اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے اعلان پر دستخط کر دیے۔ ایوانِ صدر کے اعلامیے کے مطابق دہشت گردی کے واقعات میں غیرمعمولی شدت اور امن و امان کی سنگین صورتِ حال کے پیشِ نظر آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے عوام کی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہیں، جب کہ سرکاری تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایوانِ صدر کے مطابق صوبائی حکومت دہشت گردی اور لاقانونیت کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔

اعلامیے کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ یہ قرار دیا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں صوبائی حکومت کو آئین کے مطابق چلانا ممکن نہیں۔ وفاقی حکومت گورنر خیبرپختونخوا کو صوبے کے تمام یا بعض انتظامی امور اپنے اختیار میں لینے کی ہدایت دے سکے گی۔
ایوانِ صدر کے مطابق صوبائی اسمبلی کے علاوہ صوبے کے دیگر اداروں اور حکام کے اختیارات گورنر استعمال کر سکیں گے۔ وزیرِ اعلیٰ، صوبائی وزرا، مشیران، معاونینِ خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل اپنے عہدے فوری طور پر چھوڑ دیں گے۔
صدارتی اعلان فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ایوانِ صدر کے اعلامیے میں صوبے کی سنگین صورتِ حال کے پیشِ نظر فوری آئینی اقدام کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد صدرِ مملکت کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کیلئے سفارش بھجوائی تھی۔

