اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی 24 سالہ طالبہ لائبہ اعجاز کی موت کے معاملے میں بیرون ملک تعلیمی وظیفہ دلوانے کے نام پر مبینہ مالی فراڈ کا انکشاف ہوا ہے۔ لواحقین کے مطابق نعمان نامی شخص نے اسکالرشپ دلوانے کا جھانسہ دے کر 70 لاکھ روپے اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کروائے، تاہم دستاویزات کی جانچ پڑتال پر وہ جعلی نکلیں۔
پولیس کے مطابق لائبہ کی پھندا لگی لاش جی ٹین اتوار بازار کے قریب سے ملی تھی۔ طالبہ جی ٹین میں رہائش پذیر تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جعلی دستاویزات سامنے آنے کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھی۔
لواحقین کے مطابق لائبہ نے ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلے کی خبر اپنے اہل خانہ کو دینے کا ارادہ کیا تھا، لیکن رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی تصدیق پر اس کے جعلی ہونے کا انکشاف ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ تاحال درج نہیں کیا گیا۔ والدین کی جانب سے مقدمے کے اندراج کے لیے ابھی تک کوئی تحریری درخواست موصول نہیں ہوئی۔ پولیس کے مطابق ورثا کی درخواست ملنے پر مقدمہ درج کیا جائے گا۔
دوسری جانب وفاقی تحقیقاتی ادارے نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حکام کے مطابق ایف آئی اے نے طالبہ کے ماموں رانا امجد سے رابطہ کرکے واقعے اور مبینہ مالی فراڈ سے متعلق تمام تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ایف آئی اے حکام کے مطابق مبینہ ملزم نے طالبہ کے بھائی کو ملازمت دلوانے کے نام پر بھی رقم وصول کی تھی۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

