نیویارک(رائٹرز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنی کوریج ناپسند ہونے پر کئی میڈیا اداروں کو وائٹ ہاؤس سے دور رکھنے کا اقدام حکومتی جانب سے نقطۂ نظر کی بنیاد پر امتیاز سے متعلق امریکی قوانین سے متصادم ہوسکتا ہے۔
رائٹرز سے گفتگو میں 4 قانونی ماہرین نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کو وائٹ ہاؤس سے دور رکھنے کی کوشش کو عدالت میں قانونی چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ مذکورہ میڈیا اداروں کو وائٹ ہاؤس سے پابندی کا سامنا ہوگا کیونکہ ان کی جانب سے ایسی خبریں نشر کی گئیں جنہیں صدر نے ’’جعلی خبریں‘‘ قرار دیا۔ ٹرمپ نے ہفتے کو مزید میڈیا اداروں پر بھی پابندی عائد کرنے کا امکان ظاہر کیا تھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق حکومت کے لیے میڈیا کو وائٹ ہاؤس کے ہر حصے تک رسائی دینا ضروری نہیں، تاہم جب کسی جگہ میڈیا کو رسائی دی جائے تو حکومت محض کسی ادارے کے نقطۂ نظر یا اس کی خبروں کے مواد کی بنیاد پر مخصوص ادارے کو رسائی سے محروم نہیں کرسکتی۔

یونیورسٹی آف میری لینڈ کی صحافت کی پروفیسر لوسی ڈیلگِلش نے کہا کہ حکومت کسی کو وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کی اجازت نہ دینے کا اختیار رکھتی ہے، لیکن ایک مرتبہ میڈیا کو رسائی دینے کے بعد نقطۂ نظر یا مواد کی بنیاد پر یہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ کون اندر آئے گا۔
وائٹ ہاؤس نے اپنے بیان میں کہا کہ مذکورہ میڈیا ادارے وائٹ ہاؤس کے باہر سے بھی اپنی رپورٹنگ جاری رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’جعلی خبروں‘‘ کو صدر کے اوول آفس میں جگہ کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں اور ایسی خبریں امریکی عوام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو نے پیر کو واشنگٹن کی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پابندی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت قانونی طور پر محفوظ اظہارِ رائے پر انتقامی کارروائی اور پانچویں ترمیم کے تحت منصفانہ قانونی طریقۂ کار کے حق کی خلاف ورزی ہے۔
امریکی ضلعی جج ٹموتھی کیلی نے میڈیا اداروں کی جانب سے پابندی عارضی طور پر روکنے کی درخواست پر بدھ کو سماعت مقرر کردی ہے۔ یہی جج ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت کے دوران سی این این کے ایک صحافی کو وائٹ ہاؤس سے نکالنے کی کوشش روک چکے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق میڈیا کو وائٹ ہاؤس تک غیر محدود رسائی کا حق حاصل نہیں، جبکہ اوول آفس اور ایئر فورس ون جیسے محدود گنجائش والے مقامات تک رسائی کے معاملے میں صدر کے اختیارات نسبتاً زیادہ ہیں۔
واشنگٹن کی اپیل عدالت نے جون 2025 میں قرار دیا تھا کہ ٹرمپ کو ممکنہ طور پر ایسوسی ایٹڈ پریس کو اوول آفس سمیت بعض محدود مقامات تک رسائی سے روکنے کا اختیار حاصل تھا، تاہم وائٹ ہاؤس کی عمومی صحافتی سہولیات سے اے پی کو محروم کرنے کا معاملہ مختلف ہے۔ اس مقدمے کا حتمی فیصلہ تاحال زیر التوا ہے۔
سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو نے عدالت میں دائر مقدمے میں کہا کہ ان کے صحافیوں کو ہفتے کو وائٹ ہاؤس کے احاطے میں داخل ہونے سے روک دیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ ان کے صحافتی اجازت نامے غیر فعال کردیے گئے ہیں۔
میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ انہیں پابندی سے قبل کوئی اطلاع یا صدر کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، جو ان کے بقول پانچویں ترمیم میں فراہم کردہ قانونی تحفظات کی خلاف ورزی ہے۔
پہلی ترمیم کے ماہر وکیل ڈگلس میرِل کے مطابق اگر صحافیوں کو سلامتی کے خطرے کی بنیاد پر محدود کیا جائے تو حکومت کے پاس واضح جواز اور قائم شدہ طریقۂ کار ہونا چاہیے، جس کے تحت صحافی کو اس فیصلے پر اعتراض کا موقع ملے۔
رواں سال مارچ میں بھی ایک وفاقی جج نے امریکی محکمہ دفاع کو ایسی پابندیوں پر عمل درآمد سے روک دیا تھا جن کے تحت حکام غیر مجاز معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے صحافیوں کے پینٹاگون کے اجازت نامے منسوخ کرسکتے تھے۔
عدالت نے قرار دیا تھا کہ ایسی پالیسی پہلی اور پانچویں ترامیم سے متصادم ہوسکتی ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔

