امریکی محصولات کے اثرات سے نمٹنے کیلئے 10 نکاتی معاشی منصوبہ پیش کردیا:پیٹرک براؤن

برامپٹن(نمائندہ خصوصی) امریکی محصولات کے باعث سرحد پار تجارت میں پیدا ہونیوالی مشکلات اور کینیڈین کاروباری اداروں پر بڑھتے دباؤ کے پیش نظر سٹی آف برامپٹن نے مقامی روزگار اور کاروبار کے تحفظ، تجارتی منڈیوں میں تنوع، سرمایہ کاری کے فروغ اور طویل مدتی معاشی استحکام کیلئے 10 نکاتی منصوبہ متعارف کرا دیا۔

میئر پیٹرک براؤن نے کہا کہ برامپٹن کینیڈا کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والا صنعتی مرکز ہے اور امریکی محصولات سے پیدا ہونے والے نئے چیلنجز کے باوجود شہر اپنے کارکنوں، کاروباری اداروں اور کینیڈین ملازمتوں کے تحفظ کیلئے اقدامات جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق منصوبے کا مقصد کینیڈین کاروباروں کو ترجیح دینا، برامپٹن کی کمپنیوں کیلئے نئی منڈیاں تلاش کرنا اور روزگار پیدا کرنے والی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔

10 نکاتی منصوبہ میئر کی محصولات ٹاسک فورس اور شہر کے پہلے سے جاری محصولات سے متعلق عملی منصوبے کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے، جس کے تین بنیادی حصے تحفظ، مسابقت اور تعمیر ہیں۔

منصوبے کے تحت بلدیاتی خریداری میں کینیڈین کمپنیوں کو ترجیح دینے کی پالیسی مزید مضبوط کی جائیگی اور موجودہ معاہدوں کا جائزہ لے کر جہاں ممکن ہو امریکی کمپنیوں کے معاہدے ختم یا تبدیل کرکے کینیڈین متبادل تلاش کیے جائیں گے۔ شہر نے دیگر سرکاری اداروں اور پیل ریجن کو بھی اسی پالیسی پر عمل کرنے کی ترغیب دی ہے تاکہ ملکی سپلائی چین اور کینیڈین صنعت کو مضبوط بنایا جاسکے۔

برامپٹن کی صنعتی پیداوار کو تحفظ دینے کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے دفاعی شعبے، سرکاری گاڑیوں اور دیگر سرکاری خریداری میں کینیڈین مصنوعات اور مقامی صنعت کو زیادہ مواقع دینے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ شہر کے بڑھتے ہوئے ہوا بازی، دفاع اور خلائی شعبوں کو بھی نئی وفاقی سرمایہ کاری اور سرکاری خریداری سے فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔

محصولات سے متاثرہ کاروباروں کیلئے اقتصادی ترقی کے دفتر اور نئے برامپٹن بزنس گروتھ ایکسیلیریٹر کے ذریعے خصوصی معاونتی سہولت قائم کی جائے گی۔ وفاقی علاقائی محصولات ردعمل اقدام کے تحت 25 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری سے قائم ہونے والا یہ پروگرام کاروباری اداروں کو حکومتی معاونت، مالی مواقع، نئی مصنوعات اور منڈیوں، ابھرتے ہوئے شعبوں اور ماہرین تک رسائی میں مدد دے گا۔

کاروباری مسابقت بڑھانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی، خودکار نظام اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائیگی۔ علاقائی مصنوعی ذہانت اقدام کے تحت 27 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری سے بی نیکسٹ مصنوعی ذہانت پروگرام شروع کیا جائے گا، جسے بھائیو انوویشن اینڈ ٹریننگ ہب کے اشتراک سے چلایا جائے گا۔

امریکی منڈی پر انحصار کم کرنے کیلئے برامپٹن کی برآمدی تنوع مہم گو گلوبل برامپٹن کو مزید وسعت دی جائے گی۔ شہر کے مطابق پہلے ہی 310 کاروباری ادارے برآمدی تیاری کی تربیت میں شامل ہوچکے ہیں، جبکہ اب یورپ، ایشیا، میکسیکو اور کینیڈا کی دیگر منڈیوں میں کاروباری مواقع پیدا کرنے کیلئے تجارتی وفود، دوروں اور مخصوص منڈیوں پر توجہ دی جائے گی۔

شہر میں نئی سرمایہ کاری لانے کیلئے ’’انوَیسٹ برامپٹن‘‘ مہم شروع کی جائے گی، جس کے ذریعے جدید صنعتی پیداوار، اختراع، مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی علوم، رسد اور عالمی تجارت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کیا جائے گا۔

منصوبے کے تحت مقامی افرادی قوت، کاروباری تربیت، ہنرمندی اور روزگار کے مواقع میں بھی سرمایہ کاری جاری رکھی جائے گی، جبکہ کاروباری اداروں اور ترقیاتی منصوبوں کو وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی سطح پر دستیاب مالی مراعات اور معاونت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں مدد دی جائے گی۔

برامپٹن میں منظور شدہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو تیز کیا جائے گا تاکہ روزگار پیدا ہو، معاشی سرگرمی بڑھے اور آبادی میں اضافے، سامان کی نقل و حرکت، کاروباری توسیع اور روزگار تک رسائی کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔

دسویں نکتے کے تحت برامپٹن امریکی منتخب نمائندوں، کاروباری رہنماؤں، صنعتی اداروں اور سرحدی علاقوں کی کمیونٹیز کے ساتھ براہ راست رابطے بڑھائے گا تاکہ آزاد اور باہمی مفاد پر مبنی تجارت کیلئے حمایت حاصل کی جاسکے۔ شہر امریکی حکام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرے گا کہ محصولات دونوں ملکوں میں روزگار، کاروبار اور سرمایہ کاری کیلئے خطرہ ہیں۔

برامپٹن کے اقتصادی ترقی کے دفتر کے مطابق شہر مقامی اور کینیڈین کاروباری اداروں کو بدلتے ہوئے عالمی تجارتی حالات سے نمٹنے، نئی منڈیوں تک رسائی، برآمدی مواقع اور دستیاب حکومتی معاونت حاصل کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

اقتصادی ترقی کی ڈائریکٹر ڈینس میک کلور نے کہا کہ برامپٹن کی معاشی طاقت متنوع کاروباری برادری، ہنرمند افرادی قوت اور عالمی حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت پر قائم ہے، جبکہ نیا منصوبہ کاروباری اداروں کو فوری تجارتی دباؤ سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ طویل مدتی ترقی، سرمایہ کاری اور منڈیوں میں تنوع کیلئے واضح راستہ فراہم کرتا ہے۔