فرانس میں تاریخی قانون سازی، مرضی سے زندگی ختم کرنے کا بل منظور

پیرس (علی اشفاق سے) فرانس کی پارلیمنٹ نے حقِ موت میں معاونت (Assisted Dying) سے متعلق تاریخی بل حتمی طور پر منظور کر لیا، جس کے تحت مخصوص شرائط پوری کرنے والے شدید اور لاعلاج بیماریوں میں مبتلا بالغ مریضوں کو قانونی طریقۂ کار کے مطابق جان لیوا دوا حاصل کرنے کی اجازت دی جا سکے گی۔

یہ فیصلہ اختتامی طبی نگہداشت سے متعلق کئی برسوں پر محیط بحث و مباحثے کے بعد سامنے آیا۔ قومی اسمبلی میں بل کے حق میں 291 جبکہ مخالفت میں 241 ووٹ ڈالے گئے۔ صدر ایمانوئل میکرون کے طویل عرصے سے زیرِ التوا وعدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حکومت نے حتمی فیصلہ قومی اسمبلی پر چھوڑ دیا تھا۔

نئے قانون کے تحت صرف وہ بالغ افراد اس سہولت کے اہل ہوں گے جو فرانس کے شہری یا وہاں کے قانونی رہائشی ہوں، لاعلاج اور جان لیوا بیماری کے آخری مرحلے میں مبتلا ہوں، ناقابلِ برداشت جسمانی یا ذہنی تکلیف کا سامنا کر رہے ہوں اور قانون میں مقرر کردہ تمام شرائط پر پورا اترتے ہوں۔

قانون کے مطابق درخواست کی منظوری کے بعد مریض کو جان لیوا دوا فراہم کی جا سکے گی۔ اگر مریض خود دوا استعمال کرنے کی جسمانی صلاحیت رکھتا ہو تو وہ خود اسے استعمال کرے گا، بصورت دیگر ڈاکٹر یا نرس مقررہ قانونی طریقۂ کار کے تحت دوا دینے کے مجاز ہوں گے۔ ہر درخواست کا طبی اور قانونی معیار کے مطابق الگ سے جائزہ لیا جائے گا۔

بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس قانون سے لاعلاج مریضوں کو اپنی زندگی کے آخری مراحل میں باوقار انداز میں فیصلہ کرنے کا حق ملے گا، جبکہ مخالفین کے مطابق اس قانون سے اخلاقی، مذہبی اور طبی حوالے سے نئے سوالات جنم لیں گے اور کمزور مریضوں کے تحفظ سے متعلق خدشات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔