اسرائیلی انتخابی کمیشن نے نیتن یاہو کے دھاندلی کے الزامات مسترد کردئیے

تل ابیب (گارڈین) اسرائیلی انتخابی کمیشن نے گزشتہ ہفتے ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے حتمی نتائج کی توثیق کرتے ہوئے وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی کے الزامات مسترد کردیے۔ انتخابات کے نتیجے میں نیتن یاہو کے دائیں بازو کے سیاسی اتحاد کی پارلیمانی اکثریت ختم ہوگئی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل کی اٹارنی جنرل نے داخلی سلامتی کے ادارے شن بیت کی جانب سے فلسطینی قیادت والی جماعتوں کے سینئر رہنماؤں سے پوچھ گچھ کرنے کی درخواست روک دی۔ اٹارنی جنرل گالی بہاراوی میارا نے کہا کہ انہیں کسی قسم کی بدعنوانی یا غیر قانونی سرگرمی کے شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔

اسرائیلی اخبار ہاریتز کی رپورٹ کے مطابق شن بیت نے چار سیاست دانوں سے پوچھ گچھ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اٹارنی جنرل نے اپنے بیان میں کہا کہ قانون کی حکمرانی والے ملک میں شہریوں اور منتخب نمائندوں سے ایسے شواہد کے بغیر پوچھ گچھ نہیں کی جاسکتی جو اس اقدام کو جائز قرار دیں۔

انتخابی حکام نے بدھ کو حتمی نتائج صدر اسحاق ہرزوگ کے حوالے کیے۔ مرکزی انتخابی کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ جائزے کے دوران ایسی کسی بے ضابطگی کا ثبوت نہیں ملا جس سے انتخابات کی شفافیت متاثر ہوئی ہو یا نتائج میں تبدیلی آئی ہو۔

کمیٹی کے سربراہ نوم سولبرگ نے کہا کہ بعض شبہات کی تحقیقات ابھی جاری ہیں، تاہم ان سے مجموعی انتخابی عمل پر سوالیہ نشان نہیں لگتا اور نہ ہی نتائج کے اعلان میں تاخیر کا کوئی جواز بنتا ہے۔

صدر اسحاق ہرزوگ نے انتخابی نتائج وصول کرتے ہوئے فلسطینی شہریوں کے خلاف نسل پرستانہ حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ وہ اسرائیل کے عرب معاشرے کا احترام کرتے ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں اس کی خدمات اور ملکی نظام میں اس کی شمولیت کی خواہش کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے صدر ہرزوگ اہم کردار ادا کریں گے اور وہ کسی ایک سیاست دان کو حکومت بنانے کے لیے پہلا موقع دیں گے۔ توقع ہے کہ وہ اپوزیشن کے مرکزی رہنما گادی آئزن کوٹ کو یہ ذمہ داری سونپیں گے، جس کا اعلان جمعرات کی شام تک متوقع ہے۔

سابق اسرائیلی فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کو یہودی اپوزیشن جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ غزہ میں جنگ کے دوران ان کے بیٹے کی ہلاکت بھی ہوئی تھی۔ فلسطینی قیادت والی جماعتوں نے بھی نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے، اس لیے توقع ہے کہ وہ آئزن کوٹ کی حمایت کریں گی۔

تاہم نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ آئزن کوٹ نے انتخابی نتائج پر عوامی اعتماد متزلزل کرنے کی کوششوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ اقتدار برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی اداروں کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وزارتِ دفاع، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرکاری ملازمین ریاست کے خادم ہیں، کسی بادشاہ کے نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اختیارات اور عہدوں کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال قابل مذمت ہے۔

رپورٹ کے مطابق شن بیت کے سربراہ ڈیوڈ زینی نے، جنہیں نیتن یاہو نے اس عہدے پر مقرر کیا تھا، ان سیاست دانوں سے پوچھ گچھ کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے تحقیقات کو سکیورٹی سے متعلق معاملہ قرار دینے کی کوشش بھی کی تھی، جس کے نتیجے میں متعلقہ سیاست دانوں کو وکیل تک رسائی سے محروم رکھنے سمیت سخت اقدامات ممکن ہوسکتے تھے۔

اسرائیلی صحافی اور تجزیہ کار ناداو ایال نے خبردار کیا ہے کہ انتخابی نتائج کو مسترد کرنے اور اپوزیشن جماعتوں کی ساکھ متاثر کرنے کی مزید سخت کوششیں ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ ملک میں تشدد کی بنیاد رکھی جارہی ہے اور موجودہ صورت حال اسرائیل کے قانونی اور حکومتی نظام کے لیے خطرے کی علامت ہے۔

نیتن یاہو کی انتخابی مہم کے دوران اسرائیل کی تقریباً 20 فیصد آبادی پر مشتمل فلسطینی شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ انتخابی روز بھی انہوں نے بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے، تاہم انتخابی حکام نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا۔

رپورٹ کے مطابق فلسطینی سیاست دانوں میں نمایاں مقام رکھنے والے احمد طیبی بھی ان رہنماؤں میں شامل تھے جن سے شن بیت پوچھ گچھ کرنا چاہتا تھا۔ انہوں نے اپنے ردعمل میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل امریکی ڈیموکریٹس اور مشترکہ فہرست کے درمیان تعلقات کی تحقیقات کررہی ہیں، کیونکہ دونوں صورتوں میں ایک ہی پیچیدہ طریقہ اختیار کیا گیا، جس کے تحت لوگ بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشن پہنچے، ووٹ ڈالا اور واپس گھر چلے گئے۔