لندن/دبئی (رائٹرز) ایران نے یمن کے حوثی گروپ کو پیغام دیا ہے کہ اگر امریکا نے ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا تو وہ بحیرہ احمر کے اہم بحری راستے باب المندب کو بند کرنے کے لیے تیار رہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے باب المندب کے قریب میزائل اور ڈرون تعینات کر دیے ہیں اور صرف کارروائی کے حکم کے منتظر ہیں۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ باب المندب بند کرنے سے متعلق کسی بھی فیصلے کی نگرانی یمن میں موجود ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے نمائندے کریں گے۔ ایران کے دو سینئر حکام اور ایک علاقائی ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ متعلقہ پیغام حوثیوں تک پہنچا دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جون میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد سعودی عرب اپنے تیل کی بڑی مقدار بحیرہ احمر کے راستے منتقل کر رہا ہے، جس کے باعث باب المندب کی تزویراتی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب بھی متاثر ہوتا ہے تو مشرق وسطیٰ کے دونوں بڑے تیل برآمدی راستے بیک وقت متاثر ہوں گے، جس سے عالمی توانائی کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ اندازوں کے مطابق اس وقت عالمی توانائی کی تقریباً 7 فیصد ترسیل باب المندب اور بحیرہ احمر کے راستے ہو رہی ہے، جبکہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں یا بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی صورت میں عالمی تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر بھی شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
غزہ جنگ کے دوران بھی حوثیوں کے حملوں کے باعث متعدد بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں نے اپنے جہاز بحیرہ احمر کے بجائے افریقہ کے گرد طویل سمندری راستے سے گزارنا شروع کر دیے تھے، جس سے سفری دورانیہ اور لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ باب المندب میں مزید کشیدگی عالمی توانائی کی سپلائی کے اہم متبادل راستے کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

