اسلامی ایٹم بم سے ہی پریشانی کیوں؟

صرف وحشت ہو اور عشق نہ ہو لب اُگلتے ہیں دھمکیاں دن رات…آپ سب بخوبی جانتے ہیں دھمکیاں اٹھتے بیٹھتے کون دیتا ہے ۔میں اپنے آپ سے پوچھ رہا تھا سوچا کہ آپ کو بھی شریک گفتگو کر لوں اگر چین کے صدر ،روس کے صدربھی ایسے ہی بات بے بات آ گ اُ گل رہے ہوتے تو اس دنیا کی کیا شکل ہوتی ۔ ٹرمپ صاحب چین کے دورے سے واپس آ کر چین کی بات ہی نہیں کر رہے۔ آتے ہی وہ ایران کے خلاف ننگی تلوار سونت کر کھڑے ہو گئے ہیں ۔غصہ توژی پر ہوگا مگر نکال رہے ہیں تہران پر ۔کیا اس رویے سے وہ گریٹ پیپلز ہال بیجنگ میں ہونے والی نامرادی پر مٹی ڈال سکیں گے…آپ بھی یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ ایران پرجس طرح ایٹمی پروگرام کے باعث 40 سال سے زیادہ عرصے سے انتہائی سخت پابندیاں لگی ہوئی ہیں اور اب ٹرمپ بھی انہیں کھلی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔اسرائیل نے جب ایٹمی ہتھیار بنائے ہوں گے تو کیا اسے بھی امریکہ کی نئی دنیا اور باقی پرانی دنیا کی طرف سے اسی طرح سرزنش کا سامنا کرنا پڑا ہوگا۔

اس پر بات کرتے ہیں مگر اس سے پہلے پاکستان کے ایک عظیم ایڈیٹر سخنور جناب الطاف حسن قریشی کی وفات حسرت آیات پر کچھ اظہار تاسف ۔60 اور 70 کی دہائی میں بائیں دائیں کی کشمکش زوروں پر تھی ہمارے خیمے اگرچہ الگ الگ تھے مگر سلام دعا رہتی تھی ۔اخبار جہاں۔ میں ہمارے رفیق کار مجیب الرحمن شامی تھے الطاف حسن قریشی ملتان سے روزنامہ جسارت کا آغاز کر چکے تھے۔ اب سیاست کی گرم بازاری دیکھ کر وہ ایک ہفت روزہ بھی شروع کرنا چاہتے تھےہفت روزہ چٹان اور مولانا کوثر نیازی کے ہفت روزہ شہاب کے ٹھیک ٹھیک نشانے دیکھ چکے تھے۔اخبار جہاں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور آتے ہوئے انتخابات۔ وہ مجیب الرحمان شامی کو اخبار جہاں سے چھیننے آئے تھے۔ اس کا برملا اظہار بھی کر رہے تھے پھر انہوں نے لاہور سے ہفت روزہ زندگی شروع کیا اور شامی صاحب کی جملے سازی و شعلہ بیانی سے کھل کر فائدہ اٹھایا۔ اردو ڈائجسٹ میں ان کے انٹرویوز نے اردو صحافت میں ایک نئی طرح ایجاد کی ۔عمر کے آخری حصے میں بھی ان کے مطالعے اور کالم نگاری کا معمول جاری رہا ۔ان کا کرم ہے کہ کسی روز ہمارا کالم اچھا لگتا ۔تو ضرور فون کرتے ۔ میں نے ایک کالم میں لکھ دیا کہ ہم سب تو مضمون لکھتے ہیں،اصلی کالم صرف عطاءالحق قاسمی سے سرزد ہو رہا ہے ۔کہ وہ شگفتگی اور لطافت کی آبرو رکھ رہے ہیں۔ قریشی صاحب کا فون آیا کہ آپ نے تو ہمیں اور خود کو کالم نگاری سے باہر کر دیا ہے۔

پچھلے سال ماہنامہ تخلیق کے ادبی ایوارڈ پروگرام کیلئے لاہور جانا ہوا۔ یہ ایوارڈ کئی کتابوں کے مصنف اور محقق ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کو تفویض کیا گیا تھا ۔علامہ عبدالستار عاصم سے ہم نے کہا کہ ہمیں الطاف حسن قریشی صاحب کے نیاز حاصل کرنا ہیں ۔صاحب فراش تھے۔ بہت تپاک سے ملے۔ میں نے ان سے گفتگو فیس بک پرلائیو کر دی ۔تو پوری دنیا سے ان کے ہزاروں قارئین شریک محفل ہونے لگے ۔قریشی صاحب سے بھی ہم نے کچھ جملے ادا کرنے کی فرمائش کی ،ہماری کسی فیس بک لائیو پرقبل ازیں اتنے تبصرے نہیں آئے تھے۔ اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے ۔

اب آئیے اسرائیل کے ایٹمی ہتھیاروں کی طرف۔ میری الجھن یہ تھی کہ ایٹم بم اسرائیل نے بھی بنایا ہے کیا امریکہ یورپ نے ا سے بھی اسی طرح دھمکیاں دی تھیں،پابندیاں لگا ئی تھیں۔ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر پاکستان کو دھمکی دینے آئے ۔شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ان کی پذیرائی کا اہتمام لاہور میں کیا تاکہ دیوار میں چنوائی گئی انارکلی کا حوالہ دے سکیں۔ کسنجرنے کہا اگر ایٹمی پروگرام بند نہ کیا گیا تو ہم تمہیں عبرت ناک مثال بنا دیں گے۔ پھر جو ہوا جس طرح ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔ کیا امریکہ یورپ صرف اسلامی ایٹم بم سے ڈرتے ہیں۔ ایران پر 47 سال سے جس طرح پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں اور اب 28 فروری سے جس طرح ایران کے شہروں پر میزائلوں ،ڈرونوں اور بموں کی بارش ہو رہی ہے کیا کسی غیر مسلم ایٹمی طاقت کے ساتھ بھی ایسا کیا گیا ۔میں محقق تو نہیں ہوں اور نہ ہی اب عمر اجازت دیتی ہے کہ زیادہ اوراق سے گزر سکوں۔ لیکن کچھ جاننا چاہا تو پہلے ہر سائٹ سے یہ جواب ملا کہ ایران نے این پی ٹی پر دستخط کیے ہیں اس لیے اس سے سوالات کا جواز بنتا ہے ۔ لیکن میرے اس استفسار کا جواب کہیں سے نہیں ملتا کہ تفتیش کا اختیار تو صرف یو این او اور اس کے متعلقہ اداروں کو ہونا چاہیے۔ امریکہ کو یہ اتھارٹی کیسے مل رہی ہے۔ اس کا جواب جسکی لاٹھی اس کی بھینس ملتا ہے۔

اسرائیل کو جب معرض وجود میں لایا گیا تو اس نے اس وقت سے ہی ایٹمی پروگرام کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔ 1948سے 1953 تک یہودی سائنسدانوں سے مشورے کیے گئے ۔پھر 1957 سے 1960 کے دوران فرانس نے اسرائیل کی بھرپور مدد کی۔ یہی وہ دور ہے جب مصر کے انقلابی صدر جمال عبدالناصر نے نہر سویز پر فرانس اور برطانیہ کے اختیار کو للکارا تھا ۔اسرائیل کیلئےیہ اصطلاح بھی تراشی گئیNuclear ambiguity policy ایٹمی ابہام کی حکمت عملی۔ اس جاننے کی دھن میں یہ بھی پتہ چلا کہ اسرائیل نے اپنے ایٹم بم کا اس طرح تجربہ نہیں کیا جیسے انڈیا اور پاکستان نے کیا ۔اس کے پاس 80 سے 90 ایٹمی جنگی ہتھیار ہیں۔ پاکستان کو دھمکی دینے والےہنری کسنجر نے 19 جولائی 1969 کو صدر نکسن کو بتایا تھا کہ اسرائیل ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔ 24 سے 30 ایٹمی میزائل ہیں اسکے پاس اور 10 کے قریب باقاعدہ ایٹمی ہتھیار ہیں ۔یہی وسیلے بتا رہے ہیں صدر نکسن نے اسرائیلی خاتون وزیراعظم گولڈا میئر سے ستمبر 1969 میں اس پروگرام کے حوالے سے خفیہ ڈیل کی کہ اسرائیل کبھی اس صلاحیت کو ظاہر نہیں کرئیگااسلئےاس پر کوئی پابندیاں بھی نہیں لگیں گی ۔

میں تو یہ حقائق عوامی انداز سے بیان کر رہا ہوں۔ پاکستان یا کسی اور مسلم ملک کی یونیورسٹیوں کو اس پر باقاعدہ تحقیق کر کے اس کے خفیہ گوشے باہر لانے چاہئیں کہ اسرائیل کو بربریت کے اس مقام تک لے جانے میں کس کس ملک کا ہاتھ ہے ۔بھاری پانی جرمنی اور ناروے نے کب اور کتنا دیا ۔مالی امداد امریکہ فرانس اور جنوبی افریقہ نے کب دی۔ 1970 میں اسرائیل باقاعدہ ایٹمی طاقت بن چکا تھا۔ کیا 1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس میں اس کا حوالہ دیا گیا؟۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام تو اپنے ازلی دشمن بھارت کی ایٹمی صلاحیت کے حصول کے جواب میں تھا ۔اسرائیل کے ایٹمی پروگرام سے تو خطرہ عرب مسلم ممالک کو تھا ان میں سے کسی نے بھی ایٹم بم کیوں نہیں بنایا ۔انکے پاس تو دولت بھی تھی پھر وہ امریکہ کے اتحادی بھی تھے ان سے امریکہ نے کوئی خفیہ ڈیل کیوں نہیں کی دنیاصرف اسلامی ایٹم بم سے ہی کیوں خوف کھاتی ہے۔