پانچ ہزار میٹر بلند پہاڑوں پر ایک اکیلا خاندان ایک بزرگ ایک خاتون کئی بچیاں۔ بچے بچیاں ہر وقت متحرک بھاگتی دوڑتی۔ شفاف پانی تک پہنچتی۔ چہچہاتے پرندے۔ خالص فطری حسن۔دیودار شاہ بلوط۔ بھیڑ بکریاں مرغیاں۔ یہ افغانستان کے دور افتادہ ایک پہاڑی گاؤں کی جھلک ہے۔ اس ڈاکومنٹری کی تکمیل کئی ماہ میں ہوئی ہے۔ کئی اداروں نے اسکی سرپرستی کی ۔ایک بار آپ اس کو دیکھنے بیٹھیں تو درمیان میں وقفے کو جی نہیں چاہتا۔
میں کئی بار دیکھ چکا ہوں پھر بھی انسانی زندگی کے ارتقاء کو جانچنے کیلئے اس کامختلف پہلوؤں سے مشاہدہ کرتا رہتا ہوں۔
یہاں انسانی ضرورت کے سارے وسائل موجود ہیں اور ان وسائل تک ہر چھوٹے بڑے کو بلا روک ٹوک رسائی حاصل ہے۔ جب چاہے پانی کے چشمے تک پہنچ سکتے ہیں ۔پگڈنڈیاں، راستے خود بنائے ہوئے ہیں۔ اپنے کھیت اپنی سبزیاں۔ کوئی آبیانہ ہے نہ مالیہ۔ کہیں کوئی وردی نظر نہیں آتی۔ پولیس نہ کسٹم۔ کوئی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نہیں۔ رشوت لینے والا کوئی نہیں۔ اسلئے کوئی دینے والا بھی نہیں۔ کہیں کرنسی کا لین دین نہیں۔ اسلئے خالی جیب کسی پہ بھاری نہیں پڑتی ۔
اپنی سبزیاں۔ اپنا پانی۔ اپنا گوشت چھوٹا، بڑا، مرغی کا۔ بکریوں کا خالص دودھ، مکھن۔ زندگی بظاہر مشکل لگتی ہے مگر ہر چہرہ مطمئن، تر و تازہ۔ کسی ماتھے پر کوئی تیوری نہیں۔ کسی سے گلہ شکوہ نہیں۔ صبح بہت خوشگوار۔ دن بہت دوست دار۔ شام بہت سہانی۔ اپنے وسائل سے اپنے مسائل حل ہو رہے ہیں۔ خود انحصاری ہے خود کفالت ہے اور نتیجے میں خودداری۔
اس تنہا خاندان کے طرز رہائش اور آج کے بھرے شہروں کے انسانی طرز رہائش میں صدیوں کا فاصلہ ہے۔ کتنے مصلحین کی تحقیق ہے۔ کتنی تحریکیں مظاہر، سماج کے مختلف مناظر۔ کتابیں لکھی گئیں۔ دستاویزیں مرتب کی گئیں۔ معاہدے طے پائے لیکن بنیادی نکات وہی رہے کہ عام انسانوں کو وسائل تک رسائی آزادانہ حاصل ہو۔ وسائل پر چند خاندانوں کا قبضہ نہ ہو۔دولت کی منصفانہ تقسیم ہو۔ ہر شہری کو اس کا حصہ مساوی بنیادوں پر نصیب ہو۔
آبادی بڑھتی ہے تو وسائل تک رسائی میں مشکلات بھی بڑھتی ہیں۔ یہیں پر میڈیا ،ریاست حکومت اور حکمرانوں کی مہارت خلوص نیت اوراہلیت کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ اس گاؤں میں ایک بزرگ سربراہ ہے۔ سارے بچے بچیاں رہنمائی اس سے حاصل کرتے ہیں۔ وہ سب میں نہ صرف نعمتوں کی مساوی تقسیم کرتا ہے، ہر ایک کی عزت نفس کا بہت خیال رکھتا ہےکہ کسی کو کسی قسم کی محرومی کا سامنا تو نہیں ہے ۔اسلئے سب اس پر اعتبار کرتے ہیں ۔ہم ویسے بڑے بڑے منصوبے لے کر بیٹھتے ہیں مگر یہ غور نہیں کرتے کہ انسانوں کو اچھی خوراک مل رہی ہے یا نہیں ۔غذائیت کم ہے یا زیادہ ۔قانون سب کیلئے یکساں نہیں ہے مکالمے ہوتے رہتے ہیں۔نئے صوبے بننےچاہئیں۔
نظام فرسودہ ہو گیا ہے۔ صدارتی نظام بہتر ہے ،پارلیمانی نظام نے عوام کو کچھ نہیں دیا۔ یہ مباحث صدیوں سے چلے آ رہے ہیں ۔بنیادی مسئلہ یہ رہتا ہے کہ فیصلہ سازوں کی نیت درست نہیں ہوتی۔ وسائل پر چند افراد غاصب ہو جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں بھی وہی براجمان ہوتے ہیں۔ شہری ادارے صوبائی محکمے ملکی وزارتیں اور ان پر مسلط عالمی تنظیمیں ایک فرد پر یہ سب اپنا بوجھ بڑھاتے رہتے ہیں ۔فرد کی آزادی بھی چھین لیتے ہیں۔ پینے کے صاف شفاف پانی تک، اناج تک، کھلی ہوا تک ،فرد کی رسائی مسدود کر دیتے ہیں۔ وسائل تک جب فرد کی پہنچ نہ ہوتو مسائل خود رو جھاڑیوں کی طرح سر اٹھاتے رہتے ہیں۔ وہ جو ہر دوا پر لکھا ہوتا ہے ۔دوائیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں ۔غاصب ریاستوں کی غیر تعریف شدہ ہدایت یہ ہوتی ہے کہ وسائل شہریوں کی پہنچ سےدور رکھے جائیں۔
جس صدی میں بھی معاملات سنبھالنے کیلئے ریاست کا قیام عمل میں آیا ۔شہریوں سے عمرانی معاہدے شروع ہوئے تو اکثر ریاستوں میں شہری وسائل سے محروم ہونےلگے۔ ریاست اور اس کے ادارے شہریوں کی سہولتیں تو قاعدے میں لاتے رہے لیکن اپنے ذمے فرائض کی ادائیگی کو ضروری نہیں سمجھا ۔وسائل پر بتدریج قبضہ کرتے چلے گئے ۔اداروں پر ادارے قائم کیے گئے۔ سرکاری اخراجات بڑھتے رہے۔ جس سے شہری اور وسائل کے درمیان ناکے بٹھائے جاتے رہے۔
اپنی عظیم پاک سرزمین کے وسائل اور لا تعداد نعمتوں کی طرف نظر کیجئے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ہماری کشور حسین کو نہ صرف 1947ءمیں آبادی کی مناسبت سے ضرورت کی ہر نعمت عطا کی بلکہ آنے والے زمانوں میں جب آبادی بڑھتی رہی پھر بھی وسائل بیکراں رہے ۔اب آئندہ 2047ءتک جو آبادی میں اضافے ہوں گے اس کے تناظر میں بھی ہمیں پانی، اناج، مال مویشی ،تازہ ہوا ،سمندری خوراک ،فضائی نعمتیں، زمینی ماحضر سب کچھ دے رکھا ہے۔ پاکستان میں تو ایک ہی دن میں سارے موسم دیکھے جا سکتے ہیں اور ہر قسم کے رنگ خوشبوئیں محسوس کی جا سکتی ہیں۔ کیاشاندار ارضی نقشہ ہے۔ پہاڑ ہیں سرسبز بھی بنجر بھی۔ میدان میلوں میل پھیلے ہوئے۔ دریائی کچے علاقے۔ چمکتے ریگزار۔ دشت۔ جنگل ۔طویل ساحلی کنارے۔ سندھ ،پنجاب، خیبر پختون خوا، بلوچستان، آزاد جموں کشمیر گلگت بلتستان جہاں گلیشئر بھی ہیں ۔چشمے بھی جھرنے بھی۔ آبشاریں اور صاف پانی والی جھیلیں۔
کون سے وسائل ہیں جو اس ملک کی حدود میں میسر نہیں ۔کون سے موسم ہیں جو ہمارے نصیب میں نہیں ۔ کس چیز کی کمی ہے، بیکرا ں وسائل ہیں مگر ان کی منصفانہ تقسیم کرنے والے ریاستی نہیں ہیں۔ اس خطے پر چونکہ صدیوں سے مختلف غیر ملکی حملہ آور مسلط ہوتے رہے ہیں،اسلئے اس آزاد اور خود مختار ریاست کے منصب دار ان غیر ملکی غاصبوں کے طرز حکمرانی کو ہی اپناتے ہیں۔ وہ اپنے ہم وطنوں کو اپنا نہیں سمجھتے۔ انہیں اپنا محکوم کمی، اپنا ہاری، اپنا مزارع اپنا مزدور، اپنا ملازم سمجھتے ہیں ۔حالانکہ انہیں یہ اختیار یہ اقتدار کسی نے نہیں دیا۔
21 ویں صدی میں بھی قبائلی معاشرت غالب ہے۔ جہاں کہیں آزادی نظر بھی آتی ہے ۔اسے نئی قانون سازی کے ذریعے شہریوں سے دور کر دیا جاتا ہے۔ پولیس کسٹم لیوی عدالتیں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز اور اس قسم کے ریگولیٹری ادارے ہم وطنوں کو سہولتیں بہم پہنچانے کے بجائے وسائل اور انسانوں کے درمیان رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ وسائل کی تقسیم بھی منصفانہ نہیں ہے۔ نہ ہی عہدے اور مناصب اہلیت اور میرٹ کے مطابق دیئے جاتے ہیں۔
ملکی اداروں کی طرح عالمی ادارے بھی انسانوں کو سہولتوں کے بجائے مشکلات فراہم کرتے ہیں اپنے وسائل پر انحصار کرنے کا درس دینے کے بجائےآئی ایم ایف اور دوسرے عالمی محکمے قوموں کو اپنے دام میں پھنساتے ہیں۔ ان کی خودداری، خود مختاری، خود کفالت چھین لیتے ہیں ۔اسلئے ریاستوں کے چہروں پر جھریاں پڑ رہی ہیں۔ حکمرانوں کے ماتھوں پر تیوریاں۔گاؤں کے لوگوں کی طرح ریاستوں کے لوگوں کو پینے کا صاف پانی آسانی سے میسر ہے نہ خالص دودھ ۔۔جب تک اہل وطن کو وسائل تک مساوی رسائی نہیں ملے گی مسائل خوفناک اور خونخوار ہوتے رہیں گے۔

