ڈیرہ اسماعیل خان (نمائندہ خصوصی+نامہ نگار) درازندہ میں پولیس اور کسٹمز کی مشترکہ چیک پوسٹ کے قریب خودکش دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور 35 سے زائد زخمی ہوگئے۔ذرائع کے مطابق ڈی آئی خان، کوئٹہ روڈ پر انسداد اسمگلنگ چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی گئی، جس کے نتیجے میں شدید دھماکا ہوا۔
دھماکے میں 2 سال کے بچے اور 2 خواتین سمیت 12 افراد شہید ہوئے، جبکہ کسٹمز، پولیس اہلکاروں اور شہریوں سمیت 35 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، جس کے باعث شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
آر پی او غلام مبشر میکن کے مطابق شہداء میں ایک کسٹمز اہلکار بھی شامل ہے۔حکام کے مطابق چیک پوسٹ پر حملہ سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیرہ اسماعیل خان میں چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم کے محافظوں کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیں گے، حکومت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ڈیرہ اسماعیل خان میں چیک پوسٹ پر خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
محسن نقوی نے شہداء کے لواحقین سے ہمدردی اور اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ خوارج کی بزدلانہ کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف قوم کا عزم کمزور نہیں کرسکتیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے، اس جنگ میں زندگی کے ہر طبقے نے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور شہداء کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

