لاہور چیمبر کا شیڈو بجٹ27-2026 پیش، متوازن اور کاروبار دوست بجٹ کی سفارش

بجٹ میں ایف بی آر ٹیکس ہدف میں صرف 4 سے 5 فیصد اضافے کی تجویز،
کاروباری سرگرمیوں کے تحفظ پر زور، ان ڈائریکٹ ٹیکسز میں غیر ضروری اضافہ
معیشت اور عوام دونوں پر بوجھ ہے، صدر فہیم الرحمٰن سہگل کی پریس کانفرنس

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے مالی سال 27-2026 کیلئےشیڈو بجٹ پیش کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ آئندہ وفاقی بجٹ کو متوازن، کاروبار دوست اور عوامی ریلیف پر مبنی بنایا جائے تاکہ معیشت کو استحکام، صنعت کو سہارا اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔ لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں کاروباری طبقہ مہنگی توانائی، بلند شرح سود، بھاری ٹیکسوں اور مہنگائی کے شدید دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، اسلئے ایسا بجٹ ناگزیر ہے جو صنعت، تجارت اور عام آدمی کو حقیقی ریلیف فراہم کرے۔ یہ بات انہوں نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، نائب صدر خرم لودھی، سابق صدر فیڈریشن و لاہور چیمبر میاں انجم نثار، ایگزیکٹو کمیٹی ممبران محسن بشیر، عمران سلیمی، شعبان اختر، کرامت علی اعوان، رانا نثار، عامر علی اور زین الٰہی بھی موجود تھے۔

صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ مالی سال 26-2025 کیلئےوفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 17 ہزار 573 ارب روپے رکھا گیا تھا جبکہ بجٹ خسارہ 6 ہزار 501 ارب روپے رہا۔ لاہور چیمبر کی تجویز ہے کہ آئندہ مالی سال میں بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً اسی سطح پر رکھا جائے تاکہ مالی نظم و ضبط برقرار رہے اور غیر ضروری اخراجات پر قابو پایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال26-2025 کیلئے ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 14 ہزار 131 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا، تاہم لاہور چیمبر کی رائے ہے کہ آئندہ بجٹ میں اس ہدف میں صرف 4 سے 5 فیصد اضافہ کیا جائے اور نیا ٹیکس ہدف تقریباً 14 ہزار 700 سے 14 ہزار 800 ارب روپے رکھا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ٹیکس اہداف میں غیر حقیقی اضافہ کیا گیا تو اس سے صنعت، تجارت اور معاشی سرگرمیاں مزید دباؤ کا شکار ہوں گی۔

صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ ان ڈائریکٹ ٹیکسز بالخصوص کسٹمز ڈیوٹی،سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کاروباری لاگت میں اضافے اور مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ کسٹمز ڈیوٹی کا ہدف ایک ہزار 650 سے ایک ہزار 660 ارب روپے تک محدود رکھا جائے جبکہ سیلز ٹیکس کا ہدف زیادہ سے زیادہ 4 ہزار 950 سے 4 ہزار 980 ارب روپے اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا ہدف 920 سے 930 ارب روپے تک رکھا جائے تاکہ کاروبار اور عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال 26-2025 کیلئے انکم ٹیکس کا ہدف 6 ہزار 811 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا لیکن موجودہ ٹیکس دہندگان خصوصاً تنخواہ دار طبقے اور صنعتوں پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے حکومت کو نئے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیے بغیر براہِ راست ٹیکسوں میں پائیدار اضافہ ممکن نہیں۔

فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر دفاعی اخراجات میں مناسب اضافہ ضروری ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ دفاعی بجٹ میں 10 سے 12 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 2 ہزار 800 سے 2 ہزار 860 ارب روپے تک لے جایا جائے تاکہ قومی سلامتی کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

انہوں نے وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) کیلئےمختص ایک ہزار ارب روپے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی اخراجات بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ لاہور چیمبر نے سفارش کی کہ آئندہ مالی سال میں PSDP کا حجم کم از کم ایک ہزار 200 سے ایک ہزار 300 ارب روپے تک بڑھایا جائے تاکہ ترقیاتی منصوبوں میں تیزی آئے، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں اور نجی شعبے کی سرگرمیاں فروغ پائیں۔

صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ جاری اخراجات بجٹ کا سب سے بڑا حصہ ہیں جن میں قرضوں پر سود کی ادائیگی نمایاں ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شرح سود میں مزید کمی کی جائے اور مہنگے داخلی قرضوں کی ازسرِنو فنانسنگ پر غور کیا جائے تاکہ مالی خسارہ اور سودی بوجھ کم ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے مختص فنڈز کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی فنی اور تکنیکی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ لاہور چیمبر نے تجویز دی کہ کم از کم 100 سے 150 ارب روپے ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگ کیلئےمختص کیے جائیں تاکہ نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

انہوں نے پٹرولیم لیوی کے حوالے سے کہا کہ ایندھن پر زیادہ ٹیکس نہ صرف عوام بلکہ صنعتوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کرتا ہے۔ لاہور چیمبر نے مطالبہ کیا کہ مالی سال 27-2026 میں پٹرولیم لیوی کا ہدف کم کیا جائے تاکہ ٹرانسپورٹ، صنعت اور عام صارفین کو ریلیف مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو آمدنی بڑھانے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرنے چاہئیں تاکہ ایندھن پر انحصار کم ہو اور معیشت پر اضافی دباؤ نہ پڑے۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے پنجاب انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ چیمبر کے مطابق یہ سیس کاروباری لاگت میں غیر ضروری اضافہ کر رہا ہے اور خاص طور پر صنعتی شعبے، درآمدی و برآمدی سرگرمیوں اور مجموعی سپلائی چین پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔

صدر لاہور چیمبر نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت آئندہ وفاقی بجٹ میں کاروباری برادری کی تجاویز کو سنجیدگی سے زیر غور لائے گی اور ایسا بجٹ پیش کرے گی جو معاشی استحکام، صنعتی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور عوامی فلاح کے اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہو۔