نیتن یاہو کیخلاف نیویارک میں ہزاروں کا مارچ، یہودی بھی شریک

نیویارک (الجزیرہ، رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس) اقوام متحدہ کے باہر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی آمد کے خلاف ہونیوالے احتجاج میں یہودی مظاہرین سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔مظاہرین نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور نیتن یاہو کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا اور فلسطین کے حق میں نعرے لگائے۔

یہودی تنظیم ’جیوش وائس فار پیس‘ کی جانب سے اقوام متحدہ کے قریب احتجاجی دھرنا بھی دیا گیا، جس میں سیکڑوں افراد شریک ہوئے۔ تنظیم کے مطابق مظاہرین میں یہودی، فلسطینی، ایرانی اور لبنانی نژاد نیویارک کے شہری شامل تھے۔

مظاہرین نے ’فلسطین آزاد کرو‘ اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے مطالبات پر مبنی نعرے لگائے جبکہ بعض مظاہرین نے نیتن یاہو کی جانب سے دنیا بھر کے یہودیوں کی نمائندگی کے دعوے کو مسترد کیا۔

اقوام متحدہ کے قریب ہی اسرائیل کے حامی مظاہرین نے بھی جوابی احتجاج کیا۔ دونوں جانب موجود مظاہرین کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور بعض مقامات پر ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

بعد ازاں فلسطین کے حامی ہزاروں افراد نے نیویارک میں نیتن یاہو کی اقوام متحدہ میں آمد کے خلاف الگ مارچ کیا۔نیویارک پولیس کے مطابق اقوام متحدہ کے قریب احتجاج کے دوران تقریباً 103 افراد کو حراست میں لیا گیا اور بعد میں انہیں رہا کردیا گیا۔ گرفتار افراد میں بعض سیاست دان اور معروف شخصیات بھی شامل تھیں۔