کسی بھی حکومت کے ابتدائی سال کبھی کامل اورنتائج دینے والے نہیں ہوتے،ہاں اس کے اختیار کردہ راستے اسکی منزل کا پتہ ضرور دیتے ہیں، موجودہ پنجاب حکومت کے دو کاموں نے گزشتہ دو سالوں میں کمال کیا اور بتا دیا کہ کام اور خدمت یہ ہوتی ہے،،ستھرا پنجاب،، اور ،، سی سی ڈی،، نے پنجاب کے شہروں کے طول و عرض کو گندگی اور جرائم سے پاک صاف کرنے کے لئے مثالی کام کیا اور پنجاب کے چہرے کو کافی حد تک اجلا بنا دیا ،گزشتہ دنوں پنجاب حکومت کی طرف سے دو سال مکمل ہونے پر میڈم وزیر اعلیٰ کے ہر چھوٹے بڑے کام پر ڈنکے بجائے گئے ، اشتہاروں ،فلیکسوں اور بینروں کی بھر مار کی گئی مگر دو کام ایسے نظر آئے جن پر واقعی تحسین بنتی ہے، ان دو کاموں کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے، ان میں اولین ستھرا پنجاب پروگرام اور دوئم سی سی ڈی کے ذریعے جرائم اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف پولیس کاروائیاں ہیں ۔
صفائی کیلئے گلی ،محلوں اور سڑکوں پر چلنے والی مشینری اور جرائم کےخاتمے کیلئے نیفے میں چلنے والے پستولوں نے ریاستی عزم کو واضح کیا اور کمزور طبقے کو یہ احساس دیا کہ ریاست ابھی زندہ ہے، یہ دونوں اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکمرانی محض نعروں سے نہیں، فیصلوں اور عمل سے بہتر ہوتی ہے،ستھرا پنجاب کی محنت اور سی سی ڈی کی کاروائیوں سے گزشتہ سالوں کے دوران پنجاب میں حکمرانی کے حوالے سے ایک نمایاں تبدیلی محسوس کی گئی جو صرف بیانات یا فائلوں تک محدود نہیں رہی بلکہ زمین پر ایسے عملی اقدامات سامنے آئے جن کے اثرات عام شہری کی روزمرہ زندگی تک پہنچے،اگرچہ کسی بھی حکومت کے کام کو مکمل یا بے عیب قرار دینا حقیقت پسندانہ نہیں مگر ان کاموں نے پچھلے سال پنجاب حکومت کی کارکردگی کو واضع طور پر نمایاں کیا،یہ منصوبے بظاہر مختلف نوعیت کے ہیں مگر حکمرانی کے ایک ہی فلسفے کی کڑیاں ہیں جس کے ذریعے عوامی سہولت ،ریاست کی عملداری کی بحالی اور قانون کی بالادستی نظر آنا ہے ۔
ستھرا پنجاب،پروگرام محض صفائی نہیں، نظام کی تبدیلی ہے اسے اگر محض ایک صفائی مہم سمجھا جائے تو یہ اس منصوبے کے ساتھ ناانصافی ہوگی، یہ دراصل ایک ہمہ گیر ویسٹ مینجمنٹ ریفارم تھا جس کا مقصد صرف کوڑا اٹھانا نہیں بلکہ صفائی کے پورے نظام کو ادارہ جاتی شکل دینا تھا، ماضی میں صفائی کے منصوبے اکثر وقتی، غیر مربوط اور سیاسی تشہیر تک محدود رہے، مگر ستھرا پنجاب میں پہلی مرتبہ دیہی اور شہری علاقوں کو ایک ہی فریم ورک میں لایا گیا، یونین کونسل کی سطح تک صفائی کے ذمہ دار ادارے، واضح اہداف، مانیٹرنگ سسٹم اور کارکردگی سے مشروط ادائیگیوں کا تصور متعارف کرایا گیا، اہم بات یہ تھی کہ صفائی کے عملے کو محض ڈیلی ویجز یا نظر انداز طبقہ نہیں سمجھا گیا بلکہ انہیں نظام کا لازمی ستون قرار دیا گیا، حفاظتی کٹس، حاضری کا ڈیجیٹل نظام، اور شکایات کے فوری ازالے نے عملے کا مورال بہتر کیا، ستھرا پنجاب کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ عوام نے فرق محسوس کیا، گلی محلوں میں کوڑا پڑا رہنا، دیہات میں کھلے ڈھیر، اور شہروں میں بدبو اب معمول نہیں رہے، اگرچہ مسائل اب بھی موجود ہیں، مگر صفائی اب حکومت کی ترجیح بن چکی ہے اور میرے خیال میں گزشتہ سالوںکی کارکردگی میں یہ پنجاب حکوت کا نمبر ون کام رہا۔
ستھرا پروگرام ، کے ذریعے ڈیجیٹل مانیٹرنگ متعارف کروائی گئی، آج لاہور کے مختلف علاقے ہوں یا پنجاب کا کوئی دور دراز مقام سب جگہ واضح فرق دکھائی دیتا ہے، ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے نظام میں شفافیت، ورک پلان اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے ایپ کا آغاز وہ اقدامات ہیں جنہوں نے دوسرے صوبوں کے لیے اسے ایک مثالی ماڈل بنا دیا، وزیر اعلیٰ مریم نواز،چیف سیکرٹری زاہد زمان ،سیکرٹری بلدیات میاں شکیل خود فیلڈ میں نکلے ، صفائی کے عمل کا معائنہ کیا، ورکرز سے ملاقاتیں کیں اور عوام کو بھی صفائی کے شعور میں شامل کیا ،اس پروگرام اور اتھارٹی کے سربراہ بابر صاحب دین ایک محنتی افسر ہیں وہ شاباش کے مستحق ہیں۔
دوسری طرف سی سی ڈی، جرائم کے خلاف اسٹرکچرل وار اور اس کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ اس وار کے ہیرو بن گئے ، پنجاب میں جرائم ہمیشہ سے ایک پیچیدہ مسئلہ رہے ہیں، خاص طور پر منظم جرائم، گینگز، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور مافیا کلچر نے ریاستی رٹ کو چیلنج کیے رکھا، روایتی پولیسنگ ان چیلنجز سے نمٹنے میں اکثر ناکام رہی، اسی تناظر میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کا قیام ایک غیر معمولی اور جرات مندانہ فیصلہ تھا، سی سی ڈی کو عام پولیس سے الگ، خصوصی اختیارات، جدید ٹیکنالوجی اور منتخب افسران کے ساتھ فعال کیا گیا، یہ محض ایک نیا محکمہ نہیں بلکہ جرائم کے خلاف اسٹریٹیجک اپروچ تھی۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، خطرناک مجرموں اور ڈرگ ڈیلرز کی فہرستیں، ڈیٹا اینالیسز، اور ٹارگٹڈ کارروائیاں سی سی ڈی کی شناخت بنیں، سی سی ڈی پر تنقید بھی ہوئی، خاص طور پر اختیارات کے غلط استعمال کے خدشات پر، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پچھلے سالوں میں سنگین جرائم میں کمی اور متعدد بدنام گینگز کے خاتمے نے اس ادارے کی افادیت ثابت کی، سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ ریاست نے واضح پیغام دیا کہ جرائم اب ناقابل برداشت ہیں، یہ پیغام نہ صرف مجرموں تک پہنچا بلکہ عام لوگوں کے اعتماد کی بحالی کا سبب بھی بنا کیوںکہ ایک سوال اٹھتا تھا کہ کیا انصاف اور تحفظ عام شہری کی پہنچ میں ہے؟ ہر روز میڈیا پر چلنے والی خبریں، عدالتوں میں برسوں سے زیرِ سماعت مقدمات اور عوام کی بے بسی یہ بتانے کے لیے کافی تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اجتماعی طور پر سوچیں ،اجتماعی ازسرِنو سوچ کا مطلب ہے کہ قوم مل کر اپنے نظام، رویّوں اور فیصلوں پر دوبارہ غور کرے، صرف حکومت نہیں بلکہ عوام، میڈیا، عدلیہ، وکلا، پولیس اور باقی ادارے مل کر دیکھیں کہ ہم کہاں غلط ہیں ؟ کیا درست کیا جا سکتا ہے؟یہ وہ عمل ہے جو دنیا کے ہر ترقی یافتہ ملک نے کسی نہ کسی وقت ضرور اپنایا، بھارت نے اپنی پولیس اور عدلیہ کے نظام میں کئی بار بڑی اصلاحات کیں، ہمیں بھی اجتماعی طور پر اپنے عدالتی اور پولیس نظام پر ازسرِنو غور کرنا ہوگا ، سی سی ڈی اگر ہمارے مسائل حل کرتی ہے تو پھر کیا برا ہے؟
میرے ایک دوست کو رہنے کیلئےگھر درکار تھا ،میرے ہمراہ ایک پراپرٹی ڈیلر سے انکی ملاقات ہوئی ، میرا دوست سیکیورٹی پوائنٹ آف ویو کی وجہ سے کسی گیٹیڈسوسائٹی کا خواہش مند تھا تو اسے بتایا گیا کہ سی سی ڈی کی وجہ سے ہر طرف امن ہے ، جرائم پیشہ افراد انڈر گراونڈ ہو چکے ہیں یا ملک چھو ڑ کر بھاگ گئے ہیں،یہ سن کر اچھا لگا ،ستھرا پنجاب اور سی سی ڈی کے مافیا کیخلاف آپریشنز کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو ایک واضح پیٹرن سامنے آتا ہے، ریاست کا واپس آنا، یہ اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ حکومت نے کم از کم کچھ شعبوں میں کمپرومائز کی پالیسی چھوڑ کر عملداری کی راہ اختیار کی اور اگر یہی سمت برقرار رہی تو پنجاب واقعی ایک بہتر، صاف ستھرا ، تحفظ والا اور باوقار صوبہ بننے جا رہا ہے۔

