حقائق کچھ اِس طرح ہیں کہ ارضِ وطن کے کم و بیش کروڑوں گھروں میں سسکتے اور بلکتے ہوئے بیمار، لاغر اور نحیف و نزار ہر عمر کے افراد کی آہ و بکا سے عرشِ معلی تک بھی ارتعاش پیدا ہوتا ہو گا مگر اس صورتحال سے کوئی طبقہ لاتعلق اور بے خبر ہے تو وہ مسند ِ اقتدار پر اربابِ اختیار ہیں۔ یہ کوئی تعلی یا بڑھک نہیں ہے مگر سو فیصد حقیقت ہے کہ ملک کے تقریباً ہر گھر میں ایک سے زائد افراد جن میں مرد عورتیں، بچے اور بوڑھے تک شامل ہیں، کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہیں ان کی آہ و بکا صرف اور صرف ان کی ادویات کی نایابی ہے، پورے ملک میں ادویات کی عدم دستیابی کی بنیادی وجہ ان کی حد سے زیادہ گرانی ہے جس کے باعث دوائیاں عوام کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔پورے ملک میں اس پر واویلا کی سی صورتحال عرصہ سے جاری ہے مگر جہاں آئے دن ہسپتالوں کے نئے نئے ناموں سے قیام کے اعلانات ہو رہے ہیں وہاں مختلف امراض میں تڑپتے مریضوں کو مناسب داموں پر ادویات کی فراہمی پر کسی کی توجہ نہیں۔ ادویات کی قیمتوں میں حالیہ دو ماہ کے دوران15 سے25فیصد اضافہ ہو چکا ہے، حالت یہ ہے کہ بخار کی دوائی پیناڈول کی دس گولیاں 25روپے میں ملتی تھیں اب وہ40روپے میں دستیاب ہیں۔ ہیپاٹائٹس مرض کا سیرپ390کی بجائے 560 روپے تک جا پہنچا ہے۔یہ حقیقت زبان زدِ عام ہو چکی ہے کہ دِل گردے اور کینسر ایسے امراض کی ادویات کی قیمتیں بھی غربت کے مارے گھرانوں کی قوتِ خرید سے باہر جا چکی ہیں وٹامن اے کیپسول کا ڈبہ1534 روپے سے بڑھ کر2245 روپے کا مل رہا ہے، غربت کے مارے نچلے اور متوسط طبقے کے لوگ ہی زیادہ تر ہائی بلڈ پریشر کے عذاب کا مقابلہ کر رہے ہیں اس کی دوا ایکسٹور کی 14گولیوں کی قیمت510 سے بڑھ کر670 روپے تک جا پہنچی ہے اور تو اور مریضوں کی ضرورت کیلئے وٹامن سربکس زیڈ کی صرف تیس گولیاں 510 روپے میں ملتی ہیں یہی دُکھ دہ صورتحال رعشہ وغیرہ کی سنگین نوعیت کی بیماریوں کی ادویات کی ہے جن کی قیمتیں ایک ماہ سے ہزاروں میں ہیں۔حیرت اس بات کی ہے کہ جن اربابِ اقتدار کے اس حوالے سے بااختیار افراد کی طرف سے ایسے معاملات کی اصلاح کیلئے یا اس معاملے میں غربت کے مارے کروڑوں افراد کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کیلئے اقدامات کا فرض ہے مجال ہے ان کی طرف سے بے نوا کروڑوں عوام کی پریشانیوں کی طرف کوئی توجہ دی جائے۔ اب تو محروم و بے نوا عوام میں ان تاثرات کا کھلے عام اظہار کیا جانے لگا ہے کہ جدید ترین اربوں روپے مالیت کی قیمتی گاڑیوں کی درآمد آخر کس قسم کی کفایت شعاری کی مد میں ہے آخر ادویات کمپنیاں ملک میں کم ہیں یا کم ہونے لگی ہیں اور کوئی بوجوہ اپنا بوریا بستر اِس ملک سے گول کر کے جا چکی ہیں تو یہ اربابِ اقتدار کا فرض نہیں ہے کہ وہ ملک میں تڑپتے اور سسکتے مریضوں کو مناسب قیمتوں پر ادویات کی فراہمی کیلئے مثبت اقدامات کریں اور ایسے اقدامات میں سرفہرست حکومت کو اپنے طور پر ادویات کمپنیوں کے قیام کیلئے سرمایہ کاری کی طرف عملی قدم اٹھانا چاہئیں اب تو عالمی مالیاتی نے واشگاف الفاظ میں اس حقیقت کو طشت ازبام کر کے رکھ دیا ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے کبھی یہ نہیں کہا گیا کہ بجلی، گیس اور پٹرول مہنگا کرو نہ ہی ہماری ایسی کوئی بات ہوئی ہے۔ ہم نے تو ہمیشہ امیروں پر ٹیکس لگا کر غریبوں کو ریلیف دینے کی بات کی ہے۔

