اسلام آباد (ریڈیو پاکستان، رائٹرز) وفاقی کابینہ نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کی سفارش کی، جس کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر کو اس کی منظوری دے دی۔ آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت کیے گئے اس فیصلے کے نتیجے میں صوبائی حکومت کے اختیارات وفاقی انتظام کے تحت آگئے۔
وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وفاقی کابینہ کو خیبرپختونخوا میں امن و امان اور دہشت گردی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال پر بریفنگ دی گئی۔ کابینہ نے صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مبینہ طور پر عدم تعاون کا جائزہ لیا اور وزیرِ اعظم کو صدر مملکت سے آئینی اختیارات استعمال کرنے کی سفارش کرنے کا مشورہ دیا۔ اس سلسلے میں صدر مملکت کو ایڈوائس بھجوا دی گئی تھی۔
اجلاس سے قبل حساس اداروں کی رپورٹس کی بنیاد پر صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ایک تجویز میں پورے صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے ساتھ سابق قبائلی علاقوں کے 8 اضلاع اور ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، کرک اور کوہاٹ کے انتظامی امور وفاق کے کنٹرول میں دینے پر غور کیا گیا تھا۔ تاہم حتمی فیصلے کی تفصیلات کے لیے سرکاری اعلامیے کو بنیاد بنانا ضروری ہے۔
“خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافے کا دعویٰ”
حساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق یکم مارچ 2024ء سے 23 ستمبر 2026ء تک خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ میں دہشت گرد نیٹ ورکس، سہولت کاری اور غیر قانونی سرگرمیوں کے باہمی روابط کو سیکیورٹی کے لیے بڑا چیلنج قرار دیا گیا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ 2026ء میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں سے 73 فیصد میں پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔ صوبے میں دہشت گردوں کی جانب سے ڈرون کے استعمال میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 2024ء میں پولیس اور سیکیورٹی اداروں پر ڈرون حملوں کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا تھا، جب کہ 2026ء میں ایسے حملوں کی تعداد 170 تک پہنچ گئی۔ رپورٹ میں ایک سال کے دوران دہشت گردوں کے ڈرون حملوں میں تقریباً 107 فیصد اضافے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ دیسی ساختہ دھماکا خیز آلات کے حملوں کی تعداد 2025ء میں بڑھ کر 181 ہوگئی، جب کہ رواں سال ستمبر تک 159 حملے ریکارڈ کیے گئے۔ بدلتے ہوئے دہشت گرد طریقۂ کار کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق صوبے میں محفوظ شہروں کا منصوبہ تاحال صرف پشاور تک محدود ہے۔ تاہم، ان اعداد و شمار اور صوبائی حکومت کی پالیسی سے متعلق الزامات کو حساس اداروں سے منسوب دعووں کے طور پر ہی بیان کیا جانا چاہیے۔

