کراچی(بیورورپورٹ) ڈیفنس میں پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں بااثر خاتون کے بہن بھائی پر تشدد کے کیس کی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کورنگی فدا جانوری کو بھی واقعے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔بااثر خاتون کے بہن بھائی پر تشدد کی تحقیقاتی کمیٹی نے انکوائری رپورٹ مکمل کرلی۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ میں ایس ایس پی کورنگی فدا جانوری کو بھی واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایس ایس پی کورنگی فدا جانوری کی جانب سے معاملے میں انتظامی غفلت برتی گئی، ان کیخلاف کارروائی کی جائے۔
متاثرہ فیملی کیخلاف درج مقدمے کو بی کلاس یعنی خارج کردیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق واقعے میں ڈسٹرکٹ کورنگی کے 4 اہلکاروں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ایس ایچ او درخشاں راشد علی، ایس آئی او عمران درخشاں اور پولیس موبائل افسر آفتاب منگی کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی ہوگی، جبکہ ویڈیو میں نظر آنے والی 2 خواتین اور ایک مرد پر مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں متاثرہ فیملی پر تشدد کرنے والے تمام افراد فدا جانوری کے قریبی رشتے دار ہیں۔انہوں نے کہا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی، جبکہ تحقیقاتی کمیٹی کی انکوائری رپورٹ ایڈیشنل آئی جی کو بھجوا دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ کراچی کے علاقے ڈیفنس کے ایک اپارٹمنٹ میں 21 اگست کو بااثر خاتون کی جانب سے بہن بھائی پر تشدد کیا گیا تھا، جس کی ویڈیو 28 اگست کو سامنے آئی تھی۔
سی سی ٹی وی ویڈیو میں ایک خاتون کو دوسری خاتون پر تشدد کرتے دیکھا گیا تھا، جبکہ اس کے ہاتھ میں ایکسرسائز ڈمبل بھی دکھائی دے رہا تھا۔پولیس اہلکار نے متاثرہ خاتون کے ساتھ موجود شخص کو دھکے دیے۔ متاثرہ فیملی نے تھانہ درخشاں میں درخواست جمع کروائی تھی۔ تشدد کا نشانہ بننے والے بہن بھائی والدہ کے ساتھ اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر تھے۔

