جیل افسروں کا اختیار

ان دنوں پنجاب جیلخانہ جات ،انٹی کرپشن کے ریڈار پر سر فہرست نظر آ رہا ہے،کئی سپرنڈنڈنٹ اور ڈپٹی شکنجے میں آ چکے ، کئی نظروں میں ہیں، جیلخانہ جات کبھی کر پشن سے پاک صاف نہیں رہا مگر یہ آج بھی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پولیس،ریونیو ، انجینرنگ و ترقیاتی اداروں سے کرپشن میں بہت پیچھے ہے ،کرپٹ افسروں اور اہلکاروں کو ہر گز معاف نہ کیا جائےمگر یہ بھی ضرور جائزہ لیا جائے کہ جیلوں میں کرپشن کی وجوہات کیا ہیں؟ پنجاب جیل خانہ جات میں کیا ، ذمہ داری، انتظامی خودمختاری اور احتساب کا نیا نظام ضروری نہیں ہو گیا؟پنجاب کی جیلوں میں کرپشن کے خاتمے کی بحث محض چند بدعنوان اہلکاروں کے خلاف کارروائی تک محدود نہیں رہنی چاہیے،اصل سوال یہ ہے کہ گزشتہ پچیس ،تیس برسوں میں جیلوں کا انتظامی نظام کیوں ایسی مضبوط بنیادیں قائم نہیں رکھ سکا جن کے نتیجے میں قیدیوں کے حقوق موجود رہتے، اہلکار قانون کے پابند ہوتے اور بدعنوانی کے امکانات کم سے کم ہو جاتے، اس سوال کا ایک اہم پہلو جیل خانہ جات کے سربراہ، آئی جی جیل سمیت ڈی آئی جیز،اور جیل سپرنڈنڈنٹس کے انتظامی اختیارات بھی ہیں،ایک وقت تھا جیل کا ڈپٹی اتنا بااختیار اور مضبوط ہوتا تھا کہ اس کے سامنے چڑی پر نہیں مارتی تھی جبکہ جیل سپرنڈنڈنٹ اپنی جیل کا سخت گیر سربراہ ہوتا تھا، اصول سادہ ہے، جن افسروں سے پورے محکمے کی کارکردگی بہتر بنانے، کرپشن روکنے اور ماتحت عملے کو جواب دہ بنانے کی توقع کی جائے، انہیں اپنے انتظامی فیصلے نافذ کرنے کے لیے مناسب اختیارات بھی حاصل ہونے چاہییں۔

پچھلے سالوں میں محکمہ داخلہ اور جیلخانہ جات کے سربراہوں کی تبدیلی بذاتِ خود اصلاحات کی کامیابی یا ناکامی کا پیمانہ نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس عرصے میں نگرانی، تبادلوں، خریداری، ملاقاتوں، قیدیوں کی سہولتوں اور محکمانہ احتساب کے نظام میں ایسی تبدیلیاں آئیں جن سے کرپشن کے مواقع مستقل طور پر کم ہوئے؟جیل کا قیدی اپنی روزمرہ ضروریات کے لیے انتظامیہ پر انحصار کرتا ہے، اگر ملاقات، سہولت یا درخواست پر کارروائی کے لیے واضح قواعد اور شفاف ریکارڈ موجود نہ ہو تو اختیار کے ناجائز استعمال کی گنجائش بڑھ جاتی ہے، اسی طرح عملے کی کمی، کام کا دباؤ، غیر مؤثر نگرانی، ناقص تربیت اور شکایات کے ازالے میں تاخیر بھی انتظامی مسائل کو پیچیدہ بنا سکتی ہے،ایک اور بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اگر خلاف ورزی سامنے آنے کے بعد ہی کارروائی ہو اور مستقل نگرانی کا نظام کمزور رہے تو اصلاحات کا اثر محدود رہتا ہے، کرپشن روکنے کے لیے صرف معطلیاں اور تبادلے کافی نہیں، ایسے طریقۂ کار کی ضرورت ہے جس میں غیر قانونی مطالبے، مالی بے ضابطگی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا سراغ لگانا آسان ہو،قیدیوں کی تعداد اور دستیاب سہولتوں کے درمیان فرق بھی اہم ہے، اگر عملے اور وسائل پر ضرورت سے زیادہ دباؤ ہو تو نگرانی اور خدمات کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، یہ صورتِ حال بذاتِ خود کرپشن کا ثبوت نہیں، لیکن مؤثر انتظامی اصلاحات کی ضرورت ضرور بڑھاتی ہے۔

ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آئی جی سمیت اعلیٰ جیل حکام کے اختیارات کہاں تک ہیں؟پنجاب جیل خانہ جات کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق آئی جی جیل خانہ جات صوبے کی جیلوں کے عمومی کنٹرول اور نگرانی کا ذمہ دار ہے جبکہ ڈی آئی جیز ،آئی جی کی نگرانی، معائنے اور پالیسی پر عمل درآمد میں معاونت کرتے ہیں،یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے، کسی محکمے کا انتظامی سربراہ ہونا اور ہر عہدے کے افسر کی تعیناتی یا تبادلے کا حتمی مجاز ہونا ایک ہی بات نہیں،مگر اس کے باوجود انتظامی اصول واضح ہے کہ آئی جی کو اپنے ماتحت افسروں کی کارکردگی جانچنے، ان کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی شروع کرنے، تعیناتیوں کے لیے سفارش کرنے اور اپنے قانونی اختیار کے اندر تبادلوں کے فیصلے کرنے کا مؤثر نظام حاصل ہونا چاہیے، جیسا کہ اس وقت پولیس کے آئی جی کو حاصل ہے،پنجاب پولیس میں آئی جی ماتحت افسران کی تعیناتیوں اور تبادلوں میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ پولیس آرڈر 2002 کا آرٹیکل 17 پولیس کے اندر تعیناتیوں کے اختیارات اور طریقۂ کار کی بنیاد فراہم کرتا ہے، اگرچہ مختلف عہدوں کے لیے قواعد اور حکومتی منظوری کی شرائط مختلف ہو سکتی ہیں، پولیس کا آئی جی اس وقت اضلاع کے ڈی پی اوز ، ایس پیز اور ڈی ایس پیز کے تبادلوں کا مجاذ ہے اور اس سے اوپر تبادلے اسکی سفارش پر پنجاب حکومت کرتی ہے ،جیل خانہ جات میں بھی اسی اصول سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، حکومت پنجاب کو چاہیے کہ ایک کمیٹی قائم کرے جو واضح کرے کہ کن عہدوں کے تبادلے آئی جی خود کر سکتا ہے، کن کے لیے محکمہ ہوم کی منظوری ضروری ہے اور کن معاملات میں حکومت کا اختیار برقرار رہنا چاہیے۔میرے خیال میں ایک با اختیار آئی جی جیل کو کسی جیل میں بدانتظامی یا سنگین خلاف ورزی کی نشاندہی ہو تو اسے غیر ضروری تاخیر کے بغیر کارروائی کا موقع ملنا چاہئے ، آئی جی اپنے تجربے اور جیلوں کی ضروریات کے مطابق مناسب افسروں کی تعیناتی کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکے گا، اگر آئی جی کو مناسب انتظامی اختیارات حاصل ہوں تو اس سے نتائج طلب کرنا بھی زیادہ بامعنی ہو گا، وہ ماتحت افسروں کی کارکردگی کا جائزہ لے سکے گا اور ان کے نتائج کی بنیاد پر متعلقہ قواعد کے مطابق اقدامات کر سکے گا،اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ محکمہ ہوم پر غیر ضروری روزمرہ انتظامی بوجھ میں کمی آئے گی ، محکمہ ہوم پالیسی، نگرانی اور اہم حکومتی ترجیحات پر زیادہ توجہ دے سکے گا، جبکہ جیلوں کے روزمرہ معاملات پیشہ ورانہ قیادت سنبھال سکے گی،اسی طرح اگر تبادلوں، شکایات اور تادیبی معاملات کے لیے واضح اختیارات ہوں تو کسی افسر کے خلاف شواہد کی بنیاد پر بروقت کارروائی کرنا آسان ہو سکتا ہے، تاہم صرف اختیارات کی منتقلی کرپشن کے خاتمے کی ضمانت نہیں،شفاف نگرانی اور مؤثر احتساب بھی لازمی ہیں، ہر تبادلے کی وجہ ریکارڈ پر ہو، ترقی اور تعیناتی میں میرٹ کو بنیادی اہمیت دی جائے اور آئی جی کے فیصلے بھی قواعد، آڈٹ اور اپیل کے نظام کے تابع رہیں۔

پنجاب کی جیلوں میں کرپشن کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ذمہ داری، اختیار اور احتساب کو ایک مربوط نظام میں جمع کیا جائے، اگر آئی جی جیل خانہ جات سے پورے محکمے کے نتائج طلب کیے جاتے ہیں تو اسے اپنے ماتحت افسران کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مناسب انتظامی اختیار بھی ملنا چاہیے،محکمہ ہوم کی نگرانی ضروری ہے، لیکن روزمرہ ، معمول کے تبادلوں اور انتظامی فیصلوں میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا نہ ہوں، حکومت کو چاہیے کہ موجودہ قواعد کا جائزہ لے، اختیارات کی واضح تقسیم مقرر کرے اور آئی جی کو قواعد کے اندر رہتے ہوئے مؤثر انتظامی خودمختاری دے،ان اصلاحات کا مقصد کسی افسر کو طاقتور بنانا نہیں، بلکہ ادارے کو مؤثر بنانا ہو، ایسا نظام قائم ہونا چاہیے جس میں آئی جی اپنی ٹیم سے نتائج لے سکے، ماتحت افسر اپنی ذمہ داری پوری کریں، محکمہ ہوم نگرانی کرے اور ہر سطح پر قانون کی پابندی یقینی ہو، یہی مضبوط چین آف کمانڈ، شفاف انتظام اور پنجاب کی جیلوں میں کرپشن کے خلاف مستقل پیش رفت کی بنیاد بن سکتا ہے۔