برقی رو بھی تیز سفرکرتی تھی اور پھر اس نظام کو نظر لگ گئی، چوروں کو تانبا چرانے کی لت نے آ لیا اور وہ کھمبوں پر چڑھ کر دونوں طر ف سے تاریں کاٹ کر چوری کرلیتے تھے اور برقی رو منقطع ہو جاتی۔ بجلی کی بہمرسانی کا شعبہ اور پولیس اس چوری کی بہتر روک تھام نہ کر سکے اور چور کبھی پکڑے جاتے اور کبھی نہیں، پھر ہمارے ماہرین نے اس کا نیا حل نکال لیا اور وہ یہ تھا کہ تانبے کی تاروں کی جگہ ایلومونیم سے تیار شدہ تاروں کا استعمال شروع کر دیا اور اب پورے ملک میں ماسوا بجلی پیدا کرنے والے پاور ہاؤسوں کے پوری مرکزی، علاقائی اور مقامی سپلائی کی تاریں بھی اسی سے بنی استعمال ہونے لگیں اور اب یہ قباحت موجود ہے کہ ذرا ہوا چلے اور آسمان سے بارش کے قطرے آئیں تو صارفین بجلی سے محروم ہو جاتے ہیں اس ایلومونیم کے استعمال سے بجلی کا ضیاع بھی زیادہ ہوتا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے اس طرف کسی کی توجہ نہیں ہے۔ جمعرات کو بھی ایسا ہی ہوا اور لاہور کے کئی علاقے گھنٹوں برقی رو سے محروم رہے خود میری رہائش کا علاقہ ڈیرھ گھنٹہ کی محرومی کے بعد مستفید ہوا تو دو تین بار ٹرپنگ کا سامناہوا، یہ تو مصطفی ٹاؤن سب ڈویژن کے موجودہ انچارج (ایس ڈی او) کی بہتر فرض شناسی ہے کہ میری رہائش والا فیڈر بھی توجہ کا مستحق ہے ورنہ پہلے تو ہر روز ہی واویلا کرنا پڑتا تھا اور دوست مشورہ دیتے علاقہ بدل لو۔

قارئین! حقائق بتائے ہیں تو حل بھی بتائے دیتے ہیں، پوری دنیا میں برقی رو کی بہمرسانی کا نظام زیرزمین ہے جب تک یہ سلسلہ نہیں ہوگا یہ مسائل حل نہیں ہوں گے سورج اپنی تپش دکھاتا رہے گا اور ہم گرمی سے بے جان ہوتے رہیں گے کہ قیامت سے پہلے ہلکا پھلکا مزہ تو چکھنا ہی چاہیے کہ روز ان کی تہہ کا سوراخ بڑھ تو سکتا ہے کم ہونے کا نام نہیں لے گا، یاد رہے کہ سائنس اسے مرمت نہیں کر سکتی۔