اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ حکومت کی خواہش پر مذاکرات شروع ہوئے ہیں، لانگ مارچ ضرور ہوگا اور مذاکرات کے ساتھ ساتھ جاری رہے گا۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، نماز جمعہ سے قبل پہلا دور ہوا جبکہ نماز کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے۔
مذاکرات سے قبل اپوزیشن رہنما سلمان اکرم راجہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ انصاف کی بات کریں گے، انصاف مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے، ہمیں بانی تحریک انصاف سے ملاقات اور مشاورت چاہیے، ملاقات ہوئی تو معاملہ آگے بڑھے گا، ورنہ صورتحال جوں کی توں رہے گی۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بانی تحریک انصاف کی رہائی اور انصاف چاہتے ہیں۔
اسد قیصر نے کہا کہ بانی تحریک انصاف سے ملاقات اس لیے ضروری ہے تاکہ ان سے مشاورت کرکے مذاکرات کا ایجنڈا طے کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ بانی تحریک انصاف سے ملاقات کے بعد ہی آئندہ کا لائحہ عمل طے ہوگا، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے معاملے پر بھی بات ہوگی، بانی سے ملاقات سب سے اہم ہے اور سب سے پہلے اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت ملنی چاہیے۔
عامر ڈوگر نے کہا کہ وہ شروع سے ملاقات اور مذاکرات کے حامی ہیں، سیاسی معاملات کو محاذ آرائی میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے، ہم نہیں چاہتے کہ کسی ادارے کے ساتھ تصادم یا لڑائی ہو۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس نے کہا کہ بانی تحریک انصاف سے محمود خان اچکزئی کی ملاقات کا معاملہ مذاکرات میں رکھا جائے گا، بانی سے ملاقات کے بغیر معاملات حل نہیں ہوسکتے۔علامہ ناصر عباس نے کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے کچھ شرائط طے ہونی چاہئیں، مسائل کا آسان ترین حل بانی تحریک انصاف سے ملاقات ہے۔

