مسی ساگا (اشرف خان لودھی سے) مسی ساگا وارڈ 7 سے کونسلر کی امیدوار نائلہ سعید نے انتخابی مہم کے دوران رہائشیوں کو شفاف، قابلِ رسائی اور جواب دہ مقامی حکومت فراہم کرنے، پراپرٹی ٹیکس منجمد کرنے اور کمیونٹی کی حفاظت سمیت مختلف ترجیحات پر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
نائلہ سعید نے اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ تقریباً تین دہائیوں کا عملی تجربہ بطور مربی، کارکن، منتظم اور رضاکار اپنے ساتھ لے کر آئی ہیں، ان تجربات سے انہوں نے سیکھا کہ قیادت لچک، شفقت اور حوصلے کا نام ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی برسوں سے مسی ساگا میں بزرگوں، نوجوانوں، خاندانوں اور خوراک کے مراکز کے اقدامات کی حمایت کرنے والی تنظیموں کے ساتھ کام کیا، جبکہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے مسی ساگا میں کاروبار بھی کر رہی ہیں، اس لیے وہ خاندانوں کو درپیش چیلنجز اور کمیونٹی میں مواقع پیدا کرنے کی اہمیت کو سمجھتی ہیں۔
نائلہ سعید نے کہا کہ مسی ساگا کو ذمہ دارانہ اخراجات، شفافیت اور جواب دہی کی ضرورت ہے، مہنگائی سب سے بڑے مسائل میں سے ایک ہے، خاندان سخت محنت کر رہے ہیں لیکن رہنے کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں اور گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کے پیسوں کے بارے میں یہ سوال پوچھنا ضروری ہے کہ آیا رہائشیوں کو ان کے دیے گئے ہر ڈالر کے بدلے مناسب قدر مل رہی ہے۔ رہائشیوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کا پیسہ کہاں اور کیوں خرچ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسی ساگا کے محلے ایسے ہونے چاہئیں جہاں بزرگ محفوظ طریقے سے چل سکیں، خاندان پارکوں سے لطف اندوز ہوں اور بچے محفوظ اور پرسکون ماحول میں پروان چڑھیں۔ ٹریفک، صفائی، سڑکوں، پارکوں اور بنیادی ڈھانچے جیسے روزمرہ کے مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ مسائل ان لوگوں کے لیے معمولی نہیں جو روزانہ ان کا سامنا کرتے ہیں۔
نائلہ سعید نے مسی ساگا میں مجوزہ بڑے اعداد و شمار کے مراکز کے حوالے سے حالیہ بحث کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہر نے بڑے اعداد و شمار کے مراکز کی ترقی پر ایک سال تک عارضی روک منظور کی ہے۔ ان کے بقول اس معاملے کا بڑا سبق یہ ہے کہ جب رہائشیوں کو معلومات تک رسائی نہیں ہوتی اور انہیں محسوس نہیں ہوتا کہ ان کی بات سنی جارہی ہے تو سوالات بڑھتے ہیں اور اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہیں کہ رہائشیوں کو اپنے نمائندوں تک رسائی حاصل ہو اور انہیں محسوس ہو کہ ان کی بات سنی جارہی ہے اور ان کے نمائندے ان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
نائلہ سعید نے کہا کہ رہائشیوں کو ان کے نمائندوں کی جانب سے کیے جانے والے فیصلوں اور اقدامات کے بارے میں معلومات ملنی چاہئیں، یہی وہ قسم کی نمائندگی ہے جو وہ فراہم کرنا چاہتی ہیں۔ وہ قابلِ رسائی رہیں گی اور باقاعدہ رابطے کو فروغ دیں گی، کمیونٹی اجلاس منعقد کیے جائیں گے اور باقاعدہ خبرناموں اور تازہ معلومات کے ذریعے رہائشیوں کو آگاہ رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایسے نمائندے رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں جو حقیقی طور پر اپنے پڑوسیوں اور محلے کے ساتھ جڑے ہوں۔ وہ صرف وعدے کرنے کیلئے انتخابی مہم نہیں چلا رہیں بلکہ ان وعدوں کو پورا کرنے اور اپنے الفاظ پر قائم رہنے کیلئے میدان میں آئی ہیں۔
نائلہ سعید نے کہا کہ وہ خود کو کمیونٹی کیلئےوقف کرنے، رہائشیوں کی نمائندگی کرنے، ان کی بات سننے، خدمت کرنے اور ان کی آواز بننے کیلئےانتخاب لڑ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سخت محنت کریں گی، لوگوں کی بات سنیں گی اور اپنی کمیونٹی کے ساتھ کھڑی رہیں گی۔
نائلہ سعید نے بتایا ہے کہ وہ تقریباً 28 برس قبل اپنے شوہر کے ساتھ کینیڈا آئی تھیں۔ اس وقت ان کے پاس بڑے خواب تھے لیکن وسائل محدود تھے۔ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز مزدور کے طور پر کیا، بعد ازاں کال سینٹر میں کام کیا اور پھر چائلڈ کیئر کا ادارہ قائم کیا جو آج گریٹر ٹورنٹو علاقہ اور پیل ریجن میں 5 ہزار سے زائد بچوں کیلئے چائلڈ کیئر کی جگہیں فراہم کرتا ہے۔
نائلہ سعید نے سینکڑوں مقامی ملازمتیں پیدا کرنے میں مدد کی، ہزاروں خاندانوں کی معاونت کی اور متعدد کمیونٹی تنظیموں کے ساتھ رضاکارانہ خدمات انجام دیں۔ وہ تین بیٹیوں کی والدہ اور کاروباری شخصیت ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس تجربے کی وجہ سے وہ خاندانوں کو درپیش روزمرہ کے مسائل کو سمجھتی ہیں۔
نائلہ سعیدکی انتخابی مہم کے آغازکے سلسلے کی تقریب میں کیمونٹی کی بڑی تعدادشریک ہوئی جس نے نائلہ سعید کاحوصلہ بڑھاتے ہوئے کہاکہ ہم اس ہمیشہ کی طرح اپنی لیڈرکے ساتھ ہیںاور ان کی بھرپورحمایت کرتے ہیں.
انتخابی مہم کے تحت نائلہ سعید نے کمیونٹی کی حفاظت اور جرائم کی روک تھام، بہتر ٹریفک انتظام اور پیدل چلنے والوں کی حفاظت، برقی سکوٹروں کیلئے قواعد و ضوابط، مضبوط محلے، سرخ فیتے میں کمی، سرکاری اخراجات گھٹانے، پارکوں اور عوامی مقامات کی بہتر دیکھ بھال، شفاف اور جواب دہ مقامی حکومت اور ہر رہائشی کی آواز سننے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔
انہوں نے رہائشی پراپرٹی ٹیکس منجمد کرنے کے ساتھ بزرگ شہریوں کیلئے اضافی رعایت، جبکہ بزرگوں کیلئےترجیحی مدد اور معاونت یقینی بنانے کا بھی عزم ظاہر کیا ہے۔
نائلہ سعید کے مطابق ان کی انتخابی مہم ان کیلئے انتہائی ذاتی نوعیت کی ہے اور ان کی زندگی کے مقصد سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 28 برس کے دوران رضاکارانہ سرگرمیوں، کمیونٹی تنظیموں اور ہزاروں خاندانوں کی معاونت کے ذریعے انہیں کمیونٹی کی خدمت کا موقع ملا۔

