جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو میرے ذہن میں ستمبر 65ء کی پاک بھارت جنگ کے حوالے سے یادیں امڈ امڈ کر آ رہی ہیں، دن پر دن گذرتے رہے اور ہمارے مجاہدوں کے کارنامے بھی سامنے آتے رہے۔ مجھے 10ستمبر 1965ء کا وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب میرے اس لاہور کی فضاؤں میں دو جنگی ہوائی جہاز آمنے سامنے تھے۔ دونوں ایک دوسرے کو مار گرانے کی فکر میں فائرنگ کرتے اور قلا بازیاں کھا کر اس سے بچنے کی کوشش کرتے تھے، دونوں جہازوں کے پائلٹوں کے جذبے میں بڑا فرق تھا، بھارتی پائلٹ اپنا لڑاکا طیارہ لے کر آیا تھا لیکن اسے ہمارے باخبر ہوا باز نے گھیر لیا تھا،بھارتی پائلٹ کی کوشش تھی کہ وہ کسی طرح جان چھڑا کرواپس بھاگ جائے لیکن ہمارا شاہین اسے موقع ہی نہیں دے رہا تھا، چند منٹ کی لڑائی ہی میں بھارتی جہاز کی دم سے دھواں نکلنا شروع ہو گیا اور وہ گرتا پڑتا اپنے ملک کی حدود میں گر کر تباہ ہو گیا۔
لاہور کی فضاؤں میں یہ ”ڈاگ فائٹ“ میرے تمام شہریوں نے کسی بھی خوف سے بالا تر سڑکوں اور چھتوں پر دیکھی اور پاکستان زند باد، پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے، ان زندہ دِلوں کے لئے یہ پتنگ کا روایتی پیچ تھا جو پاکستان کے حق میں گیا تاہم ہمارے بھائیوں کی یہی بے خوفی اور جنگی امور سے ناواقفیت کا نتیجہ یہ تھا کہ میرے موچی دروازے کا ایک نوجوان شہید ہو گیا، وہ بھی اپنے مکان کی چھت پر نظارہ کر رہا تھا کہ دونوں جہازوں کی مشین گنوں سے نکلتی ایک گولی بھٹک کر ادھر آ نکلی اور نوجوان کو جا لگی وہ اپنے جوش و جذبے کے ساتھ شہید ہو گیا۔
یادداشت کے خانے میں یہی نہیں، میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ ملک کے عوام بہت پُرجوش تھے اور وہ بے خوف ہو کر سڑکوں پر نکلتے اور اپنا اپنا کارروبار بھی کرتے تھے۔ بھارتی سورماؤں کی بدحواسی کا یہ عالم تھا کہ اسی روز اس کے طیاروں نے لاہور ریلوے سٹیشن پر حملہ کیا اور بم گرائے لیکن یہ نشانے سے بھٹک گئے اور ریلوے سٹیشن سے دور دو موریہ پل کے قریب مزار گجا پیر سے چند فٹ پیچھے ریلوے پٹڑی پر گرے اور ریلوے لائن کو نقصان پہنچا کر بھاگ گئے۔ ہمارے شہریوں نے بم دھماکے کے بعد چھپنے یا بھاگنے کی بجائے جاء حادثہ پر جا کر مزید نقصان کو روکنے کی کوشش کی ان کا جذبہ صادق تھا اگرچہ جنگی نقطہ نظر سے یہ درست نہیں تھا۔ بہرحال دشمن کوئی نقصان نہ پہنچا سکا اور طیارہ گنوا بیٹھا۔
لاہور تاریخی یادگاروں سے اٹا پڑا ہے۔ یہیں ایک شالامار باغ بھی ہے جو مغلیہ دور کی روایات کا امین ہے اس باغ سے تھوڑا دور اور پاکستان منٹ کے عقب میں رحمن پورہ ہے پاک فوج نے اس بستی کے باہر ایک مخصوص کھلی جگہ پر ایک بڑی دورمار توپ نصب کی، جسے رانی توپ کہا جاتا تھا، اس توپ سے چلایا جانے والا گولہ رحمان پورہ سے چل کر بی آر بی پار کر کے دشمن کی صفوں میں گرتا اور ان کو تتر بتر کر دیتا۔اس توپ کی بڑی دھوم تھی،اس بیٹری کے انچارج میجر اسماعیل تھے جوکہ بڑی مہارت سے گولے چلوا رہے تھے۔ اس سلسلے میں اللہ کی تائید کا ذکر مقصود ہے کہ ایک روز معلوم ہوا کہ گولوں میں کمی آ رہی ہے اور راولپنڈی سے جو ٹرین گولے اور دیگر ضروری اسلحہ لے کر آ رہی تھی اس میں تاخیر ہوگئی تھی، میجر صاحب نے حکام سے رابطہ کر کے بتایا تو اس توپ کے کچھ گولے(بم) جو معینہ مدت گزرنے کی وجہ سے محفوظ کر لئے گئے تھے وہ منگوا لئے گئے۔ رانی سے یہ چلائے گئے اور اللہ کی رحمت سے سب چل گئے اور ٹرین کی آمد تک گذارہ ہو گیا۔ اس سلسلے میں مزید عرض کروں کہ جو ٹرین ان گولوں سمیت دوسرا اسلحہ لے کر لاہور آ رہی تھی، دشمن کے طیارے نے اس پر حملہ کیا، ٹرین کالا شاہ کاکو کے علاقے سے گذر رہی تھی کہ بھارتی جہاز نے غوطہ لگا کر بم پھینکا لیکن بدحواس پائلٹ یہ بم کھیتوں میں گرا کر بھاگ گیا اور ٹرین بحفاظت مقررہ مقام پر پہنچ گئی اور رانی توپ کے گولوں سمیت دوسرا اسلحہ بھی ضرورت کے مقامات پر پہنچا دیا گیا۔
میں آج بھی ان دِنوں کو یاد کرتا ہوں تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے بہادر مجاہدوں کے لئے دُعائیں نکلتی ہیں کہ دشمن کو اِس قدر خوفزدہ اور بدحواس کر دیا گیا تھاکہ جمخانہ کلب میں 6ستمبر کی دوپہر لنچ اور مے نوشی کا اعلان کرنے والے کمانڈر اپنے نقصان کا حساب ہی کرتے رہ گئے،سترہ روزہ لڑائی کے بعد جب جنگ بندی ہوئی تو واہگہ سے جلو گاؤں تک سڑک کے دائیں بائیں تو بھارتی فوج تھی لیکن اس سے پرے سارا علاقہ ان کے قبضہ میں نہیں تھا۔ آج جہاں گھرکی ہسپتال ہے وہاں تک ہمارے فوجی جا کر آ جاتے تھے۔ تین بلوچ رجمنٹ کے میجر انور شاہ تو ایسے پُرجوش کمانڈر تھے کہ چھڑی جنگ کے دوران اپنے یونٹ کے چند جوانوں کو لے کر جلو گاؤں کے عقب سے حملہ کر کے بھارتیوں کو موت کے گھاٹ اتار آئے تھے۔ ان کو وائرلیس کے ذریعے بڑی مشکل سے واپس بلایا گیا تھا میں نے اس سترہ روزہ جنگ اور جنگ بندی کے بعد کے حالات و واقعات کی رپورٹنگ کی تو قوم اور مجاہدین کے جذبے کے باعث دن رات کا اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا اور دو تین گھنٹے کی نیند تازہ دم کر دیتی تھی۔ہمیں آج بھی اسی جذبے کی ضرورت ہے کہ حالات یہی تقاضہ کرتے ہیں۔ دُعا ہے کہ ہمارے سیاسی رہنماؤں اور قائدین کو اللہ سیدھا راستہ دکھائے اور یہ سب جو الگ الگ فوجی یکجہتی کی بات کرتے ہیں، سب کچھ بھلا کر قومی جذبے کے ساتھ متحد ہو جائیں۔

