اونٹاریو(نمائندہ خصوصی)پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کینیڈین ارکانِ پارلیمنٹ روبی سہوتااوراقویندر سنگھ گاہیر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں مذہبی ہم آہنگی، ثقافتی تنوع، بین المذاہب رواداری اور پاکستان میں سکھ مذہبی ورثے کے تحفظ سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقاتوں کے دوران سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کینیڈین پارلیمنٹیرینز کو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے تحت صوبے میں 50 تاریخی گوردواروں کی بحالی اور تحفظ کے منصوبے سے آگاہ کیا۔
انہوں نے عالمی سکھ سنگت اور کینیڈا میں مقیم سکھ برادری کو دعوت دی کہ وہ بحال کیے جانے والے تاریخی گوردواروں کی دیکھ بھال، انتظام و انصرام اور حفاظت میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس موقع پر سکھ مذہبی ورثے کو محفوظ بنانے کیلئے بین الاقوامی برادری کی شمولیت کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
سردار رمیش سنگھ اروڑا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کرتارپور راہداری کو محفوظ، کھلا اور دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کیلئے قابلِ رسائی رکھنے کیلئے پُرعزم ہے۔
ملاقاتوں میں گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور میں یاتریوں کو فراہم کی جانے والی سہولتوں اور بھارتی جانب سے راہداری کے ذریعے رسائی پر عائد پابندیوں سے متعلق تحفظات پر بھی گفتگو ہوئی۔ملاقاتوں میں مذہبی رواداری کے فروغ، اقلیتوں کے مذہبی مقامات کے تحفظ اور پاکستان کے تاریخی و ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانے کیلئےباہمی تعاون کی اہمیت اجاگر کی گئی۔

