لانگ مارچ: ”گورنر راج“ یا ”ایمرجنسی“ کے بعد کیا ہوگا؟

وطن عزیز کیلئے بُری خبر یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں خدانخواستہ کوئی بڑا ”بلنڈر“ ہونے جا رہا ہے،،، یہ بلنڈر تحریک انصاف کی طرف سے لانگ مارچ کے اسلام آباد کی قریب پہنچنے پر بھی ہو سکتا ہے،،،اور حکومت کے صوبہ کے پی کے میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے سے بھی ہو سکتا ہے،،، دونوں صورتوں میں وطن عزیز کیلئے تباہی ہی ہے،،، کیوں کہ تادم تحریک پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد پی ٹی آئی کا ضلع لکی مروت سے شروع ہونے والا لانگ مارچ اتوار کے شب” کرک “پہنچ گیا،،، (یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ کرک خیبر پختونخواہ کا اہم ضلع ہے جو پشاور سے 130کلومیٹر اوراسلام آباد سے ڈھائی سو کلومیٹر دور ہے،،، )۔جبکہ پی ٹی آئی نے اپنے لانگ مارچ کا آغاز اتوار کی دوپہر ایسے وقت میں کیا تھا جب جمعہ اور ہفتے کو سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں ہونیوالے مذاکرات کے دو ادوار ناکام رہے تھے۔وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ ہفتے کی شب مذاکرات میں ’99 فیصد معاملات طے‘ پا چکے تھے، لیکن وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ان مذاکرات کو سبوتاژ کیا جبکہ تحریکِ انصاف کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی وجہ عمران خان تک رسائی کا بنیادی مطالبہ تسلیم نہ کرنا اور شدت پسندی سے نمٹنے سے متعلق حکومتی مطالبے سے تھا۔خیراب تازہ صورتحال کے مطابق لانگ مارچ ابھی تک کرک میں رکا ہوا ہے،،، اور اندر کھاتے کہیں نہ کہیں مذاکرات چل رہے ہیں،،، جبکہ دوسری جانب پنجاب پولیس کے حکام نے مظاہرین کو خیبر پختونخوا سے پنجاب کی حدود میں داخل ہونے سے روکنے کیلئےاٹک میں تعینات پولیس فورس کو الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔جبکہ اس وقت اٹک میں پنجاب پولیس کے 20 ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات ہیں جنھیں سٹینڈ بائی رکھا گیا ہے۔ یعنی انہیں ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ایسے مقامات پر رہیں جہاں پر ہنگامی صورت حال میں وہ پندرہ سے بیس منٹ کے دوران ان پوائنٹس پر پہنچ سکیں جہاں پر انھیں تعینات کیا گیا ہے۔اگرچہ اٹک کو خیبر پختونخوا کے شہروں سے ملانے والے راستے کھلے ضرور ہیں لیکن وہاں پرمزید کنٹینرز رکھ کر گزرنے والی جگہ کو تنگ کر دیا گیا ہے۔ جہاں پر دو گاڑیاں گزرنے کی جگہ تھی، وہاں پر کنٹینرز رکھ کر ایک گاڑی گزرنے کی گنجائش ہے۔

اب اگر خدانخواستہ مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پھریا تو تصادم ہوگا یا صوبے میں ایمرجنسی ڈکلیئر کر دی جائیگی یا گورنر راج لگا دیا جائیگا،،، اب اگر ایمرجنسی یا گورنر راج لگتا ہے تو ان دونوں صورتوں کے ہمارے آئین میں الگ الگ طریقہ کار بھی بتائے گئے ہیں،،، جیسے ایمرجنسی میں صوبائی حکومت لازماً ختم نہیں ہوتی، جبکہ آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج میں وفاق صوبائی حکومت کے بعض یا تمام اختیارات سنبھال سکتا ہے۔یعنی کے پی میں ایمرجنسی کیسے لگے گی؟ تو آرٹیکل 232کے مطابق (اگر ایسی سنگین صورتحال ہو جس میں پاکستان کی سلامتی کو جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی اندرونی بدامنی سے خطرہ ہو جسے صوبائی حکومت اپنے اختیار سے کنٹرول نہ کر سکے تو صدرِ پاکستان ایمرجنسی کا اعلان کر سکتے ہیں۔)لیکن موجودہ آئینی متن کے مطابق اگر وجہ صوبے میں اندرونی بدامنی ہو تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد درکار ہے۔ اگر صدر اپنے طور پر اقدام کرتے ہیں تو اعلان کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے منظوری کیلئے پیش کرنا ہوتا ہے۔جبکہ ایمرجنسی کے دوران وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو ہدایات دے سکتی ہے۔پارلیمنٹ صوبے کے ایسے معاملات پر بھی قانون سازی کر سکتی ہے جو عام حالات میں صوبائی اختیار میں ہوں۔وفاقی حکومت بعض صوبائی انتظامی اختیارات خود سنبھال سکتی ہے یا گورنر کو وفاق کی جانب سے استعمال کرنے کی ہدایت کر سکتی ہے۔یہاں یہ بات بھی بتاتا چلوں کہ گورنر راج لگنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر سرکاری افسر تبدیل ہو جاتا ہے۔ عموماً موجودہ بیوروکریسی، چیف سیکرٹری، آئی جی، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز وغیرہ انتظامی مشینری چلاتی رہتی ہے؛ فرق بنیادی طور پر سیاسی، وآئینی اختیار کے مرکز میں آتا ہے۔جبکہ دونوں صورتوں میں عدالتوں کا آئینی کردار برقرار رہتا ہے؛ خاص طور پر آرٹیکل 232 میں ہائی کورٹس کے اختیارات وفاق اپنے ہاتھ میں لینے کا مجاز نہیں ہے۔

اس لیے آپ کہہ سکتے ہیں کہ حالات کچھ بھی ہوں، مگر ہر صورت میں پاکستان ہی مشکلات سے دوچار ہوگا،،، کیوں کہ ایسا کرنے سے ہر بار پاکستان آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے چلا گیا ہے،،، یعنی آپ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا،،،کیونکہ گورنر راج کی صورت میں وہاں عوام میں بغاوت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،،، کیوں کہ کے پی کے عوام غیور اور جنگجو طبیعت کے ہیں،،، وہ کبھی بھی اسے قبول نہیں کریں گے،،، نہیں یقین تو آپ خود دیکھ لیں کہ جب جب کے پی کے میں گورنر راج لگا تب ہی وہاں حالات پہلے سے زیادہ بدتر ہوئے،، یعنی خیبر پختونخواہ میں 1975ءمیں بھٹو دور میں پہلا گورنر راج نافذ کیا گیا،،، یہ بحران حیات محمد خان شیرپاو¿ کے قتل کے بعد پیدا ہوا۔ اُس وقت صوبے میں سردار عنایت اللہ گنڈاپور کی حکومت تھی۔ گورنر راج نافذ کرکے صوبائی حکومت ختم کی گئی اور تقریباً ڈھائی ماہ بعد نئی حکومت قائم ہوئی۔اس کے سیاسی اثرات کافی گہرے تھے۔ نیشنل عوامی پارٹی (NAP) کے خلاف وفاقی کارروائی، اس کی پابندی اور اس کے رہنماو¿ں کی گرفتاریوں نے صوبے میں سیاسی کشیدگی بڑھائی۔ بعد میں پیپلز پارٹی نے صوبے میں اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کی۔جبکہ اس گورنر راج کی وجہ سے وہاں کے عوام شدید ذہنی اضطراب میں مبتلا رہے،،، اوراُس وقت کا سیاسی ماحول شدید کشیدہ تھا اور اپوزیشن قوتوں نے اسے وفاقی مداخلت کے طور پر دیکھا۔جبکہ 1994میں بے نظیر بھٹو دورمیں دوسرا گورنر راج لگایا گیا،،، جس کی مدت دو ماہ تھی،،، یہ واقعہ زیادہ واضح طور پر مرکزی اور صوبائی سیاسی کشمکش کا نتیجہ تھا۔ صوبے میں پیر صابر شاہ کی مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی، جبکہ مرکز میں بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی حکومت میں تھی۔ اسمبلی میں وفاداریاں تبدیل ہونے اور حکومت کی اکثریت کے بحران کے بعد صدر فاروق لغاری نے صوبائی اسمبلی کو تحلیل کرکے گورنر راج نافذ کیا۔اس فیصلے کے خلاف اپوزیشن نے Save NWFP مہم شروع کی۔ پشاور سے اسلام آباد تک احتجاجی سرگرمیاں ہوئیں اور سیاسی محاذ آرائی بڑھی۔ گورنر راج کے بعد PPP حکومت قائم کرنے کی کوشش نے صوبے میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھائی۔ یعنی 1994 میں عوامی سطح پر اسے غیر متنازع طور پر قبول نہیں کیا گیا؛ سیاسی مخالفت خاصی نمایاں تھی۔

پھر مشرف دور میں یہاں تیسرا گورنر راج قائم کیا گیا،،، یہ سب سے مختلف اور طویل مرحلہ تھا۔یعنی12 اکتوبر 1999 کو جنرل پرویز مشرف نے وفاقی حکومت کا تختہ الٹا اور ملک میں فوجی حکومت قائم ہوئی۔ اس کے نتیجے میں تمام صوبائی اسمبلیاں بھی معطل ہوئیں اور صوبوں کا انتظام گورنروں کے ذریعے چلایا گیا۔ خیبر پختونخوا میں یہ انتظام 2002 کے انتخابات تک تقریباً تین سال جاری رہا۔یہاں ایک اہم فرق ہے: 1999 کا گورنر راج صرف خیبر پختونخوا کے لیے الگ سے سیاسی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ملک گیر فوجی اقتدار کی تبدیلی کا حصہ تھا۔2002 کے انتخابات کے بعد صوبے میں دوبارہ منتخب سیاسی حکومت وجود میں آئی۔

الغرض تینوں گورنر راج ادوار میں کبھی بھی ایسا انتظام نہیں رہا جسے پورے صوبے نے یکساں طور پر قبول کیا ہو۔ ہر دور میں سیاسی جماعتوں، اسمبلی اور عوامی حلقوں کا ردعمل مختلف رہا،بلکہ اس سے مرکز کے خلاف نفرتوں میں اضافہ ہی ہوا تھا،،، لہٰذااب کی بار بھی یہ کامیاب نہیں ہوگا،،،ا ور ایسا کرنے سے وہاں کے عوام مرکز اور پنجاب سے نفرتیں بڑھائیں گے،،، اور ویسے بھی ہم ابھی تک صوبہ بلوچستان کے عوام کی نفرتیں برداشت کر رہے ہیں تو ایسے میں ہم کے پی کے عوام کی نفرتیں برداشت نہیں کر پائیں گے،،، اس لیے جو بھی فیصلہ کریں وہ ملکی مفاد میں سوچ سمجھ کر کر یں!

بہرکیف دیکھا جائے تو اس وقت ملک میں نیشنل ایمرجنسی کا جواز نہیں بنتا۔ صدر پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007ءکو بطور آرمی چیف‘ کور کمانڈرز کانفرنس کی منظوری کے بعد ملک میں نیشنل ایمرجنسی لگائی تھی اور اس اقدام نے آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت ان پر مقدمہ چلانے کی راہ ہموار کر دی تھی۔ حالانک بعد ازاں بطور صدر انہوں نے کابینہ سے منظوری لی تھی‘ قومی اسمبلی سے بھی توثیق کرائی تھی اور سپریم کورٹ نے بھی اس کی توثیق کر دی تھی لیکن ان کے زوال کے بعد وزارتِ داخلہ کی سفارش پر مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ دائر کر دیا گیا۔ چودھری نثار علی خان مشرف کو محفوظ راستہ دینے کیلئے کوشاں رہے اور بعد ازاں مشرف خاموشی سے ملک سے باہر چلے گئے۔ ان کی عدم موجودگی میں مقدمہ کی کارروائی جاری رہی اور دسمبر 2019ءمیں جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں خصوصی عدالت نے سزائے موت کا فیصلہ سنایا تاہم جنوری 2020ءمیں لاہور ہائیکورٹ نے یہ سزا معطل کر دی۔ جنوری 2024ءمیں قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کر کے سزائے موت کے فیصلے کو بحال کر دیا‘ تاہم اس وقت تک طبعی طور پر مشرف وفات پا چکے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد وزرائے اعلیٰ آئینی طور پر مضبوط ہوئے ہیں اور وفاق کا اثر و رسوخ برائے نام رہ گیا ہے۔ تاہم وفاقی وزرا کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت کی رخصتی کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ مذاکرات میں کوئی بریک تھرو ہو جائے گا اور معاملات اس نہج تک نہیں پہنچیں گے مگر یکایک صورتحال تبدیل ہو گئی ہے۔ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں میں ایسے افراد موجود ہیں جو اشتعال پھیلا کر اپنے مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں۔ اگر گرینڈ مذاکرات ہوں تو تمام معاملات سلجھ سکتے ہیں لہٰذا مثبت فیصلوں سے عوام کو سیاسی بحران سے نکالنا ہوگا۔ بعض وزرا اپنے سیاسی بیانیے سے مقتدرہ کیلئے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔ مقتدرہ مارچ 2027ءسے پہلے صوبوں کا معاملہ حل کرنا چاہتی ہے ۔۔۔ کیونکہ اسے اور بھی بہت سے” معاملات“ کو دیکھنا ہے!