پاکستان اور سکھ برادری کے رشتے محبت، امن اور مذہبی ورثے پر قائم ہیں:سردار رمیش سنگھ اروڑا

ٹورنٹو (اشرف خان لودھی سے) پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کہا ہے کہ پاکستان سکھ برادری کا اہم مذہبی و تاریخی مرکز ہے، سکھ یاتری بلاخوف پاکستان آئیں اور اپنے مذہبی ورثے کی زیارت کریں۔ پاکستان محبت، امن اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے، جبکہ پاکستان اور سکھ برادری کے تاریخی تعلقات کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے دورۂ کینیڈا کے دوران جنگ نیوز کینیڈا کے چیف ایڈیٹر اشرف خان لودھی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

گفتگو کے آغاز میں اشرف خان لودھی نے سردار رمیش سنگھ اروڑا کو ٹورنٹو آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ وہ پنجابی اور اردو زبان کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کی آمد پر خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ مختصر دورے کے دوران ٹورنٹو میں اپنی سنگت سے ملاقات کرکے انہیں کیسا محسوس ہوا، یہاں سے انہیں کیا پیغام ملا اور انہوں نے سکھ برادری کو کیا پیغام دیا۔

سردار رمیش سنگھ اروڑا نے جنگ نیوز کینیڈا اور اشرف خان لودھی کی محبت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کا دورہ بہت مختصر تھا، تاہم یہاں سکھ برادری سے ملاقات کرکے انہیں بہت خوشی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اونٹاریو گردوارہ کونسل اور اونٹاریو گردوارہ کمیٹی، دونوں بڑی تنظیموں نے انہیں بہت عزت اور محبت دی۔ انہوں نے دونوں تنظیموں کے گردواروں کا دورہ کیا، جہاں ہزاروں کی تعداد میں سنگت موجود ہوتی ہے اور بعض اوقات یہ تعداد لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رانا تنویر ایک عرصے سے ان کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ان کے کینیڈا آنے کا معاملہ بھی پہلے سے طے تھا۔ یہاں پہنچ کر انہوں نے سکھ سنگت سے ملاقاتیں کیں اور انہیں پاکستان کی خوبصورتی، محبت اور امن کا پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان محبت اور امن کو فروغ دینے پر یقین رکھتا ہے اور یہی پیغام وہ ہر جگہ پہنچاتے ہیں۔

سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کینیڈا میں پاکستانی ہائی کمیشن کے حکام کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ محمد سلیم اور دیگر سفارتی حکام نے بھی کھلے دل سے محبت اور خلوص کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے پاکستانی قونصل جنرل خلیل احمد باجوہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ سنگت سے بہت محبت کرتے ہیں اور ہمیشہ کھلے دل کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ انہوں نے التمش جنجوعہ کا بھی ذکر کیا جو ان کے ساتھ رہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز خلیل احمد باجوہ اور گردوارے سے وابستہ ایک شخصیت بھی ان کے ساتھ آئی تھیں اور پاکستان جانے کیلئے ویزا حاصل کرنے کے حوالے سے بات ہوئی۔ سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے سکھ سنگت کو پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ جلد از جلد ویزے حاصل کرے، پاکستان آئے اور اپنے مذہبی و تاریخی ورثے کی زیارت کرے۔

پنجاب کی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب میں سکھ مذہبی ورثے کی بحالی اور حفاظت کیلئے منصوبہ شروع کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ’’گردوارہ گود لینے‘‘ کا پروگرام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت گردواروں کی بحالی اور دیکھ بھال کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ سکھ برادری اپنے مذہبی ورثے کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا کا دورہ مجموعی طور پر بہت اچھا رہا۔ وہ کینیڈا کی حکومت، یہاں آباد سکھ برادری اور بالخصوص بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے شکر گزار ہیں کہ وہ بنیادی حقوق اور مذہبی آزادی کے معاملات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کینیڈا کی حکومت کی شخصیات سے ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی روبی سہوتا جی اور اقوندر سنگھ گاہیرسے بھی ملاقات ہوئی۔ ان کے مطابق پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات کے فروغ کیلئے باہمی رابطے اور عوامی میل جول بہت ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف منفی تاثر اور منفی بیانیہ پھیلانے والے عناصر موجود ہیں۔ انہوں نےاقوندر سنگھ گاہیر سے بھی اس معاملے پر بات کی اور کہا کہ پاکستان کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرنے سے سکھ برادری اور پاکستان کے درمیان تاریخی تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ پاکستان اور سکھ برادری کا رشتہ بہت اہم ہے اور اسے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ سکھ برادری کو پاکستان آنے سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان سکھوں کا دوسرانہیں پہلا گھر ہے اور یہاں ان کے مقدس مقامات اور تاریخی ورثے موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اقوندر سنگھ گاہیر نے بھی پاکستان جانے کی بات کی۔

سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کینیڈا میں پاکستانی کمیونٹی اور اپنے میزبانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خصوصی طور پر مسلم لیگ(ن) ٹورنٹو دفتر کی ٹیم کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاشا ،بلال چیمہ، امجدعلی،فیصل چٹھہ اور دیگر ساتھیوں نے بھرپور تعاون کیا۔ ان سب کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنی محبت اور خلوص کا اظہار کیا۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی پاکستان کا نام مزید روشن کریں گے اور دنیا میں ملک کا مثبت تشخص اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔