جنیوا (ایجنسیاں) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے دوران 30 ستمبر کو جنیوا میں ایک سائیڈ ایونٹ منعقد کیا گیا، جس میں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ امتیازی سلوک، ریاستی کارروائیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق نئی رپورٹ پیش کرکے اس پر بحث کی گئی۔
ایریٹ اکیڈمی جنیوا کی مارچ 2026 میں جاری کردہ رپورٹ ’’غیر مساوی شہری: بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم امتیازی سلوک اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، 2014 تا 2025‘‘ میں بھارت میں مسلمانوں کو درپیش صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران مسلمانوں کے خلاف امتیازی قوانین، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں، فرقہ وارانہ تشدد اور املاک کی مسماری سمیت مختلف معاملات کا جائزہ لیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں تقریباً 20 کروڑ مسلمان مختلف نوعیت کے امتیازی سلوک اور انسانی حقوق کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
سائیڈ ایونٹ میں انسانی حقوق کے ماہرین اور بین الاقوامی مبصرین نے بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ مقررین نے رپورٹ میں پیش کیے گئے واقعات کی شفاف تحقیقات اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئےبین الاقوامی سطح پر توجہ دینے پر زور دیا۔
اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق انسانی حقوق کونسل کا 63واں اجلاس 7 ستمبر سے 7 اکتوبر 2026 تک جنیوا میں جاری ہے اور اس دوران مختلف موضوعات پر سائیڈ ایونٹس بھی منعقد کیے جا رہے ہیں۔

