ثابت کریں ہم غلط ہیں تو معافی مانگیں گے: جنید اکبر

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جنید اکبر نے کہا ہے کہ قیادت کے ساتھ بیٹھ کر بات کرلیں، ثابت کریں کہ ہم غلط ہیں تو معافی مانگیں گے اور آپ کے ساتھ کھڑے ہوجائیں گے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جنید اکبر نے کہا کہ بندوق کے زور پر نہ ہم مذاکرات کریں گے اور نہ مانیں گے، زبردستی کوئی ہمیں مذاکرات کیلئے مجبور نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ جب مولانا فضل الرحمان عمرے پر تھے تو ہماری قیادت سے رابطہ ہوا تھا، مولانا کی خواہش تھی کہ لانگ مارچ کی تاریخ آگے لے کر جائیں۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے مسئلے کو بھی متنازع بنایا گیا، اس پر تو مذاکرات کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق فاٹا کے علاقے کے عوام بھی ہمارے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہیں، پی ٹی آئی کے ساتھ مسئلہ ہے تو صوبے کی دیگر سیاسی قیادت سے بیٹھ کر بات کریں۔ صوبے کی دیگر قیادت بھی جو فیصلہ کرے گی، وعدہ ہے صوبائی حکومت نافذ کرے گی۔

جنید اکبر کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان، سراج الحق، ایمل ولی، شیرپاؤ اور دیگر قیادت کے ساتھ بیٹھ کر بات کرلیں، ثابت کریں کہ ہم غلط ہیں تو معافی مانگیں گے اور آپ کے ساتھ کھڑے ہوجائیں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم بھی چاہتے ہیں کہ صوبے میں ترقی ہو، یہاں کے نوجوان ترقی میں کردار ادا کریں۔ ہمیں دشمن اور دہشت گردوں کا ساتھی سمجھنا غیرمناسب بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی کو صوبائی معاملات نہیں بلکہ سیاسی معاملات کا مینڈیٹ دیا گیا تھا۔ آپ کا مسئلہ پی ٹی آئی کے ساتھ ہے تو اس کو ایک طرف کریں اور صوبے کی دیگر قیادت سے بات کرلیں۔

جنید اکبر کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہونا چاہیے، انٹیلی جنس بنیاد پر ہونا چاہیے۔ خیبر پختونخوا کے عوام جو دہشت گردی بھگت رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کا بیانیہ ٹھیک ہے تو پھر آپ ہماری بھی مانیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں حکومت ہماری ہے اور تبادلے و تقرریاں کوئی اور کرتا ہے۔ ہم تو کہتے ہیں کہ ہنگامی حالت بھی لگا کر دیکھ لیں۔ جو ہنگامی حالت لگاتا ہے وہ بھڑکیں نہیں مارتا، ان کے وزراء روز چھ، چھ پریس کانفرنسیں کرتے ہیں۔ دو تین ہفتوں سے سن رہے ہیں کہ ہنگامی حالت لگ رہی ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہم اسے سنجیدہ لیتے ہی نہیں، یہ ہمیں ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں، اصل میں یہ خود ڈرے ہوئے ہیں۔ اگر ہم اپنے ووٹ کا تحفظ کرسکتے ہیں تو اپنی حکومت کا بھی کرلیں گے۔

جنید اکبر کا کہنا تھا کہ ہم جو کر رہے ہیں اس سے مطمئن ہیں اور ہم اس میں کامیاب ہیں۔ پی ٹی آئی اگر تھکتی تو چار سال میں تھک جاتی، ہمارے کارکن تھکنے کا نام بھی نہیں لیتے۔ ہم اپنی مرضی سے آئیں گے، ہمیں پتا ہے کب، کہاں اور کس راستے سے آنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی ہماری میٹنگ ہوئی کہ ہزارہ، صوابی یا نوشہرہ کی طرف سے آئیں۔ پہلے جو دو مارچ کیے، اس میں جو غلطیاں اور خامیاں تھیں، ان کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہم مشاورت اور منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔