ویانا ( نمائندہ خصوصی)آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے متنازع قانون کے خلاف طلبہ نے ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت سے مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کے احترام کا مطالبہ کیا۔تفصیلات کے مطابق ویانا کے مشہور چوک “Platz der Menschenrechte” سے احتجاج کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ مظاہرے کا اہتمام طالب علموں اور نوجوانوں کی تنظیموں کی جانب سے کیا گیا تھا جس میں بڑی تعداد میں طلبہ، طالبات اور شہریوں نے شرکت کی۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مذہبی آزادی، مساوات، عدم امتیاز اور بنیادی انسانی حقوق کے حق میں نعرے درج تھے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ 14 سال سے کم عمر لڑکیوں کے اسکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی بلاجواز ہے اور یہ براہِ راست مذہبی آزادی پر حملہ ہے۔ ریلی جیسے ہی شہر کے مرکزی علاقوں اور اہم تجارتی شاہراہوں سے گزری، سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، تاہم مظاہرے کے باعث مختلف اہم راستوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔
واضح رہے کہ آسٹریا میں حکومت نے یکم ستمبر 2026ء سے 14 سال سے کم عمر لڑکیوں کے اسکولوں میں حجاب پہننے پر باقاعدہ قانون کے تحت پابندی نافذ کی تھی۔ اس قانون کی منظوری کے بعد سے ہی ملک کے مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے اس پر شدید تحفظات ظاہر کیے جا رہے ہیں اور اسے آئینی بنیادوں پر چیلنج کرنے کی تیاریاں بھی کی جا رہی ہیں۔
ویانا میں ہونے والے اس تازہ ترین احتجاج کو آسٹریا میں حجاب پر پابندی کے حوالے سے جاری ملک گیر بحث اور قانونی معرکے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس قانون کی آئینی حیثیت پر آنے والے دنوں میں عدالتی پیش رفت انتہائی اہمیت کی حامل ہوگی۔

