برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا اعلان

لندن(بی بی سی، برطانوی میڈیا)برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ سال موسمِ بہار سے 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل نے بھی حکومتی فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

برطانوی حکومت کے مطابق اس پابندی کا اطلاق اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک، یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بک اور ایکس سمیت مختلف سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور ایپس پر ہوگا، تاہم واٹس ایپ اور سگنل جیسے پیغام رسانی کے پلیٹ فارم اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔

شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے یہ ایک مثبت پیش رفت ہے اور آن لائن پلیٹ فارمز کو اس انداز میں ڈیزائن کیا جانا چاہیے کہ بچوں کی فلاح و بہبود کو منافع اور صارفین کی مصروفیت پر ترجیح دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے تحفظ کی ذمہ داری صرف والدین پر نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کی تجویز گزشتہ برس آسٹریلیا میں اسی نوعیت کی قانون سازی کے بعد برطانیہ میں بھی زور پکڑ گئی تھی۔ جنوری میں مختلف سیاسی جماعتوں نے اس کی حمایت کی، جبکہ بعد ازاں حکومت نے عوامی مشاورت کا آغاز کیا جس کے بعد موجودہ فیصلہ سامنے آیا۔

حکومت نے کہا ہے کہ جولائی میں مزید اقدامات کی تفصیلات جاری کی جائیں گی، جن میں رات کے اوقات میں سوشل میڈیا استعمال پر پابندیاں، مسلسل اسکرولنگ کی حد بندی اور ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) کے استعمال سے متعلق قواعد بھی شامل ہوں گے۔ سال کے اختتام تک ضوابط جاری کیے جائیں گے تاکہ والدین اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو تیاری کا وقت مل سکے، جبکہ ان قوانین پر مکمل عمل درآمد موسم بہار 2027 تک متوقع ہے۔

دوسری جانب ماہرین اور محققین کی آراء اس فیصلے پر منقسم ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایسا واضح سائنسی ثبوت موجود نہیں کہ سوشل میڈیا پر پابندی بچوں کی ذہنی صحت کو بہتر بنائے گی، اگرچہ ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم، سائبر بُلیئنگ، جسمانی خدوخال کے موازنے اور نقصان دہ مواد تک رسائی جیسے عوامل نوجوانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

آسٹریلیا کے ابتدائی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے بعض محققین کا کہنا ہے کہ پابندی کے اثرات کا مکمل جائزہ ابھی سامنے نہیں آیا، جبکہ ایک حالیہ سروے میں 70 فیصد بچوں نے بتایا کہ وہ پابندی کے باوجود محدود پلیٹ فارمز تک آسانی سے رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے، جس کے باعث کئی سائنس دانوں نے برطانوی حکومت کو آسٹریلیا کے مزید نتائج کا انتظار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

ادھر حکومتی اعلان کے بعد اس پابندی کے عملی نفاذ پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بیرونِ ملک سفر یا دولتِ مشترکہ کے دیگر ممالک میں رسائی کے حوالے سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جبکہ کچھ والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی بنیادی طور پر والدین کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ بعض افراد نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ اگر ایک ہی جماعت میں کچھ طلبہ 16 سال کے ہو جائیں اور کچھ نہ ہوں تو اس قانون پر یکساں عمل درآمد کیسے ممکن ہوگا۔