واشنگٹن(رائٹرز، کانگریشنل ریسرچ سروس) ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکا کے کم از کم 81 فوجی طیارے، ہیلی کاپٹر اور بغیر پائلٹ طیارے تباہ یا متاثر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
کانگریشنل ریسرچ سروس کی 5 اکتوبر کو جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران 81 طیارے یا تو تباہ ہوئے یا انہیں نقصان پہنچا۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تعداد صرف تباہ ہونے والے طیاروں کی نہیں بلکہ نقصان پہنچنے والے طیارے بھی اس میں شامل ہیں اور بعض متاثرہ طیارے دوبارہ قابلِ استعمال بھی ہوچکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق متاثر یا تباہ ہونے والے طیاروں میں 45 ایم کیو-9 ریپر ڈرون، 12 ایف-15 ای طیارے، ایک ایف-35 اے، دو اے-10 طیارے، 7 کے سی-135 ٹینکر، ایک ای-3 سینٹری اور مختلف ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مئی میں کانگریشنل ریسرچ سروس نے امریکی طیاروں کے نقصانات کی تعداد 42 بتائی تھی، جو اب بڑھ کر 81 ہوگئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حقیقی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے۔
عراقچی نے امریکی سینٹرل کمانڈ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ ان فوجی اڈوں کے معائنے کے لیے کسی موجودہ امریکی سینیٹر کو اجازت نہیں دے رہی جنہیں امریکی حکام محفوظ اور معمول کے مطابق قرار دیتے ہیں۔
کانگریشنل ریسرچ سروس نے تاہم واضح کیا ہے کہ 81 طیاروں کی تعداد میں مختلف نوعیت کے واقعات شامل ہیں اور مزید معلومات سامنے آنے پر یہ اعداد و شمار تبدیل ہوسکتے ہیں۔

