دِل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ محرم کے ان دس دِنوں میں ایسے واقعات ہوئے کہ لکھتے ہوئے ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ تین سال سے آٹھ سال کی عمر کے تین بچوں کو جس بے دردی سے زیادتی کے بعد قتل کیا گیا یہ تو کسی کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ گھر کے باہر نکلنے والا کوئی بچہ محفوظ نہیں ہے۔
جس ملک میں ایک نہیں دو دو سپریم کورٹ ہوں۔ ایک سپریم کورٹ اور دوسری آئینی سپریم کورٹ مگر ”انصاف دینے کے لئے سی سی ڈی کو استعمال“ کرنا پڑے، کیونکہ جب عدالتوں میں انصاف نہ ملے تو لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لیں گے یا پھر حکمرانوں کے بنائے ”پولیس نما ادارے“ خود انصاف ”بانٹنا“ شروع کر دیں گے اپنے ”بڑوں کے حکم“ کے مطابق۔ تو یہ ہے وہ پاکستان جس کا خواب علامہ اقبالؒ نے دیکھا اور قائد اعظمؒ نے اس کو پورا کر دکھایا۔
تکلیف ہو رہی ہے یہ لکھتے ہوئے کہ آج تین سالہ بچی کلثوم کو بھی ریپ کے بعد قتل کر دیا جاتا ہے۔ کلثوم کا قصور یہ تھا کہ وہ گھر سے باہر نکل گئی، پھر اس کے والد ڈھونڈتے رہے اور رات کے اندھیرے میں بیٹی کی بوری بند لاش انہیں اپنے گھر کے قریب ملی۔ کلثوم کا مظلوم باپ قاسم رو رو کر کہہ رہا ہے کہ اس کی کلثوم کا قصور اسے بتایا جائے جس لیڈی ڈاکٹر نے اس بچی کا پوسٹ مارٹم کیا ہے وہ کہتی ہے اس نے ایسی حیوانیت اور درندگی پہلے نہیں دیکھی۔ کلثوم کی موت اتنی تکلیف سے ہوئی کہ اس کے منہ اور ناک سے جھاگ بہہ رہی تھی۔ یہ ظلم عروس البلاد کراچی میں ہوا جو بلاول بھٹو زرداری، آصف علی زرداری اور مراد علی شاہ کا شہر ہے۔ اب خبر ہے کہ ملزموں کی تلاش کے لئے آئی جی سندھ نے ڈی آئی جی کی سربراہی میں آٹھ رکنی اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی بنائی ہے، لیکن آئی جی سندھ اس وقت کہاں تھے جب 22اپریل کو جیکسن (کراچی) میں ڈھائی سالہ صلاح الدین گھر سے غائب ہوتا ہے اور پھر تین دن بعد اس کی لاش نالے سے برآمد ہوتی ہے اور پھر جب ایک بچے کی لاش اس کی رہائشی بلڈنگ کے تہہ خانے میں پانی کے سٹور میں سات دن بعد ملتی ہے اگر ان ظالموں کو پکڑا جاتا اور انہیں عدالتوں سے سزا مل جاتی تو شاید کلثوم کے ساتھ یہ ظلم نہ ہوتا۔ دوسرا واقعہ سرگودھا کا ہے جہاں کارخانہ بازار بلاک آٹھ کی سات سالہ منتہا زہرہ گھر سے چند گز دور حنیف سٹور جاتی ہے تاکہ 50روپے کی ٹافی، بسکٹ، چاکلیٹ لے سکے اور پھر وہ غائب ہو جاتی ہے۔ اس کی تلاش شروع ہوتی ہے تو اس کی گلا کٹی لاش دکان کی تیسری منزل پر قائم سٹور میں بوریوں کے پیچھے ملتی ہے۔ زہرہ کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا ہوتا ہے۔جب زہرہ دکان میں گئی تو وہاں دکان کے مالک سمیت پانچ افراد تھے۔ ابتداء میں کہا گیا کہ دو افراد اس بچی کے ساتھ اوپر گئے تھے،جن میں سے ایک ارسلان کو سی سی ڈی نے بعد ازاں ”ہتھیار کی بازیابی“ کے نام پر رات کے اندھیرے میں ملزم کو اس کے ”ساتھیوں کے ہاتھوں“مروا دیا۔ ارسلان کے رشتہ داروں نے اس کی لاش وصول کرنے سے انکار کردیا۔اس کے گاؤں والوں نے اپنے گاؤں میں تدفین کرنے سے انکار کیا، جس کے بعد پولیس نے اسے قریبی گاؤں میں زبردستی دفنا دیا، حالانکہ وہاں کے لوگ بھی اعتراض کر رہے تھے۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم میں منتہا زہرہ کے جسم پر زخم کے سات نشان تھے۔ منتہا کے جسم سے حاصل کردہ مواد فرانزک لیباٹری لاہور بھیجا گیا ہے۔ عجب درفنطنی ہے پولیس مقابلے کے بعد مواد فرانزک لیبارٹری بھیجا گیا ہے۔ یہ ثابت کرنے کے لئے کون کون ملوث ہے۔ تو ارسلان کو کیوں مارا انتظار کرتے جو بھی ملزم ہوتے سب کو مارتے۔ سی سی ڈی کو یقینا ایسی اجازت ہے۔ (کئی ایسے ”مقابلے“ ہو چکے ہیں)۔ سی سی ڈی کے ارسلان کو مارنے کے فیصلے سے ”سوشل میڈیا کے شیر“ ارسلان کے علاوہ باقی سب کو بھی گنہگار قرار دے کے انہیں بھی جان سے مارنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
تیسرا کیس فیصل آباد کا ہے جہاں آٹھ سال کا شکیل اپنے گھر سے ٹھنڈی بوتل لینے نکلا تھا اور اس کی لاش اگلے دن ہمسائے انور علی کے گھر کے بیت الخلاء میں پائی گئی۔ انور علی اور اس کے اہل خانہ غائب ہو چکے ہیں۔ بدقسمت شکیل کی تشدد زدہ نعش کی گردن پر رسی سے گلا گھونٹے جانے کا نشان ہے۔ ابتدائی رپورٹ میں شکیل کو بدفعلی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
ماہ جون کے مزید واقعات میں حسن ابدال میں شقی القلب باپ نے رشتہ کے تنازع پر اپنی بیٹی بسمہٰ کو چھریوں سے وار کر کے مار ڈالا۔ مقتولہ کی ماں نے شوہر کے خلاف مقدمہ کرایا اور سی سی ڈی نے ”آلہ قتل کی برآمدگی“ کے دوران ملزم کو اس کے ساتھیوں کے ہاتھوں گولیوں سے چھلنی کروا دیا۔
کراچی میں ایک غریب خاتون کو ایک دکاندار نے راشن دینے کے بہانے اپنی دکان پر بلوایا اور پھر ملزم اسے اپنے ساتھی کی مدد سے گاڑی میں بٹھا کر ہاکس بے کے بے آباد علاقے میں لے گیا جہاں اس سے زیادتی کی اور زیادتی کی فلم بنانے کے بعد اسے دو ہزار روپے دیکر حب روڈ پر اتار دیا اور دھمکی دی کہ کسی کو بتایا تو فلم پوری دنیا کو دکھا دیں گے۔
ایبٹ آباد کی 32 سالہ صائمہ جسے اس کے سسرالیوں نے جلا ڈالا تھا۔ اسے جان بچانے کے لئے پمز ہسپتال اسلام آباد لایا گیا، مگر صائمہ جس کا 98 فیصد جسم جل چکا تھا دم توڑ گئی۔
کراچی میں ایک پولیس کانسٹیبل دعا نے اپنے شوہر حمزہ کو سابق شوہر فہد کی مدد سے مار ڈالا۔ دعا کے پہلے شوہر فہد سے تین بچے بھی تھے مگر فہد سے تعلق خراب ہونے پر طلاق لے کر اس کے دوست حمزہ سے شادی کرلی اور پھر چند دن بعد ہی فہد کی مدد سے حمزہ کو مار ڈالا۔ حمزہ کی دعوت ولیمہ 18 جون کو ہونی تھی، مگر اس سے پہلے ہی اپنی ”دلہن کے ہاتھوں اللہ کو پیارا“ ہو گیا۔
کراچی میں ایک 18 سالہ لڑکی مصباح کو اپنی پسند کی شادی کی سزا ملی اور اسے اس کے شوہر شہریار نے ”جہیز کے مطالبات“پورے نہ ہونے پر قتل کر دیا۔ مصباح کی والدہ کے مطابق شادی کے بعد اس کے داماد نے جہیز کے لئے بلیک میل کیا۔ پھر سات مئی کو مصباح کے شوہر نے اسے مار پیٹ کر گھر سے نکالا اس کے جسم پر گہرے زخم تھے۔ پسند کی شادی کرنے والی مصباح نو جون کو ہسپتال میں انتقال کر گئی۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ملزم کی یہ چوتھی شادی تھی خبر نگار نے یہ نہیں لکھا کہ پہلی تین بیویوں سے ملزم نے کیا سلوک کیا تھا۔
اب ہمیں انتظار ہے کہ ان سب افراد کے ساتھ سی سی ڈی اور سندھ پولیس کب انصاف کرے گی، کیونکہ ہماری عدالتوں میں تو انصاف شاید صرف طاقتوروں کے نصیب میں لکھا گیا ہے۔

