ڈپٹی کمشنر ،سیاسی طاقت اور کرپشن

پنجاب کی سیاست میں کرپشن کا الزام کوئی نئی بات نہیں، ہر دور میں حکومتیں اپنے آپ کو شفاف اور سابقہ حکومتوں کو کرپٹ قرار دیتی رہی ہیں، مخلوط حکومتوں میں یہ آواز اپنی ہی حکومت کے خلاف بھی اٹھتی رہتی ہے ، کبھی فائلوں ،کبھی ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کی بات کی گئی تو کبھی انتظامیہ کے دفاتر کو کرپشن کے مراکز قرار دیا گیا لیکن حالیہ سیاسی بحث میں ایک مرتبہ پھر پنجاب، کرپشن اور خاص طور پر ڈپٹی کمشنر کی پوسٹنگ ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں،وفاقی وزیر سالک حسین کی جانب سے پنجاب حکومت اور انتظامی معاملات کے حوالے سے عائد کیے جانے والے الزامات اور اس کے جواب میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا جواب ایک نئی بحث کو جنم دیتا ہے، ایک طرف کرپشن کے الزامات ہیں، دوسری طرف وزیراعلیٰ کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے ایک دھیلے کی بھی کرپشن نہیں کی،وزیراعلیٰ نے الزام لگانے والوں سے ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ کیا اور معاملہ ہتکِ عزت کے قانونی نوٹس تک جا پہنچا ہے، پنجاب کے موجودہ انتظامی حالات میں یہ بات درست ہے کہ سیکرٹریوں، کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کی بڑی تعداد کی تقرری کے معاملے میں سیاسی سفارش اور کھلی سیاسی مداخلت کا تاثر نسبتاً کم دکھائی دیتا ہے،یہ کہنا شاید درست نہ ہو کہ پورا نظام مکمل طور پر سیاسی اثر سے پاک ہو چکا ہے، لیکن مجموعی مشاہدہ یہ ہے کہ پنجاب میں کئی اہم انتظامی عہدوں پر تجربہ رکھنے والے، اچھی شہرت کے حامل اور نسبتاً بہتر کارکردگی والے افسر تعینات کیے گئے ہیں، چیف سیکرٹری اور وزیراعلیٰ کی سطح پر انتظامی ٹیم کی تشکیل میں کارکردگی، تجربے اور گورننس کی ضرورت کو اہمیت دی گئی ہے جو ایک مثبت پہلو ہے۔

آج اگر آپ صوبائی دارلحکومت لاہور ہی کو لے لیں تو یہاں ڈپٹی کمشنر کیپٹن علی اعجاز کسی سیاست سے بالا صرف اپنی اہلیت کے سبب تعینات ہوئے ہیں ،وہ ماضی میں دو تین حکومتوں میں بھی اسی لئے اچھے افسر کے طور جانے جاتے تھے کہ وہ کسی سیاسی معاملہ کی بجائے انتظامی امور پر توجہ دیتے تھے ،لاہور ہی میں کچھ عرصہ قبل ایک بٹ صاحب سیاسی سفارش سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو جیسی اہم پوسٹ پر تعینات ہو گئے مگر نظام میں شفافیت کی وجہ سے چل نہ سکے اور اب یہاں بھی ایک نیک نام اور محنتی افسر حافظ کریم داد عام لوگوں کی دعائیں سمیٹ رہے ہیں،اسی طرح اٹک میں مدثر احمدشاہ،لودھراں میں محمد اشرف،مری میں آغا ظہیرعباس،ملتان میں فیصل سلیم،وہاڑی میں خالد جاوید گورایہ جیسے ڈپٹی کمشنر ،ایسی مثالیں ہیں جو پہلے ادوار میں بھی اہلیت اور قابلیت کے بل بوتے پر اچھی پوسٹوں پر لگتے رہے ہیں۔

پاکستان میں ڈپٹی کمشنر کا عہدہ آج محض ایک انتظامی پوسٹ نہیں رہا، اگرچہ نظام تبدیل ہو چکا ہے، بلدیاتی اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں، مگر ضلع کی سطح پر ڈپٹی کمشنر آج بھی ریاستی اختیار کی ایک بڑی علامت ہے، قیمتوں کا کنٹرول، ضلعی انتظامیہ، ریونیو معاملات، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، مختلف محکموں کے درمیان رابطہ، امن و امان کے انتظامی پہلو اور سرکاری مشینری کی مجموعی کوآرڈی نیشن، یہ سب ایسے معاملات ہیں جن کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر کی اہمیت غیر معمولی رہتی ہے اور یہی اہمیت سیاسی کشمکش کو جنم دیتی ہے۔

ایک سیاستدان کے لیے اپنی مرضی کا ڈپٹی کمشنر صرف ایک انتظامی سہولت نہیں ہوتا، اس کے ذریعے اسے اپنے حلقے میں ترقیاتی کاموں، مقامی انتظامیہ، سرکاری تقریبات، شکایات کے ازالے اور سیاسی اثرورسوخ میں آسانی محسوس ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ جب کسی سیاسی شخصیت کی مرضی کے برعکس کسی افسر کی تعیناتی ہوتی ہے تو اختلاف اکثر انتظامی پالیسی کے بجائے ذاتی یا سیاسی مسئلہ بن جاتا ہے،یہاں ایک تلخ حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے، ہمارے سیاسی کلچر میں بعض سیاستدان آج بھی انتظامی طور پر مضبوط افسر کو پسند نہیں کرتے ،تاہم یہاں ایک اور اہم سوال بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے معاملے میں وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری کی سطح پر سیاسی مداخلت کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو، اچھے افسر تعینات کیے جا رہے ہوں اور انتظامی فیصلوں میں میرٹ کو اہمیت دی جا رہی ہو، لیکن کرپشن کا مسئلہ صرف پوسٹنگ سے حل نہیں ہوتا اور یہی اس بحث کا سب سے اہم پہلو ہے۔

کرپشن کسی ایک وزیراعلیٰ کے دفتر میں ہوتی ہے نہ چیف سیکرٹری کے دفتر میں اور نہ ہی ہر معاملے کا علم حکومت کے سربراہ کو ہو سکتا ہے، پاکستان کے انتظامی نظام میں کرپشن کی جڑیں نچلی سطح تک پھیلی ہوئی ہیں،ریونیو، پٹواری نظام، رجسٹری، زمینوں کے معاملات، تعمیراتی ٹھیکے، پرمٹ، لائسنس، ترقیاتی اسکیمیں اور مختلف محکموں کے روزمرہ اختیارات ایسے شعبے ہیں جہاں اختیارات کے غلط استعمال کا امکان موجود رہتا ہے،ایک وزیراعلیٰ ایماندار ہو سکتا ہے، ایک چیف سیکرٹری ،کمشنر ، ڈپٹی کمشنر بھی نیک نام ہو سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پورا نظام خودبخود کرپشن سے پاک ہو جائے گا،یہاں اصل مسئلہ سسٹم کی نگرانی اور احتساب کا ہے،کیا ہر ضلع میں کرپشن کی شکایات کا مؤثر ڈیجیٹل نظام موجود ہے؟ کیا ریونیو اور لینڈ ریکارڈ کے معاملات میں انسانی صوابدید کم کی جا رہی ہے؟ کیا سرکاری ٹھیکوں کی نگرانی شفاف ہے؟ کیا کسی شہری کو رشوت مانگنے والے اہلکار کے خلاف فوری شکایت کا مؤثر راستہ حاصل ہے؟ کیا کسی ڈپٹی کمشنر یا دوسرے افسر کی کارکردگی صرف وزیراعلیٰ کے دورے اور اجلاس سے جانچی جاتی ہے یا عوامی شکایات، مالی شفافیت اور زمینی نتائج بھی پیمانہ بنتے ہیں؟یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب سے معلوم ہوگا کہ حکومت واقعی کرپشن کے خلاف کتنی سنجیدہ ہے۔

پنجاب میں اگر موجودہ حکومت کی ایک خوبی یہ ہے کہ اہم انتظامی عہدوں پر نسبتاً بہتر اور قابل افسران کو آگے لانے کی کوشش نظر آتی ہے تو اس کے ساتھ حکومت کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اچھے افراد، اچھے نظام کا متبادل نہیں ہوتے،فرد بدلنے سے وقتی فرق ضرور پڑتا ہے، مگر مستقل تبدیلی کے لیے نظام بدلنا پڑتا ہے،وزیراعلیٰ مریم نواز کے لیے بھی یہ ایک امتحان ہے، اگر وہ واقعی یہ ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ ان کی حکومت کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس رکھتی ہے تو صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ انہوں نے ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی، اس کے ساتھ ایسا نظام قائم کرنا ہوگا جس میں کوئی دوسرا شخص بھی ان کے نام، ان کے دفتر یا حکومتی اثرورسوخ کو استعمال کرکے کرپشن نہ کر سکے،اسی طرح الزام لگانے والوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ سیاسی بیانات سے آگے بڑھیں، اگر کرپشن کے ثبوت ہیں تو انہیں سامنے لائیں، اس ساری بحث نے ایک پرانا سچ پھر نمایاں کر دیا ہے، پنجاب کی سیاست میں ڈپٹی کمشنر آج بھی طاقت کی ایک اہم علامت ہے،سیاسی شخصیات اگر آج بھی ڈی سی کی پوسٹنگ کے لیے بے چین ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ضلعی انتظامیہ کا اختیار ابھی تک سیاسی طاقت کے لیے بہت اہم ہے،ایک حقیقی اصلاح یہ ہوگی کہ ڈپٹی کمشنر کسی وزیر، ایم این اے یا ایم پی اے کا افسر نہ ہو بلکہ صرف ریاست اور عوام کا افسر ہو،پنجاب کو ایسے ڈپٹی کمشنر چاہیے ہیں جو وزیراعلیٰ ، وزیر یا کسی سیاسی خاندان کے نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے ڈپٹی کمشنر ہوں۔