میانمار(رائٹرز، اے پی، الجزیرہ) میانمار کی جنگ زدہ ریاست رخائن کے قصبے کیاؤکتاؤ میں مارکیٹ کے قریب فوجی طیارے کے فضائی حملے میں کم از کم 49 افراد ہلاک اور 58 زخمی ہوگئے۔
رائٹرز کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں اراکان آرمی اور مقامی امدادی کارکن وائی ہن آنگ نے 33 افراد کی ہلاکت اور 36 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی، تاہم بعد میں ایسوسی ایٹڈ پریس نے امدادی حکام کے حوالے سے ہلاکتوں کی تعداد 49 اور زخمیوں کی تعداد 58 بتائی، جن میں 22 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔
اراکان آرمی کے مطابق فوجی طیارے نے کیاؤکتاؤ کی مقامی مارکیٹ کے قریب 2 بم گرائے، جہاں دکاندار، خریدار اور راہ گیر موجود تھے۔ مقامی امدادی حکام کے مطابق یہ مارکیٹ ریاست کا اہم تھوک مرکز ہے جہاں مختلف علاقوں سے تاجر اور خریدار آتے ہیں۔
امدادی کارکن وائی ہن آنگ کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والا علاقہ مرکزی جنگی محاذ سے کافی دور ہے اور جاری لڑائی سے اس کا براہِ راست تعلق نہیں تھا۔ اراکان آرمی اور امدادی حکام نے حملے کو رخائن میں حالیہ عرصے کے شدید ترین فضائی حملوں میں شمار کیا ہے۔
میانمار میں 2021ء کی فوجی بغاوت کے بعد سے خانہ جنگی جاری ہے اور اراکان آرمی سمیت متعدد مسلح گروپ مختلف محاذوں پر فوج کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ کیاؤکتاؤ سمیت رخائن کے بڑے علاقوں پر اراکان آرمی کا کنٹرول ہے۔
میانمار کی فوج نے فوری طور پر حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم وہ ماضی میں کہتی رہی ہے کہ اس کی کارروائیاں جائز فوجی اہداف تک محدود ہوتی ہیں اور مزاحمتی گروپوں کو دہشت گرد قرار دیتی ہے۔
رائٹرز نے ابتدائی ہلاکتوں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہ ہونے کی بھی نشاندہی کی تھی، جبکہ بعد کی اے پی رپورٹ میں مقامی امدادی حکام سے مزید تفصیلات سامنے آئیں۔ دسمبر میں رخائن کے علاقے مراوک یو کے ایک اسپتال پر فوجی فضائی حملے میں کم از کم 34 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوئے تھے۔

