کراچی (پریس کانفرنس) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی فیصلے میں ایم کیو ایم کے وزرا بھی شامل ہیں اور پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ انتہا پسندی اور دہشت گردی سے ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا گیا ہے اور کابینہ کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے دونوں وفاقی وزرا موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی اداروں نے بڑی قربانیاں دی ہیں، ایم کیو ایم پاکستان صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی حمایت کرتی ہے۔
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ۱۰ مئی کو قوم بھارتی جارحیت کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہوئی، تاہم خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی سے قومی کامیابیاں متاثر ہورہی تھیں۔ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ سیاسی ایجنڈے کی خاطر کئی سال ضائع کیے گئے اور معاشی ترقی و نمو کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ گورنر راج صدرِ مملکت کے حکم نامے کے تحت نافذ ہوا ہے۔
انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے مؤقف اور صدرِ مملکت کے فیصلے پر وضاحت دے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی فیصلوں کے اثرات سب سے زیادہ کراچی پر پڑتے ہیں۔فاروق ستار نے مزید کہا کہ سندھ میں دہشت گردی خفیہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے ذریعے پھیلائی جارہی ہے، ان نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

