لندن (بی بی سی) برطانیہ اور ایران کی دوہری شہریت رکھنے والے 25 سالہ شخص کو رائل ایئر فورس فئیر فورڈ کے واقعے کے سلسلے میں دہشت گرد کارروائی کی تیاری کے شبہے میں گرفتار کرلیا گیا۔انسدادِ دہشت گردی پولیس کے مطابق مذکورہ شخص کو لندن کے علاقے ویسٹ منسٹر سے گرفتار کیا گیا، جبکہ علاقے میں 2 مقامات کی تلاشی بھی لی گئی۔
پولیس کی سینئر قومی رابطہ کار وکی ایونز نے کہا کہ گلوسٹر شائر میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات انتہائی پیچیدہ ہیں اور خصوصی ٹیمیں متعدد پہلوؤں سے تفتیش کر رہی ہیں۔وکی ایونز نے کہا کہ پولیس تمام ممکنہ پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے، جن میں کسی غیر ملکی ریاست کا ممکنہ کردار بھی شامل ہے۔ انہوں نے تحقیقات کے دوران عوام کے تعاون اور صبر کا شکریہ بھی ادا کیا۔
پولیس نے ابتدائی طور پر گرفتار شخص کی عمر 27 سال بتائی تھی اور کہا تھا کہ ایک دوسرے شخص سے قانونی تنبیہ کے تحت پوچھ گچھ کی گئی ہے، تاہم بعد میں جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا کہ دوسرے شخص سے ایسی پوچھ گچھ نہیں کی گئی تھی۔
بدھ کو وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا تھا کہ ایسے مضبوط اشارے موجود ہیں کہ اس واقعے میں ایران کا کردار تھا، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ تہران نے واقعے میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
رائل ایئر فورس فئیر فورڈ کے قریب اتوار کی علی الصبح 3 مشتبہ گاڑیوں کو امریکی فضائیہ کے زیر استعمال اڈے کی جانب جاتے ہوئے دیکھے جانے کے بعد سیکیورٹی کا بڑا واقعہ پیش آیا تھا۔
واقعے کے بعد 20 برس کی عمر کے 5 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق پانچوں لندن سے تعلق رکھنے والے برطانوی شہری ہیں اور اس وقت پولیس ضمانت پر ہیں۔بی بی سی کے مطابق گرفتار افراد میں سے ایک نے مقامی کسان کی جانب سے گاڑیوں کے قریب نقاب پوش افراد کے ایک بڑے گروہ کی اطلاع دینے سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل خود ہنگامی نمبر 999 پر کال کی تھی۔
پانچوں افراد کو پہلے دھماکا خیز مواد سے متعلق جرائم کے شبہے میں گرفتار کیا گیا، بعدازاں ان پر دہشت گرد کارروائی کی تیاری کا شبہ بھی عائد کیا گیا۔ پولیس نے انہیں پیر کو تفتیشی فیصلے کے تحت ضمانت پر رہا کردیا۔پولیس کے مطابق رائل ایئر فورس فئیر فورڈ کے قریب موجود گاڑیوں کی تلاشی کے دوران کچھ مقدار میں پٹرول ملا، تاہم کوئی دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔
گرفتار پانچوں افراد کی عمریں 23 سے 25 سال کے درمیان ہیں۔ ان میں سے 4 ویسٹ منسٹر جبکہ ایک کیمڈن کا رہائشی ہے، اور ان کے گھروں کی بھی تلاشی لی گئی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو کہا تھا کہ فئیر فورڈ کے واقعے میں کسی غیر ملکی فریق کا کردار واضح طور پر موجود ہے۔
رائل ایئر فورس فئیر فورڈ کئی دہائیوں سے امریکی فضائیہ کے عارضی آپریشنل اڈے کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکی بمبار طیاروں نے بھی اس اڈے سے مشرقِ وسطیٰ کیلئے پروازیں کی ہیں، جب برطانیہ نے ایران کے خلاف امریکی فضائی کارروائیوں کیلئے اس اڈے کے استعمال کی اجازت دی تھی۔

