اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ایف الیون مرکز میں چائنیز کال سینٹر پر ایف آئی اے اور پولیس نے چھاپہ ماراہے۔ذرائع نے بتایا کہ چائنیز مافیا کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی اطلاعات ہیں جبکہ کال سینٹر میں کام کرنے والے پاکستانی لڑکےاور لڑکیاں گرفتار کرلی گئیں۔
مزید یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ متعلقہ تھانہ شالیمار کو مبینہ لاکھوں کی منتھلی جاتی رہی ہے ۔ کال سینٹر سے 24 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا، حراست میں لیے جانے والوں میں متعدد غیر ملکی شامل ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ کال سینٹر پر انٹرنیشنل فراڈ میں ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، فراڈ کی ایک کال ایف الیون سینٹر سے بھی کی گئی ہے، حراست میں لئے گئے افراد کو ایف آئی اے آفس منتقل کیا جا رہا ہے۔
ملزمان غیر ملکی بینکوں کے نمائندے بن کر شہریوں سے رقم بٹورتے تھے، ملزمان میں مالک کاشف، عمیر، حیدر، نوشاد، عبید اور مہتاب شامل تھے۔ملزمان غیر ملکیوں کے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کی ڈیٹا چوری میں بھی ملوث ہیں، ملزمان بیلنس ٹرانسفر کیلئے امریکی اور کینیڈین شہریوں کو بینک نمائندے بن کر کال کرتے تھے۔
ایف آئی آے حکام کا کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران فراڈ کیلئےاستعمال ہونے والے الیکٹرانک آلات اور گیجٹس بھی ضبط کیے گئے۔ذرائع کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ چھاپے کے دوران شدید فائرنگ کے بعد ایف آئی اے اہلکاروں نے بھی جوابی فائرنگ کی، اور کال سینٹر کے عملے کی گرفتار کرلیا گیا۔کال سینٹر کے عملے نے الزام عائد کیا ہے کہ ایف آئی اے ٹیم مبینہ طور پر رشوت کا تقاضہ کیا، اور رشوت نہ دینے پر چھاپہ مار دیا۔

