نیویارک(ایجنسیاں) امریکی وفاقی عدالت نے بزرگ شہریوں کیلئے قائم بالغ افراد کے ڈے کیئر مراکز اور گھر پر صحت کی سہولتوں کے ذریعے میڈی کیڈ سے تقریباً 18 ارب 86 کروڑ روپے کے فراڈ کی اسکیم میں مرکزی کردار ادا کرنے والی 55 سالہ ذکیہ خان کو 76 ماہ قید کی سزا سنا دی۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ذکیہ خان کو وفاقی جج نتاشا سی مرلے نے سزا سنائی۔ عدالت نے انہیں 15 ارب 53 کروڑ روپے سے زائد بطور زرِ تلافی ادا کرنے اور تقریباً ایک ارب 39 کروڑ روپے کے فراڈ سے حاصل شدہ اثاثے ضبط کرنے کا حکم دیا، جن میں دو جائیدادیں، نقد رقم اور گھر سے برآمد کیا گیا سونا شامل ہے۔
فردِ جرم کے مطابق ذکیہ خان اور احسن اعجاز بروکلین میں ’’ہیپی فیملی سوشل ایڈلٹ ڈے کیئر سینٹر‘‘ اور ’’فیملی سوشل ایڈلٹ ڈے کیئر سینٹر‘‘ کے مالک تھے، جبکہ ان کی ملکیت میں ’’ریسپانسبل کیئر اسٹافنگ‘‘ نامی ادارہ بھی تھا جو نیویارک کے میڈی کیڈ پروگرام کے تحت گھر پر دیکھ بھال کی خدمات کیلئے مالیاتی واسطہ کار کے طور پر کام کرتا تھا۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق اکتوبر 2017 سے جولائی 2024 تک مارکیٹرز ایلین انٹاؤ، اومنہ حمڈی اور منال واصف مبینہ طور پر میڈی کیڈ کے مستحق افراد کو ان اداروں تک لاتی رہیں۔ الزام کے مطابق ان مارکیٹرز نے مستحق افراد کو ایسی بالغ افراد کی ڈے کیئر اور گھر پر دیکھ بھال کی خدمات کیلئے رشوت اور غیرقانونی ادائیگیاں دیں جو یا تو فراہم ہی نہیں کی گئیں یا رشوت اور ترغیب کے ذریعے حاصل کی گئی تھیں۔
فردِ جرم کے مطابق انصر عباسی، جنہیں زائب عباسی اور انصر زائب کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اور عمران ہاشمی مبینہ طور پر ڈے کیئر مراکز اور مارکیٹرز کے انتظامی امور دیکھتے تھے۔ ذکیہ خان، ایلین انٹاؤ، احسن اعجاز، انصر عباسی اور اومنہ حمڈی پر مبینہ طور پر فراڈ سے حاصل رقم کو مختلف کاروباری اداروں کے ذریعے چھپانے اور رشوت کیلئے نقد رقم تیار کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا تھا۔
فردِ جرم میں ذکیہ خان، احسن اعجاز، انصر عباسی، ایلین انٹاؤ، اومنہ حمڈی، عمران ہاشمی، سیما میمن اور منال واصف سمیت کل 8 افراد نامزد کیے گئے تھے۔ سیما میمن ہیپی فیملی کی ملازمہ تھیں اور فردِ جرم میں شامل کیے جانے سے قبل یکم جولائی 2024 کو شکایت کی بنیاد پر ان پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ذکیہ خان پر صحت کی سہولتوں کے فراڈ کی سازش، صحت کی سہولتوں کے فراڈ کے تین الزامات، امریکی حکومت کو دھوکا دینے اور صحت کی سہولتوں کیلئے غیرقانونی رقوم دینے اور وصول کرنے کی سازش، غیرقانونی رقوم کی ادائیگی، منی لانڈرنگ کی سازش اور منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
بعد میں ذکیہ خان نے اگست 2025 میں اپنے خلاف عائد الزامات کا اعتراف کرلیا۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق 2017 سے 2024 کے دوران ہیپی فیملی اور فیملی سوشل نے میڈی کیڈ کو تقریباً 17 ارب 75 کروڑ روپے کے جعلی دعوے جمع کرائے، جن پر پروگرام سے تقریباً 15 ارب 53 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
امریکی محکمہ انصاف کی ابتدائی فردِ جرم میں مجموعی فراڈ اسکیم کی مالیت تقریباً 18 ارب 86 کروڑ روپے بتائی گئی تھی۔ حکام کے مطابق یہ اسکیم رشوت، غیرقانونی ادائیگیوں اور ایسی خدمات کے جعلی دعووں پر مبنی تھی جو فراہم نہیں کی گئی تھیں۔ فردِ جرم میں نامزد تمام افراد کو اس مرحلے پر بے گناہ تصور کیا جاتا تھا جب تک عدالت میں ان کا جرم ثابت نہ ہوجائے۔
عدالت نے ستمبر 2026 میں ذکیہ خان کو 76 ماہ قید کی سزا سناتے ہوئے حکومت کو رقم واپس کرنے اور فراڈ سے حاصل شدہ اثاثے ضبط کرنے کا حکم دیا۔

