خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت غیر فعال، گورنر وفاق کے تحت انتظام چلائیں گے: اعظم نذیر تارڑ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی حکومت غیر فعال ہوچکی ہے اور اب گورنر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ وفاق کے تحت صوبے کا انتظام چلائیں۔

اسلام آباد میں وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ دہشت گردی سے شدید متاثرہ 12 اضلاع کے لیے الگ سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے، جبکہ ان اضلاع میں ایریا ریپریزنٹیٹو ڈیولپمنٹ کونسل بھی تشکیل دی گئی ہے۔ ان کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکریٹری ان اضلاع میں ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام کریں گے اور گورنر بھی کونسل کے امور کی نگرانی کریں گے۔

وزیر قانون نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت خیبرپختونخوا میں گورنر کی معاونت کے لیے مسلح افواج کی تعیناتی کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔ صدر مملکت نے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے اختیارات استعمال کیے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت بیرونی جارحیت یا اندرونی خلفشار کی صورت میں ایمرجنسی نافذ کی جاسکتی ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صدارتی اعلان کے تحت صوبائی حکومت کو غیر فعال کردیا گیا ہے اور گورنر کو صوبے کا انتظام سنبھالنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ گورنر کو 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں صورتِ حال انتہائی سنگین ہوچکی تھی، اسی لیے ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ صدارتی اعلان میں 12 اضلاع کے لیے الگ سیکریٹریٹ قائم کرنے کی ہدایت بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 20 روز قبل ان سے ایمرجنسی کے امکان کے بارے میں پوچھا گیا تھا، جس پر انہوں نے کہا تھا کہ حالات پیدا ہوئے تو ایمرجنسی ضرور نافذ ہوگی۔

وفاقی وزیر قانون کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا نے وفاقی حکومت کو انتہائی تشویش ناک صورتِ حال سے آگاہ کیا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ صوبائی حکومت عوام کے تحفظ کو ترجیح دینے کے بجائے سیاسی سرگرمیوں میں مصروف تھی۔

اعظم نذیر تارڑ نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 196 فیصد اضافہ ہوا ہے اور دہشت گردی کے واقعات معمول بنتے جا رہے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سیاسی مذاکرات رات ڈھائی بجے تک جاری رہے۔