ایران جنگ کا مقصد جوہری پروگرام نہیں، اسرائیل کے علاقائی مفادات تھے: ٹکر کارلسن

واشنگٹن (این پی آر، رائٹرز) امریکی تجزیہ کار ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کا مقصد ایرانی جوہری پروگرام نہیں تھا بلکہ اسرائیل اپنے علاقائی مفادات کے حصول کیلئے جنگ چاہتا تھا۔

این پی آر کو انٹرویو میں ٹکر کارلسن نے کہا کہ اسرائیل ایران کو کمزور کرنے، خلیجی ممالک کی طاقت کم کرنے اور بالآخر مشرقِ وسطیٰ سے امریکی فوجی موجودگی ختم کرنے کے مفاد میں جنگ چاہتا تھا۔

ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا کہ جنگ شروع ہونے سے چند روز قبل انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں اس معاملے پر بات کی تھی۔

ان کے مطابق انہوں نے ٹرمپ سے کہا کہ جنگ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں نہیں بلکہ اسرائیل کی جانب سے آگے بڑھائی جا رہی ہے، جس پر ٹرمپ نے مبینہ طور پر کہا کہ وہ ان کی بات سے اتفاق کرتے ہیں۔

ٹکر کارلسن کے مطابق ٹرمپ نے گفتگو کے دوران یہ بھی کہا کہ ’’آخرکار ہم سب مر جائیں گے، اسلئے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘امریکی تجزیہ کار نے اس مبینہ جواب کو مایوسی اور بے مقصدیت پر مبنی سوچ قرار دیا۔

وائٹ ہاؤس نے ٹکر کارلسن کی جانب سے ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی اس مخصوص گفتگو کے دعوے پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا۔ این پی آر کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کی طرف توجہ دلائی، جس میں صدر نے کارلسن سمیت ایران کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق مختلف مؤقف رکھنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ٹکر کارلسن کے اسرائیل کے مبینہ مقاصد سے متعلق دعوے ان کا تجزیہ اور مؤقف ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔