پاکستان کے ساتھ مل کر سعودی عسکری ضروریات کا جائزہ لیں گے:خاقان فیدان

انقرہ (رائٹرز+اناطولیہ ایجنسی) ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے کہا ہے کہ یمنی حوثیوں کے جاری حملوں کے باعث سعودی عرب کو کچھ عسکری ضروریات پیش آسکتی ہیں، جن کا ترکیہ پاکستان کے ساتھ مل کر مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت جائزہ لے گا۔

خاقان فیدان نے ترک نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر انتہائی سنگین حملے ہو رہے ہیں، ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ موجود ہے اور اس حوالے سے تینوں ممالک کے درمیان یکجہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو بالخصوص بعض تکنیکی نوعیت کی عسکری ضروریات ہوسکتی ہیں اور ترکیہ کو انہیں پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت اس معاملے پر پاکستان کے ساتھ بھی بات کی جائے گی۔ یہ معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے اگست 2026ء میں کیا تھا۔

خاقان فیدان نے کہا کہ سعودی عرب کو امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کا حصہ بنانا ناقابل قبول ہے، ریاض کی جنگ میں شامل ہونے کی خواہش نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یمن میں جنگ کے خاتمے کے لیے تمام فریقین تک تجاویز پہنچائی گئی ہیں، تاہم مذاکرات کے ذریعے لڑائی ختم کرنے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کا ان تجاویز کو قبول کرنا ضروری ہے۔

ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کے معاشی اثرات اب ناقابل برداشت حد تک پہنچ چکے ہیں اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔

خاقان فیدان نے روس اور یوکرین کے حوالے سے کہا کہ ترکیہ نے دونوں ممالک کو بحیرہ اسود میں شہری جہازوں پر حملے روکنے کی تجاویز بھی بھیجی ہیں۔ ان کے مطابق دونوں جانب سے جوابات موصول ہوئے ہیں، تاہم بعض مطالبات اور مؤقف میں اب بھی نمایاں اختلافات موجود ہیں۔